آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج نا صرف کشمیر بلکہ پاکستان کے مستقبل کی عکاسی کریں گے


آفس سے سالانہ چھٹیوں پر ہوں۔ سوچا تھا سیاست سے تھوڑا دور رہوں گی۔ فیملی کے ساتھ کوالٹی وقت گزاروں گی۔ لیکن پاکستان میں تو ہر روز حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔ کہ انسان چاہتے ہوئے بھی لکھے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ میں بہت عرصے سے آزاد کشمیر کے بارے میں لکھنا چاہ رہی تھی۔ سوچا اب اچھا وقت ہے۔ الیکشن کی گہما گہمی بھی ہے۔ اور اسی بہانے آزاد کشمیر کے بارے میں ماضی قریب میں کیے گئے فیصلے آنے والے وقت میں کیسے اثر انداز ہو سکتے ہیں تفصیل سے لکھا جائے۔

مجھے معاف کر دیجیے گا اگر میری تحریر تھوڑی لمبی ہو جائے تو، لیکن میں کوشش کروں گی بات کو مختصر الفاظ میں لکھ سکوں۔

پاکستان کے نئے نقشے کے مطابق آزاد کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ جی ہاں یہ کسی غلطی کا نتیجہ ہرگز نہیں تھا۔ بلکہ مستقبل کی سوچی سمجھی پلاننگ کا حصہ تھا۔

بالکل اسی طرح جیسے متنازعہ علاقے مقبوضہ کشمیر کو بھارت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے اپنا حصہ بنا لیا اور پاکستان کی حکومت اقوام متحدہ میں ایک تقریر کے بعد ایسی سوئی کہ مقبوضہ کشمیر کا ذکر ہماری لوکل سیاست میں بیان بازی کی حد تک ہی محدود ہو کر رہ گیا۔

میری رائے میں اس کی بڑی وجہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان صاحب کے وائٹ ہاؤس کے راہداریوں میں ٹرمپ کے ساتھ چلتے ہوئے جو عہد و پیماں کر آئے تھے۔ یہ سب اسی کا نتیجہ ہے۔

امریکہ اور دنیا کے بیشتر ممالک بشمول اسلامی ممالک نے ہندوستان میں بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس کے لئے مودی کو دوبارہ حکومت دے کر مضبوط کیا گیا۔ اور بھارت کو خوش رکھنے کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

پاکستان کے پاس دو ہی راستے تھے۔ یا تو ہم جنگ کرتے یا پھر کچھ لو کچھ دو کی پالیسی اپناتے ہوئے سمجھوتہ کر لیتے۔ اور ہم نے بالکل سمجھوتہ کیا۔ آزاد کشمیر کو آنے والے وقتوں میں پاکستان میں ضم کر دیا جائے گا۔

”آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنا دیا جائے گا“
بھارت بھی خوش، پاکستان بھی خوش۔

آزاد کشمیر کے حالیہ وزیراعظم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں۔ کہ ہو سکتا ہے۔ میں اس آزاد کشمیر کا آخری وزیراعظم ہوں گا۔ آزاد کشمیر کو صوبہ نہیں بننے دیں گے وغیرہ۔ شاید جو وہ جانتے ہیں۔ یا انھیں جو بریفنگ دی گئی ہوں گی۔ وہ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہوں گے۔ بہرحال وہ آزاد کشمیر کے آخری وزیراعظم بالکل بھی نہیں ہوں گے۔ ابھی نیا وزیراعظم بھی آئے گا۔

کیونکہ پاکستان کے کنٹرولڈ میڈیا کے اندر تو سچ بولنے اور لکھنے کی ہمت نہیں۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ مجھے حقیقت لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ اس حکومت نے اپنے اقتدار کو بچانے اور اگلی حکومت کے لالچ میں کشمیر ہر سمجھوتہ کیا۔

چلیں اب واپس اپنے اصل ٹاپک آزاد کشمیر کے الیکشن پر آ جاتے ہیں۔

پاکستان میں تجزیہ نگار اپنے اپنے تجربے لکھ چکے۔ بلکہ یوں کہہ لیں سیاسی پنڈت پینشن گوئی کر چکے۔ کہ حکومتی پارٹی پہلے نمبر پر اور پی پی پی دوسرے نمبر پر اور مسلم لیگ نون تیسرے نمبر پر ہو گی۔ یا یوں کہہ لیں۔ جیسے ان سب کو ایک ہی سکرپٹ دیا گیا ہو۔

میرا ایسا ماننا ہے کہ اس بار اسٹیبلشمنٹ پوری طرح کھل کر الیکشن میں سامنے نہیں آئے گی۔ وہ سیاسی پارٹیز کو 80 % کھل کر کھیلنے کا موقع دیں گے۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ کہ وہ عمران خان صاحب کے لئے میدان کھلا چھوڑ کر اسے بے قابو نہیں ہونے دیں گے۔

آزاد کشمیر کے الیکشن کے نتائج ہمارے پاکستان کے آئندہ ہونے والے الیکشن کی عکاسی کریں گے۔ اور اپ کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ کہ پاکستان میں اگلا سیٹ اپ کیسا ہو گا۔

جب سے مریم نواز شریف صاحبہ نے آزاد کشمیر میں کمپین شروع کی ہے۔ اس کے بعد مسلم لیگ نون اور اس کا ورکر بہت زیادہ پر امید ہو گیا ہے۔ اور جیسا کہ مریم نواز شریف صاحبہ خود بھی اپنے جلسوں میں کہہ رہی ہیں۔ کہ الیکشن کے نتائج کچھ بھی ہوں لیکن عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

میری رائے کے مطابق مریم نواز شریف یہ لائن بول کر آنے والے نتائج کو ابھی سے ہی تسلیم کر رہی ہیں۔ جو کہ ان کے سیاسی مستقبل کے لئے درست نہیں ہو گا۔ انھیں اپنے ووٹر کا یقین ٹوٹنے نہیں دینا چاہیے۔ پھر چاہے 26 جولائی کی صبح جیت کی فاختہ جس مرضی کے سر بیٹھے۔ کیونکہ کبھی کبھی ہمارا یقین ہی ہمارے مقاصد کو پورا کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

حکومتی وزیر علی امین گنڈا پر مسلسل کبھی جوتے برسائے جا رہے ہیں کبھی پتھر تو کبھی انڈے، جس کو حکومت کے خلاف غم و غصہ کہہ کر پھیلایا جا رہا ہے۔ میری نظر میں یہ سیاسی پارٹی کے جیالوں کا انفرادی عمل لگتا ہے۔ کیونکہ علی آمین گنڈا پور نے جس طرح مسلم لیگ نون اور پی پی پی کی لیڈر شپ کو تضحیک آمیز تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ اس کا پے بیک ہے۔

جس علاقے میں وفاقی وزیر پر جوتا پھینکا گیا وہ جیالوں کا مضبوط قلعہ ہے۔ اور دوبارہ جس علاقے میں وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور پر پتھروں اور انڈوں سے حملہ کیا گیا۔ وہ بھی پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے۔

کشمیر کے جغرافیائی حدود کو سمجھنے والے یہ جانتے ہوں گے کہ یہ پیپلز پارٹی کی نقوی اور گیلانی برادری کا علاقہ ہے۔ آخر جیالے اپنے قائد بھٹو کے خلاف استعمال کی گئی زبان پر کیسے خاموش رہ سکتے تھے۔

اس وقت آزاد کشمیر کے نتائج کے بارے میں کچھ بھی حتمی فیصلہ کر پانا مشکل ضرور ہے ناممکن بالکل بھی نہیں ہے کیونکہ تمام سیاسی پارٹیز کا گراؤنڈ پر اپنا اپنا ووٹ بنک موجود ہے۔

فکر کرنے کی ضرورت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو ہے۔ کیونکہ اگر پی ٹی آئی ان سے سیٹیں چھین لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ان سیاسی پارٹیوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ اور یہی چیز بلدیاتی الیکشن میں بھی دیکھنے میں آ رہی ہے کہ مقابلہ تو مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی میں ہوا ہے اور وہاں نون لیگ نے اپنا جئے کا مارجن پہلے کی نسبت کم کیا ہے اور عمران خان صاحب کی جماعت نے ووٹ کی سپورٹ میں اضافہ کیا ہے۔ کشمیر میں پرانی جماعتیں اپنی حکومتیں بار بار بنا چکی ہیں۔ لہٰذا اس بار اگر حکومتی جماعت یعنی کے عمران خان کے نام کا جادو چل گیا تو باقی جماعتوں کے لئے تھوڑی گڑ بڑ ہو جائے گی۔

اس الیکشن میں ایک بات قابل ذکر ضرور ہے کہ جلسے تو نون لیگ کے بڑے ہو رہے ہیں۔ لیکن کیا ان کے جلسوں میں آئے لوگ شیر کے نشان پر مہر لگا کر ان کے امیدوار کو بھی جتوائیں گے؟ کشمیری ووٹر بھی پاکستانی ووٹر کی طرح ہی ہے۔ چڑھتے سورج کو سبھی سلام کرتے ہیں۔ ان کے نمائندوں کو بھی فنڈز چاہیے ہوتے ہیں۔

ویسے تو آزاد کشمیر کے مقدر کا فیصلہ کرنے کا حق ان کی عوام کو ہی ہے۔ کہ وہ اپنے مستقبل کو کن کے ہاتھوں میں محفوظ دیکھتے ہیں لیکن بعض اوقات ریاست کو جذبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے آنے والے مستقبل کو دیکھ کر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS