EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کشمیر الیکشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر الیکشن جو کہ 25 جولائی کو ہونے جا رہا ہے، انتخابی مہم زور پر ہے۔ الیکشن مہم میں ایک طرف جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زردار اور نوازلیگی لیڈر مریم نواز شریف عوامی جلسوں میں ایک دوسرے پر گرج برس رہے ہیں۔ طنز اور طعنوں کے نشتر چلا رہے ہیں۔ وہاں پر تحریک انصاف کو بھی کشمیر پالیسی سمیت دیگر ایشوز پر آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں لیکن اس صورتحال میں جب کشمیر الیکشن اب دنوں کے فاصلے پر ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے وزیر بھی کشمیر الیکشن میں جیت کے حصول کے لئے میدان میں ہیں اور ان دونوں پارٹیوں کا کٹھا چٹھا عوام کو بتانے کے لئے متحرک ہیں۔

کشمیر کے انتخابی جلسوں میں بلاول اور مریم کے ایک دوسرے پر ذاتی حملوں کو پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی دوسرے درجہ کی لیڈرشپ یہ جواز پیش کر کے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ الیکشن میں ایسا ہوتا ہے۔ مطلب یہ نورا کشتی ہے، الیکشن ہو گئے تو پھر بہن بھائی ہوں گے ۔ ادھر مریم نواز شریف کشمیر میں الیکشن مہم کے لئے ہونے والے عوامی جلسوں میں کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی ہیں جس میں وفاق میں موجود میں تحریک انصاف پر دھاندلی کرنے کی منصوبہ بندی کے الزامات نہ لگا رہی ہوں۔

اب تو عوامی جلسوں میں تواتر کے ساتھ اس بات کا الزام لگا رہی ہیں کہ وزیر پیسے بانٹتے پکڑے گئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ادھر بلاول بھٹو نے تو کشمیر الیکشن میں وزیراعظم عمران خان کشمیر کے ایشو پر عوامی جلسوں میں لتاڑا ہے سو لتاڑا ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر مطلب بلاول کے بابا سائیں آصف علی زرداری نے تو دو جملوں میں بات ہی ختم کردی ہے، اس بار بھی کشمیر الیکشن میں وہی ہوگا جو کہ ہوتا آیا ہے مطلب جیسے پیپلز پارٹی نے وفاق میں حکومت میں ہوتے ہوئے کشمیر کے عوام کا مینڈیٹ لیا تھا، اسی طرح پھر نواز لیگ نے وفاق میں اقتدار میں ہوتے ہوئے جیسے کشمیر کا الیکشن جیت لیا تھا۔

یعنی کہ تحریک انصاف کی حکومت وفاق میں ہے تو وہی الیکشن میں سکندر ٹھہرے گی، تاریخ بھی گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے، اور زرداری وہی کہا ہے جو کہ اقتدار میں دیکھا تھا یا پھر یوں سمجھ لیں کہ جو کیا تھا۔ زرداری کے کشمیر میں الیکشن پر تبصرہ پر یقین یوں بھی جا سکتا ہے کہ موصوف نے اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو کشمیر الیکشن کی مہم میں سے نکال کر امریکہ روانہ کر دیا ہے۔ ادھر وزیر داخلہ شیخ رشید سے کشمیر الیکشن کی ہارجیت کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے ایک کی بجائے تین بار کہا کہ وہ ہاریں گے، وہ ہاریں گے، وہ ہاریں گے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ریجن کی صورتحال بھی یہی تقاضا کرتی ہے کہ تحریک انصاف جیتے اور وزیراعظم عمران خان کی پارٹی کشمیر میں حکومت بنائے۔

شیخ رشید کی پیشگوئی بھی آصف علی زرداری کے کشمیر الیکشن پر داغے گئے بیان کے تناظر میں دیکھا جائے تو درست نظر آتی ہے۔ دونوں کشمیر کے الیکشن میں وفاق کے اثر سے بھی واقف ہیں لیکن اب سوال یہ پیدا ہے کہ کشمیر سمیت ہمارے ملک میں اس بات کا رواج کیوں پڑ چکا ہے کہ الیکشن کی آمد کے ساتھ ہی حکمران جماعت صاف شفاف الیکشن کا نعرہ لے کر آ جاتی ہیں جبکہ اپوزیشن دھاندلی کے الزامات کی پٹاری لے کر میدان میں اتر پڑتی ہے۔ دونوں اطراف سے اس ایشو پر اتنا واویلا ہوتا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ہے، پھر یوں ہوتا ہے کہ جو الیکشن ہارتا ہے وہ دھاندلی کا الزامات لگاتا ہے اور جو جیتا ہے وہ اس کے مخالف بیانہ لے کر اپنی کہانی اگلے پانچ سال تک سناتا رہتا ہے؟

تحریک انصاف لاکھ کوشش کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ الیکشن صاف شفاف کرائے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص نواز لیگی قیادت اور پیپلز پارٹی الیکشن کو شفاف نہیں مانے گی، وجہ جہاں شکست ہو، وہاں دھاندلی کا نعرہ لے کر چل پڑو اور یہی کچھ تحریک انصاف کے کیمپ سے بھی ہوتا ہے۔ یہ چل سو چل ہے۔ تحریک انصاف بھی وہی دھرا رہی ہے جو کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ وفاق میں حکمران جماعت کی حیثیت میں کرتی تھیں، مطلب عوام کی رائے کسی طرف بھی ہو لیکن الیکشن میں جیت ان کی ہوگی جو کہ مرکز کے اقتدار میں ہوں گے ؟

یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کیا کشمیری الیکشن کے دن واقعی اتنے معصوم ہوتے ہیں کہ ان کا ووٹ چرا لیا جاتا ہے اور وفاق میں موجودہ حکمران جماعت الیکشن جیت کر حکومت بنا لیتی ہے، یا پھر معذرت کے ساتھ کشمیر میں ایسے نقالی لیڈروں اور ورکروں کی بڑی کھیپ تیار ہو چکی ہے جو کہ الیکشن میں ذاتی مفاد کی خاطر لوگوں کے ووٹ کو دائیں سے بائیں کروانے میں کمال مہارت رکھتے ہیں اور چونچ گیلی ہوتے ہی متحرک ہو جاتے ہیں، اور پھر گلے میں مفلر ڈال کر تحریک انصاف کو پیارے ہو جاتے ہیں۔

یا پھر زرداری سب پہ بھاری کے نعروں سے قیامت برپا کر دیتے ہیں ادھر نواز شریف کا اقتدار ہوتو اس پر قربان ہو جاتے ہیں۔ یہ تحقیق طلب سوال ہے؟ اور اس کی ریسرچ کی ضرورت ہے۔ آصف علی زرداری کے صحافی کے سوال پر دو جملوں کی کہانی تو سمجھ آتی ہے کہ کون کشمیر الیکشن میں جیتے گا لیکن اس بات کا موصوف نے نہیں بتایا کہ وفاق کی حکمران جماعت ہونے کے ناتے پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ نواز یا پھر اب تحریک انصاف کشمیر کے الیکشن کس سیلبس کے تحت جیت لیتی ہیں؟ شاید اس لیے انہوں نے اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا اور ہار مان لی کہ کل کو اقتدار ملا تو انہوں نے بھی اسی وفاق کے سیبلبس کا سہارا لینا ہے جو کہ چلا آ رہا ہے؟ یوں عوام کو آگاہ کر کے اپنے اور ہم خیال جماعتوں کے اقتدار کے ایجنڈے کو خراب نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے