EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پاکستانیت کا مقدمہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاست جب اسلام کا حق بجا لانے پر استوار ہو تو یہ اسلامی سیاست کہلائے گی، لیکن جب بظاہر اسلام کا کلمۂ حق سیاسی مقبولیت کے حصول کا آلہ بنا کر برتا جائے اور بہ باطن نفس ذات کی جاہ پسندی ٹھنی ہوئی ہو تو ایسی ذومعنویت اپنی جگہ جس فساد فی الارض کا باعث بنے گی، وہ بلحاظ معنی سیاسی اسلام کہلائے گا۔

کسی بھی سیاسی بیانیے یا سفارتی دعوے کو اگر اسلامی سیاست اور سیاسی اسلام کے پیمانے سے پرکھا جائے تو دونوں کے مابین فرق طے کرنے کی ہد فاصل کا مقام اسی طرح کا ہوگا، جس طرح کا مقام کسی ’نظریۂ اسلام‘ کی ذو معنویت اور حق اسلام کی حتمی معنویت کے مابین فرق طے ہونے سے نکلے گا۔ پاکستانیت کا مقدمہ بھی دراصل یہی ہے کہ اس کے لیے مجوزہ دعوے کی بنیاد ’اسلامی سیاست۔ بنام۔ سیاسی اسلام‘ کا عنوان ہوگی اور جس کے نتیجے میں کسی عدالت کا فیصلہ مطلوب ہو گا کہ آیا حقیقی اسلام کو نظریۂ اسلام کے معنوں میں برتنا برحق ہے یا باطل؟

پاکستان اور اس کی پاکستانیت کے حوالے سے جو اساسی اور اہم ترین سوال کسی عدالتی سماعت کے دوران پوچھا جائے گا وہ یہ ہوگا کہ تقسیم ہند کا فیصلہ تقسیم اسلام کا موجب بن کر بروئے کار ہوا، یا تقسیم مسلمانان ہند کا باعث بن کر منتج ہوا؟ اگر جواب تقسیم اسلام کا موجب ہونے میں نکلے، پھر تو واقعی مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا احمد رضا خان بریلوی جیسے سب علماء اور دیگر لیگی و پاکستانی بننے والے مسلمانوں کا اسلام نظریۂ اسلام سے ہی منسوب ہونا درست قرار پائے گا، اور، اس سے پرے مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی جیسے علماء اور دیگر کانگریسی و بھارتی بننے والے مسلمانوں کے حصے میں جو اسلام باقی رہ جائے گا، وہ کسی دوسرے نظریۂ اسلام کی معنویت سے منسوب ہونا درست قرار پائے گا۔

(چہ بوالعجبی است؟ ) اس کے برعکس اگر جواب یہ نکلے کہ تقسیم ہند کے فیصلے سے اسلام تقسیم نہیں ہوا، بلکہ اس کی بجائے مسلمان تقسیم ہو کر بھارتی اور پاکستانی خانوں میں غیر مسلم قومیت (متحدہ قومیت ) اور مسلم قومیت کا حصہ بن گئے، تو لامحالہ تقسیم ہند کا اساسی پیمانہ ’دو قومی تقسیم‘ سے منسوب ہونا ہی درست قرار پائے گا۔ تاہم یہ مقدمہ کوئی غیر مسلم کسی غیر ملکی عدالت میں دائر کر ڈالے تو پاکستان کا نظریۂ اسلام وہاں فیٹف جیسی صورتحال سے دوچار ہو کے رہ جائے گا۔

دنیائے انسانیت کی تاریخ میں اسلامی سیاست کا ابتدائی نمونۂ عمل اس وقت وجود میں آیا، جب انسانیت اپنے دور تولد، دور بچپن اور لڑکپن سے نکل کر آگے اپنے دور بلوغت سے ہمکنار ہوئی اور اہل زمین کے لیے غیب سے اسلام کے مکمل ضابطۂ حیات (دین) ہونے کا فرمان نازل ہو گیا اور تب خلافت ارضی کا پہلا اور جمہوری چارٹر ’میثاق مدینہ‘ کی صورت میں ’مسلم۔ غیر مسلم‘ دو قومی آفاقیت کے نصب العین سے روشناس کرایا گیا، اور بعد ازاں جس کی تقلید میں جدید دنیا کے سامنے پھر قائد اعظم محمد علی جناح کے ذریعے ’میثاق لکھنؤ‘ کے جمہوری چارٹر سے مشروط ہوا۔

اس چارٹر کی رو سے جناح کی اولین ترجیح (فرسٹ بیسٹ) دوقومی ہند کا حصول تھی، تقسیم ہند دوسری ترجیح (سیکنڈ بیسٹ) تھی کہ جداگانہ مسلم قومیت کا دستوری حق نہ چلنے دیا گیا، تو علیحدہ وطن کا آپشن کھلا رکھا مل جائے، جو ہجرت مدینہ کی تقلید ثابت ہو کر ’ہجرت پاکستان‘ کی منزل بنے۔ حصول پاکستان کا مشن اپنی جگہ اور مدینہ کی اسلامی سیاست کی رو سے، کسی ’نظریۂ پاکستان‘ سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتا۔ نظریۂ پاکستان کی اساس چونکہ نظریۂ اسلام پر استوار ہے اس لیے نظریۂ پاکستان خود بخود سیاسی اسلام کے من مانے معنوں کی ترجمانی تو ضرور کرتا ہے جبکہ میثاق مدینہ پر استوار اسلامی سیاست کی ترجمانی کے لیے اس وقت تک پورا نہیں اترتا، جب تک حصول پاکستان کا مشن ’میثاق پاکستان‘ کے عالمی اور قانونی دعوے سے ادا نہ کیا جائے۔

قیام پاکستان کے بعد پاکستانیت کا ہر مقدمہ اگر بھارت کے مقابلے میں ’ریکوڈک‘ ہو جانے کی طرح بھگتنا پڑ رہا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نظریۂ پاکستان از خود یہ تصدیق کر اٹھتا ہے کہ جونا گڑھ، حیدرآباد، مشرقی پنجاب، جموں و کشمیر، مشرقی پاکستان اور خود بھارت کے اندر مسلم مادر وطن کے بقیہ حصے سے ہم نے اپنے نظریۂ اسلام کے مصداق کلی دستبرداری اختیار کر رکھی ہے جبکہ 14 جون 1947 کی کانگریسی اور ہندو مہا سبھائی قراردادوں میں ’اکھنڈ بھارت‘ کی جو لگن اکسا لی گئی تھی، اس کا نصب العین یہ ہے کہ ”جب تک علیحدہ ہونے والے علاقے واپس لے کر دوبارہ یونین آف انڈیا کے اندر ضم نہیں کر لیے جاتے، اس وقت تک امن کبھی اس خطے میں نہیں آ پائے گا۔

“ (شہاب نامہ) سیاسی اسلام، مدینہ ریاست کی تقلید کا جتنا حوالہ پاکستان سے جوڑتا پھرے، وہ دنیا کے لئے اس وقت تک بے معنی ہے جب تک مدینہ کے ساتھ مکہ کے مادر وطن کی جڑت کا کوئی قصد سامنے نہ لایا جائے اور یہ تبھی ممکن ہے جب پاکستانیت کا مقدمہ میثاق پاکستان کے دعوے پر دائر ہونا سیکھا جائے نہ کہ نظریۂ پاکستان پر مبنی علیحدگی پسندی کے برتے پر! پاکستانیت کے مقدمے کی سماعت یہ پوچھے بغیر پھر بھی ادھوری اور باقی رہے گی کہ بھارت کے زیر قبضہ یا زیراثر جدا کردہ علاقے اگر مسلمانوں کا مادر وطن ہیں تو اسے ثابت کرنے کا جواز کیا ہے، اور اگر واقعی ایسا کوئی جواز ثابت بھی ہو جاتا ہے تو اس کے حصول کا حل عدالت کس طرح منوانے کا فیصلہ دے سکتی ہے؟

اس کا جواب پہلے تو یہ ہے کہ انگریزوں نے جس وقت ہندوستان پر قبضہ کیا تو اقتدار مسلمانوں کے پاس تھا۔ مسلمان حکمران تھے تو ہندو ان کی آبادی تھے۔ قوم ریاست پر کلی یا جزوی قوت اقتدار کی استعداد سے جانی جاتی ہے۔ تحریک آزادیٔ ہند کے دوران پنڈت جواہر لعل نہرو کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ ”ہندوستان میں اس وقت صرف دو قومیں ہیں، ایک برسراقتدار گورنمنٹ اور دوسری کانگریس“ خالد بن سعید۔ پاکستان۔ دی فارمیٹو فیز ’۔ ص۔ 83

اس صورت میں ہندوستان بیک وقت دو قوموں کا ملک قابل قبول تھا، تو انگریزوں کے جانے کے بعد کانگریسی قیادت کو ہندو۔ مسلم دو قومی ہند قائم رکھا جانا کیوں قابل قبول نہ ٹھہرا، جب کہ سردار ولبھ بھائی پاٹیل کا یہ اعتراف بیٹن پلان کے جواز میں بھی باور کرایا گیا تھا کہ ’خواہ ہمیں پسند ہو یا ناپسند ہو، ہندوستان دو قوموں (مسلم۔ ہندو) کا ( وطن ) ہے (آزاد۔‘ انڈیا ونز فریڈم ’) اور بعد ازاں آزادی و تقسیم ہند کا جو برطانوی قانون منظور ہوا، اس کی رو سے بھی‘ دو آزاد اور خود مختار قومی ’ریاستوں کے ہونے کی توثیق کی گئی۔

14 جون 1947 کی کانگریسی و ہندو مہاسبھائی قراردادیں 3 جون 1947 کے میثاق تقسیم ہند کے پلان کی بھی صریح خلاف ورزی کا جرم ہے۔ اس وقت سے بھارت پر یہ جرم عائد ہوتا ہے، جس کا ازالہ پاکستان کو ہونے والے نقصانات سے کیا جائے۔ بھارت جن جن علاقوں میں ووٹوں سے جیت کر کانگریس کو ملا، اس میں کانگریسی مسلمانوں کا ووٹ بھی شمار ہوا۔ اس لحاظ سے بھی اور مسلم قومیت کے لحاظ سے بھی بھارت کے اندر مسلم مادر وطن کا حصہ استحقاقاً موجود اور باقی ہے، جس کے مصداق‘ اکھنڈ بھارت ’کے خلاف ڈکری جاری کی جائے، کہ بھارت جداگانہ مسلم قومیت کا حق تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ دو قومی الحاق کا میثاق اسی طرح طے کر لے، جس طرح میثاق لکھنؤ اور کابینہ مشن پلان کی منظوری میں مشروط ہونا تاریخی طور پر بھارت پابند ہے۔

یہ ہے پاکستانیت کا اصل مقدمہ جو بحوالہ اسلامی سیاست۔ بمقابلہ۔ سیاسی اسلام دائر ہونا درکار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے