نیب کا خاتمہ ضروری ہے


حکومت اور نیب کی نیت پر پہلے ہی کسی کو اعتبار نہیں تھا لیکن گزشتہ دنوں عدلیہ کی جانب سے سامنے آئے فیصلوں نے ملک میں جاری احتساب کی بالکل ہی قلعی کھول دی ہے۔ خواجہ آصف، احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کی ضمانتوں کے فیصلے میں اعلی عدالتیں واضح طور پر کہہ چکی کہ ان کیسز میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ اس سے قبل گزشتہ سال سپریم کورٹ نے نون لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کو لاہور کی نجی ہاؤسنگ اسکیم پیراگون سٹی میں مبینہ گھپلوں کے کیس میں ضمانت دیتے ہوئے لکھا تھا کہ نیب سیاستدانوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے اور سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کرنے کے لیے آلے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اس کیس میں نیب کی مداخلت پر بڑے سوالات ہیں اور ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس پر نیب کا کیس بنتا ہو۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں اس کیس کو انسانیت کی تذلیل کی بدترین مثال قرار دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ نیب نہ تو ہاؤسنگ اسکیم سے خواجہ برادران کا تعلق ثابت کر سکا اور نہ ہی یہ واضح ہو سکا کہ نیب نے اس کیس میں مداخلت کیوں کی؟

کئی مرتبہ عرض کیا جا چکا اور اب تو عدالتیں بھی بارہا قرار دے چکیں کہ نیب سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر قائم کیا جانے والا ادارہ ہے۔ اپنے قیام سے اب تک یہ ہمیشہ حکومت وقت کے دباؤ میں رہتا اور اس کے ہاتھوں استعمال ہوتا آیا ہے۔ یہ ادارہ ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے سیاستدانوں کو بلیک میل کرنے کے لیے قائم کیا تھا اور انہوں نے اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے اس ادارے کو موثر طریقے سے استعمال بھی کیا۔ بلیک میلنگ اور سیاسی مقدمات کی بدولت سیاست دانوں کی وفاداریاں تبدیل کر کے پی ایم ایل (این) سے پی ایم ایل (کیو) اور پی پی پی سے پیٹریاٹ نامی گروپ تخلیق کیے۔

اس ادارے کی بنیاد ہی بد نیتی اور ایک خاص ایجنڈے پر مبنی ہے۔ سیاست اور نظام مملکت سے کرپشن کا خاتمہ اس کے مقاصد میں کبھی شامل نہیں رہا۔ دنیا بھر کے جوڈیشل سسٹمز میں ملزمان کو اس وقت تک تحفظ حاصل ہوتا ہے جب تک ان کا جرم ثابت نہ ہو جائے لیکن نیب کا قانون عجیب ہے کہ جب جی چاہے کسی پر بھی الزام لگا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور مہینوں تک کوئی داد رسی نہیں ہو سکتی۔

بارہا ثابت ہو چکا کہ احتساب سے زیادہ مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانا نیب کے قیام کا مقصد ہے۔ کوئی بتا سکتا ہے جب سے یہ ادارہ قائم ہوا اس کے حصہ میں کیا کامیابی آئی؟ حالانکہ نیب کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں وہ جب چاہے کسی کو بھی گرفتار کر کے مہینوں تک حراست میں رکھ سکتا ہے اس کے باوجود ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیوں نہیں ہو سکا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیب اک خاص دائرے تک محدود ہے۔ ہمیشہ اس کے پلیٹ فارم سے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی تضحیک ہی نظر آتی ہے۔

اس میں بھی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ٹرائل کی زد میں حکمران جماعت یا اس کے منظور نظر افراد نہ ہوں۔ نیب ہر روز کوئی نئی گرفتاری کرتا ہے، اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر ریمانڈ بھی لے لیا جاتا ہے اور زور و شور سے میڈیا ٹرائل بھی ہوتا ہے۔ لیکن ملزم کی شہرت خراب کرنے کے بعد کئی ماہ حراست میں رکھ کر بالآخر خاموشی سے رہا کر دیا جاتا ہے۔ کچھ بتایا نہیں جاتا کہ ملزم سے کیا ریکوری ہوئی اور اگر نہیں ہوئی تو اس کی وجہ کیا ہے؟

ملزم کی شہرت کو اس تمام عرصے میں جو نقصان پہنچتا ہے اور الزام ثابت کرنے میں ناکامی پر ادارے کی ساکھ کو ہونے والے نقصان کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کرتا۔ نیب قوانین کے غیر جمہوری اور ظالمانہ ہونے کا اس بڑا کیا ثبوت ہو گا کہ محض شک کی بنیاد پر ہی جس شخص کو جب چاہے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ آج تک کتنے معززین کی اس وجہ سے شہرت داغدار ہوئی۔ بہت سے لوگ اس رویے سے ذہنی امراض کا شکار ہوئے اور جان سے ہی چلے گئے۔ یہاں تک کہ بوڑھے اساتذہ بھی نیب کے ہاتھوں تضحیک و رسوائی کا سامنا کر چکے ہیں۔

یہ بات بھی تسلیم کرنے کی ہے کہ نیب ہی نہیں اپنی ذلت و رسوائی کے سیاستدان خود بھی ذمہ دار ہیں۔ نیب کے ہاتھوں زیادہ پریشان ہونے والی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جسے میثاق جمہوریت کہا جاتا ہے اس معاہدے میں اس وقت کی فوجی حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی آئینی ترامیم کے خاتمے، ریاستی اداروں کی حیثیت، آئندہ سیاسی جماعتوں کے غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے کے عزم کے علاوہ احتساب اور نیب کے کردار کے متعلق بھی غور و فکر کیا گیا تھا۔

چارٹر آف ڈیمو کریسی کی سفارشات میں یہ بھی شامل تھا کہ سیاسی بنیادوں پر کام کرنے والے نیب کی جگہ آزادانہ احتساب کمیشن بنایا جائے گا جس کا سربراہ وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے مشورے سے مقرر ہوا کرے گا۔ بعد ازاں مذکورہ دونوں جماعتیں دس سال تک باری باری اقتدار میں رہیں مگر انہوں نے نیب آرڈیننس میں ترمیم کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ کوئی شک نہیں کہ یہ غلطی دانستہ تھی تاکہ نیب کے طاقتور اور ظالمانہ قانون کو اپنے مخالفین کی مشکیں کسنے کے لیے برقرار رکھا جا سکے جس کا خمیازہ نہ صرف دونوں جماعتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے بلکہ نیب کی وجہ سے ملک جمہوری و معاشی عمل کو بھی بے تحاشا نقصان پہنچا۔

اعلی عدالتوں کے متذکرہ فیصلوں کے بعد نیب کے قوانین کو ختم یا بہتر کرنا ازحد ضروری ہے۔ اب تو وزیر خزانہ بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ نیب قوانین معاشی بحالی میں رکاوٹ ہیں اور انہیں بدلنا بے حد ضروری ہے۔ نیب کے نئے قوانین میں ملزم کی گرفتاری کا حکم جاری کرنے کا چیئرمین نیب کا اختیار کم سے کم ہونا چاہیے اور احتساب عدالتوں کے پاس ضمانت کا اختیار ہونا چاہیے۔ احتساب عدالت میں 30 دن کے اندر کسی ریفرنس کے ٹرائل کے اختتام کی توقع کرنا بھی غیر منطقی ہے اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

نیب کی دیگر اداروں جیسے کہ ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اور ایف بی آر وغیرہ کے کاموں میں مداخلت بھی بند ہونی چاہیے۔ اسی طرح نیب چیئرمین کی صوابدیدی طاقت جس کے ذریعے وہ کسی ملزم کی گرفتاری کا حکم دیتے ہیں اور کسی کا نہیں، یہ بھی ختم ہونا چاہیے۔ پلی بارگین بھی کرپشن اور بلیک میلنگ میں اضافے کا ٹول ہے نیب کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ 70 فیصد لوٹی رقم کی بازیابی کرے اور بقیہ 30 فیصد کی چھوٹ دے دے۔ جب تک نیب قوانین تبدیل نہیں ہوتے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہے گا اور جمہوریت خطرے میں رہے گی۔ اس کے علاوہ احتساب کا موجودہ نظام برقرار رہا تو معاشی حالات میں بہتری کی بھی کوئی امید نہیں۔ یہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتساب کا موثر قانون بنائے جسے سول ادارے اور عوامی نمائندے کنٹرول کریں تاکہ آئندہ غیر جمہوری قوتوں کے لیے سیاسی انجنیئرنگ ممکن نہ رہے۔

Facebook Comments HS