افغان نائب صدر کا پاکستان پر طالبان کی فضائی مدد کا الزام، اسلام آباد نے دعویٰ مسترد کر دیا
افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح نے پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) پر طالبان کی فضائی مدد کرنے کا الزام عائد کیا ہے تاہم پاکستان نے اس الزام کی تردید کر دی ہے۔
امر اللہ صالح نے سوشل میڈیا پر بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ایئر فورس نے افغان فضائیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان کو سرحدی گزرگاہ اسپن بولدک سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی تو اس کا ردِ عمل آئے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی فضائیہ بعض علاقوں میں طالبان کی حمایت بھی کر رہی ہے۔
افغان نائب صدر کے الزامات پر جمعے کو پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغان ایئر فورس کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ افغان نائب صدر کے اس طرح کے بیانات سے افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
بیان کے مطابق افغانستان نے پاکستان کو چمن سیکٹر سے متصل اپنی حدود میں فضائی کارروائی کرنے سے متعلق آگاہ کیا تھا جس کا پاکستان نے مثبت جواب دیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق افغان حکومت کو اپنی سرزمین کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
Breaking: Pakistan air force has issued official warning to the Afghan Army and Air Force that any move to dislodge the Taliban from Spin Boldak area will be faced and repelled by the Pakistan Air Force. Pak air force is now providing close air support to Taliban in certain areas
— Amrullah Saleh (@AmrullahSaleh2) July 15, 2021
یاد رہے کہ پاکستان کی چمن سرحد سے متصل افغان علاقے اسپن بولدک میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جھڑپوں کا آغاز بدھ سے ہوا تھا۔
طالبان نے اسپن بولدک میں افغان پرچم کی جگہ اپنا جھنڈا لہراتے ہوئے علاقے پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔ البتہ افغان حکومت نے جمعرات کو اس قبضے کو چھڑانے کا دعویٰ کیا۔
افغان نائب صدر کی جانب سے پاکستان پر طالبان کی مدد کرنے کے الزامات ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب افغانستان میں قیامِ امن کے لیے اسلام آباد میں افغان رہنماؤں کی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
جمعرات کو ہی پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے سابق افغان صدر حامد کرزئی سے فون پر رابطہ کر کے انہیں مذکورہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان انتہائی قریب سرحد ہونے کی وجہ سے عام طور پر وہاں عالمی معیارات اور طریقہ کار پر عمل نہیں ہو پاتا اس کے باوجود پاکستان نے اپنی حدود میں مقامی آبادی اور اہلکاروں کے دفاع کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان حدود سے فرار ہو کر پاکستان آنے والے افغان سیکیورٹی فورسز کے 40 اہلکاروں کو احترام کے ساتھ واپس بھیج دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق افغان سیکیورٹی فورسز نے اگر لاجسٹک سپورٹ کی درخواست کی تو وہ انہیں فراہم کی جائے گی۔


