EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

جناح صاحب صوبائی خودمختاری کے سب سے بڑے علمبردار تھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بدقسمتی سے پاکستان میں صوبائی خودمختاری اور قومیتوں کے تحفظ کے مطالبے کو ہمیشہ سے غداری سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے مگر غداری کے فتوے بانٹنے والے یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ تقسیم ہند سے پہلے جناح صاحب خود صوبائی خودمختاری کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ صوبائی خودمختاری مسلم لیگ کے بنیادی مطالبوں میں سے تھا۔ 1919 کے مانٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات سے لے کر کیبنٹ مشن پلان 1946 کی منظوری تک مسلم لیگ اور جناح صاحب نے انگریزوں کی ہر اس آئینی اصلاحات کی مخالفت کی جس میں صوبائی خودمختاری دوسرے لفظوں میں مسلمانوں کی حقوق کی ضمانت نہیں دی گئی تھی۔ یعنی صوبائی خودمختاری کی منظوری قائد اعظم اور مسلم لیگ کا بنیادی مطالبہ تھا۔ اگر تحریک پاکستان کو صوبائی خودمختاری کی جدوجہد قرار دی جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔

تاریخی طور پر صوبائی خودمختاری کا مسئلہ باچاخان جی ایم سید اور شیخ مجیب الرحمٰن کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ جناح صاحب کا بھی اس میں بنیادی کردار رہا ہے۔ مورخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم یعنی پاکستان کا مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب کانگریس اور مسلم لیگ صوبائی خودمختاری کے مسئلے پر متفق نہیں ہو سکے کانگریس ایک مضبوط مرکز کی حامی تھی چونکہ ہندو اکثریت میں تھے اس لئے مضبوط مرکز سے ہندوؤں کے مفادات کا تحفظ ہو سکتا تھا جبکہ مسلم لیگ ہمیشہ اکثریتی مسلمان اقلیت صوبوں کے تحفظ کا نعرہ لگاتی تھی۔ چونکہ مسلمان اقلیت میں تھے اور ہندو اکثریت میں اس لیے ان کے حقوق کا تحفظ صوبائی خودمختاری سے ہی ممکن تھا۔

صوبائی خودمختاری کے حصول کے لیے جناح صاحب کی جدوجہد کا جائزہ لینے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تقسیم ہند سے پہلے جناح صاحب ہمیشہ صوبائی خودمختاری کے زبردست حامی رہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ پاکستان بننے کے بعد صوبائی خودمختاری کے حوالے سے انہوں نے خود اپنی ذہنیت تبدیل کر لی جب انہوں نے صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب اور سندھ میں ایوب کھوڑو کی اکثریتی حکومتیں ہٹائی۔ اور ان صوبوں میں مسلم لیگ کی حکومتیں بنائی۔

مسلم لیگ اور جناح صاحب نے مانٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات کا بھی اسی بنیاد پر مخالفت کی کیونکہ ان اصلاحات میں صوبائی حکومتوں کو اختیارات منتقل کرنے کے بجائے صوبائی گورنروں کو زیادہ اختیارات تفویض کیے گئے جو کہ مرکزی حکومت کے دائرہ اختیار میں تھے۔

1920 میں ہوم رول لیگ بنی جو کہ ہندوستان کو ڈومنین کی حیثیت دلوانا چاہتی تھی جناح صاحب اس لیگ کے سرگرم رکن تھے اور صوبائی و قومی خودمختاری کا حصول اس تنظیم کا بنیادی مقصد تھا

1928 میں نہرو رپورٹ شائع ہوئی جس میں جدا گانہ انتخابات ختم کرنے کے ساتھ اسمبلیوں میں مسلمانوں کا حصہ ایک تہائی سے کم کر کے ایک چوتھائی کرنے اور ایک مضبوط مرکز کی سفارش کی گئی تو جناح صاحب نے مسلمانوں کا کوٹہ کم کرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط مرکز کی سفارش پر نہرو رپورٹ کی مخالفت کی اور جواب میں اپنے مشہور زمانہ چودہ نکات پیش کیے

چودہ نکات میں چار سے پانچ نکات صوبائی خودمختاری سے متعلق تھے۔ جس میں سندھ کو صوبائی حیثیت دینے، بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد میں اصلاحات لانے، صوبوں کی مرضی کے بغیر اصلاحات کی مخالفت، پنجاب اور بنگال کی آبادی اور رقبے میں رد و بدل کی مخالفت شامل تھے۔ غرض جناح صاحب کے چودہ نکات کا محور صوبائی خودمختاری کا حصول تھا۔

مسلم لیگ کی پوری جدوجہد میں قرار داد لاہور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے پاکستان بننے کے بعد تب سے اب تک اس قرارداد کو سرکاری و ریاستی سطح پر بہت اچھالا جاتا ہے کیونکہ اس قرارداد کے ذریعے مسلم لیگ نے باضابطہ طور پرایک الگ ریاست قائم کرنے کا اپنا لائحہ عمل طے کیا تھا اس قرارداد کے ذریعے مسلم لیگ نے ایک طرف تو مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کا مطالبہ کیا تھا دوسری طرف اس یونین میں شامل یونٹوں کو صوبائی خود مختاری دینے کی ضمانت شامل تھی

قرارداد کا متن کچھ اس طرح ہے

”کوئی بھی دستوری خاکہ مسلمانوں کے لیے اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوگا جب تک ہندوستان کے جغرافیائی اعتبار سے متصل و ملحق یونٹوں پر مشتمل علاقوں کی حد بندی نہ کی جائے اور ضروری علاقائی رد و بدل نہ کیا جائے اور یہ کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے انھیں خودمختار ریاستیں قرار دیا جائے۔ جس میں ملحقہ یونٹ خودمختار اور مقتدر ہوں اور یہ کہ ان یونٹوں کی اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے ان کے صلاح و مشورے سے دستور میں مناسب و موثر اور واضح انتظامات رکھے جائیں اور ہندوستان کے جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ان کے اور دیگر اقلیتوں کے صلاح مشورے سے ان کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کی ضمانت دی جائے“

جیسے پہلے عرض کیا گو کہ اس قرارداد کو سرکاری سطح پر بہت اچھالا جاتا ہے اس دن یعنی 23 مارچ کو ہر سال سرکاری سطح پر چھٹی ہوتی ہے اور اس دن کی عظمت کی مناسبت سے ملک بھر میں تقریبات بھی منعقد ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں فوجی پریڈ بھی ہوتی ہے اور دشمنوں کو مرعوب کرنے کے لئے میزائلوں اور ٹینکوں کا درشن بھی کرایا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے آج تک اس قرارداد پر من و عن عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے جس کا ملک کو بہت نقصان بھی ہوا پچیس سال کے اندر اندر ملک تقسیم ہوا اور دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اکثریت نے اقلیت سے آزادی حاصل کی یعنی بنگلہ دیش کے بننے اور پاکستان کے تقسیم ہونے کے پیچھے بنیادی وجہ صوبائی خودمختاری کا تسلیم نہ ہونا تھا شروع میں بنگالیوں نے جو مطالبات پیش کیے تھے ان میں بنگالی زبان کو قومی زبان قرار دینے، مشرقی اور مغربی پاکستان میں معاشی برابری، وسائل کی منصفانہ تقسیم، سرکاری محکموں میں بنگالیوں کی بھرتی یہ سارے مطالبات جائز اور صوبائی خودمختاری کے زمرے میں آتے تھے مگر اہل اختیار نے یہ مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تو بنگالیوں میں مرکز کے خلاف نفرت بڑھتی گئی اور بالآخر صوبائی خودمختاری کا مطالبہ قومی خودمختاری کے حصول میں بدل گیا۔

سندھو دیش کا نظریہ بھی سندھیوں کے جائز حقوق نہ ملنے کی وجہ سے معرض وجود میں آیا تھا۔ جب سندھ میں مہاجرین کی آبادکاری بڑھتی اور ان مہاجرین کو بھرپور حکومتی حمایت حاصل تھی گئی تو زندگی کے ہر شعبے میں مہاجرین کا اثر رسوخ بڑھتا گیا اور جب ایوب کھوڑو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تو جی ایم سید اور دوسرے سندھی قوم پرستوں نے شروع میں سندھ اور سندھیوں کے لئے آئینی حقوق کا مطالبہ شروع کر دیا جب ان مطالبات پر دھیان نہیں دیا گیا تو پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والے اور سندھ اسمبلی میں پاکستان کے لیے قرارداد پیش کرنے والے جی ایم سید اور دوسرے قوم پرستوں نے سندھو دیش کا نعرہ لگایا اور آہستہ آہستہ یہ ایک منظم تحریک میں بدل گیا۔

البتہ بلوچستان کا معاملہ کچھ الگ تھا جہاں پر خوانین قلات اور ان کے ساتھیوں کا شروع سے پاکستان کے ساتھ الحاق پر تحفظات تھے جبکہ دوسری طرف پشتون قوم پرست رہنما عبد الصمد خان اچکزئی، غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل، میر گل خان نصیر اور شروع میں اکبر بگٹی بھی صوبائی خودمختاری، ساحل اور وسائل پر اختیار حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے تھے ان کا کوئی مطالبہ آئین سے ماورا نہیں تھا۔

اسی طرح تقسیم کے وقت باچاخان کی تنظیم تو الگ ریاست کے لیے جدوجہد کر رہی تھی جب ریفرنڈم ناکام ہوا تو انہوں نے اپنی تحریک کو آئینی شکل دی۔ ولی خان کی پوری زندگی اور جدوجہد آئین و قانون کے دائرے کے اندر رہی۔ مگر ارباب اختیار نے کبھی ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا الٹا ان رہنماؤں کو جو آئین و قانون کی بالادستی اور محکوم قوموں کی حقوق کے لیے پرامن سیاسی جد و جہد کرتے تھے ان کو غداری اور وطن پروشی کے طعنوں سے نوازا جو کہ سراسر نا انصافی اور ملک دشمنی ہے۔ صوبوں کے ساتھ نا انصافی اور مضبوط مرکز کی ذہنیت نے ایک مرتبہ تو ملک کو تقسیم کر دیا۔

2010 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے دوسری جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر صوبوں کے تحفظات ختم کرنے، صوبوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے، مرکز اور صوبوں کے درمیان معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم عملی بنانے کے لیے اٹھارہویں ترمیم منظور کی۔ اس ترمیم کی رو سے مرکز سے ستاون وزارتیں صوبوں کو منتقل ہوئے۔ پہلی دفعہ منصفانہ این ایف سی ایوارڈ کا اجراء ہوا۔ بدقسمتی سے بعد کی حکومتوں نے اٹھارہویں ترمیم پر من و عن عمل درآمد نہیں کیا۔ اگر اٹھارہویں ترمیم پر عملدرآمد ہوتا تو اس سے بلاشبہ صوبوں کے بہت سارے تحفظات ختم ہوسکتے تھے۔ مگر ارباب اختیار کو صوبوں اور دوسری قومیتوں کے مفادات سے دلچسپی نہیں ہے۔ اس لئے ملک میں افراتفری کی کیفیت ہے اور صوبوں میں مرکز کے خلاف نفرت میں بڑھتی جا رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے