EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

حیدر آباد سے اغوا ہونے والی کم سن لڑکی عین نکاح کے وقت بازیاب

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


فائل فوٹو

Getty Images
فائل فوٹو

سندھ پولیس نے ایک کمسن بچی کو بازیاب کروایا ہے جسے پہلے اغوا کیا گیا اور بعد میں اس کی شادی تین گنا بڑی عمر کے مرد کے ساتھ کروائی جا رہی تھی۔

پولیس کے مطابق بچی کو عین اس وقت بازیاب کروایا گیا جب نکاح کی تقریب جاری تھی اور کمسن بچی سے زبردستی دو بار رضا مندی لے لی گئی تھی جبکہ تیسری بار ہاں کرنے سے پہلے ہی اسے بازیاب کروا لیا گیا۔

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد میں تعینات سب ڈویژنل پولیس آفیسر سٹی سرکل اسسٹنٹ سپرنٹینڈنٹ آف پولیس علینہ راجپر نے بی بی سی کو اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حیدر آباد کے علاقے نسیم نگر کی 13 سالہ کمسن بچی نگینہ (فرضی نام) مقامی سکول میں چھٹی جماعت کی طالبہ ہے اور اس کے والد کچھ عرصہ پہلے وفات پا چکے تھے۔

اغوا کیسے کیا گیا؟

پولیس کے مطابق ان کے ہمسائے میں ایک خاندان جو کہ کچھ عرصہ پہلے ہی اس علاقے میں منتقل ہوا تھا اور اس گھر میں رہنے والی خاتون کا ان کے گھر کبھی کھبار آنا جانا تھا۔ بچی کے بیان کے مطابق گذشتہ ماہ کی 18 تاریخ کو وہ تیار ہو کر سکول جارہی تھی کہ اس خاتون نے بچی کو پیدل سکول جاتے دیکھ کر کہا کہ وہ پیدل سکول کیوں جارہی ہے؟

اے ایس پی علینے کے مطابق بازیاب ہونے والی لڑکی کے بقول اس خاتون نے ایک رکشہ کرائے پر لیا اور اسے اس رکشے میں سوار کروایا اور خود بھی اس رکشے میں بیٹھ گئیں۔

بچی کے بیان کے مطابق سکول کی عمارت قریب آنے سے پہلے رکشے والے کو اشارہ کرکے دوسری سڑک پر جانے کو کہا جہاں پر پہلے ہی سے ایک گاڑی کھڑی ہوئی تھی جس میں اس خاتون کا بیٹا عبدالشکور پہلے سے ہی موجود تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی نے مزید بتایا کہ اس خاتون نے اسے رکشے سے اتار کر زبردستی گاڑی میں سوار کروایا اور اسے نامعلوم مقام پر لے گئے۔

بچی نے پولیس کو بتایا کہ جب اسے زبردستی گاڑی میں سوار کیا جا رہا تھا تو اس نے شور مچانا شروع کردیا لیکن اس خاتون نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا پھر اس کے بعد اسے بے ہوش کردیا گیا۔

اے ایس پی علینہ راجپر کے مطابق پولیس نے پہلے دو تین دن تو اس واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا اور پولیس اور ان کے گھر والے اپنے تئیں اس کو تلاش کرتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ بچی کے والدین کی تو کسی سے دشمنی بھی نہیں تھی اور نہ ہی وہ اتنے امیر تھے تو پھر اس بچی کو کون اغوا کرسکتا ہے؟

اے ایس پی کے مطابق جب کمسن بچی کا سراغ نہ ملا تو پولیس نے علاقے کی ریکی کرنا شروع کردی تو معلوم ہوا کہ ان کی گلی میں کچھ لوگ حال ہی میں شفٹ ہوئے تھے اور اس واقعہ کے بعد وہ پورا خاندان غائب تھا۔

بچی کو سندھ کے بعد بلوچستان پہنچا دیا گیا

انھوں نے کہا کہ کمسن بچی کی والدہ کے بقول اس خاتون کا کبھی کبھار ان کے گھر آنا جانا ہوتا تھا اور اس خاتون کے بیٹے عبدالشکور کے زیر استعمال جو موبائل نمبر تھا وہ مغوی بچی کی والدہ کو معلوم تھا۔

اے ایس پی علینہ کے مطابق پولیس نے اس نمبر پر جب بھی رابطہ کیا تو وہ بند ملا تاہم جدید ٹیکٹالوجی کو استعمال کرتے ہوئے پولیس کو یہ معلوم ہوا کہ پورے دن میں یہ موبائیل صرف پانچ منٹ کے لیے آن ہوتا ہے جس کے بعد وہ بند ہو جاتا ہے اور اس موبائیل کی لوکیشن سکھر کی بتائی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کی متعدد ٹیمیں وہاں پہنچیں اور یہ موبائل رات کے پچھلے پہر کچھ دیر کے لیے آن ہوتا تھا اور پھر بند ہوجاتا تھا تو ایسے حالات میں ملزمان کا سراغ لگانا بہت مشکل تھا۔

علینہ راجپر کے مطابق اس عرصے کے دوران اغوا ہونے والی کمسن بچی کا اپنی والدہ کو فون آیا اور اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ اسے اغوا کیا گیا ہے اور وہ اس وقت سکھر میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جس نمبر سے ٹیلی فون آیا تھا جب اس کی لوکیشن معلوم کی گئی تو وہ بلوچستان کے علاقے جعفر آباد کی آرہی تھی۔

اے ایس پی کے مطابق سندھ پولیس نے بلوچستان پولیس سے رابطہ کیا اور اجازت ملنے کے بعد پولیس کی دو ٹیمیں جعفرآباد میں اس علاقے میں گئیں جہاں سے یہ موبائل استعمال ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس حکام نے علاقے کے با اثر لوگوں سے بھی رابطہ کیا اور انھیں اس واقعہ کے بارے میں بتایا۔

علینہ راجپر کے مطابق علاقے کے لوگوں نے ملزمان کے گھر تک پہنچانے میں پولیس کی مدد کی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے جب کمسن بچی کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارا تو اس وقت نکاح کی تقریب ہو رہی تھی اور محلے کا مولوی کمسن بچی کا نکاح چالیس سالہ شخص ارشار عرف معشوق سے پڑھوا رہا تھا۔

پولیس

Getty Images

اے ایس پی کے بقول اس نکاح سے متعلق اس کمسن بچی کی رضامندی حاصل کی جارہی تھی اور اس سے دوب ار اس نکاح کے بارے رضامندی حاصل کرلی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اگر پولیس تھوڑی سی بھی لیٹ ہوجاتی تو اس کمسن بچی کا نکاح ملزم ارشاد سے ہو جانا تھا۔

ملزم ارشاد کے بارے میں اے ایس پی کا کہنا تھا کہ وہ قتل کے دو مقدمات میں اشتہاری ہے اور وہ اس مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم عبدالشکور کا رشتہ دار ہے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے جب بچی کی بازیابی کے لیے گھر پر چھاپہ مارا تو اس وقت ملزم کی والدہ اور اس کا رشتہ دار عبدالشکور گھر پر موجود نہیں تھے۔

علینہ راجپر کے مطابق بازیابی کے بعد کمسن بچی نے پولیس کو بتایا کہ اس گھر میں چار خواتین موجود تھیں جو اس سے گھر کی صفائی اور برتن دھونے کا کام کرواتی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر کہیں غلطی ہوجاتی تو اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا۔

اے ایس پی کے مطابق بازیاب ہونے والی بچی کا کہنا تھا کہ ایک دن گھر کی صفائی کے دوران ایک کمرے میں موجود موبائل، جو کہ گھر میں موجود خواتین کے زیر استعمال تھا، کو پکڑا اور باتھ روم میں جا کر اپنی والدہ کو اس نمبر سے کال کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ اپنی والدہ کو فون کر رہی تھی تو اس نے باتھ روم میں پانی کا نل چلا دیا تھا تاکہ باہر آواز نہ جائے۔

اے ایس پی کے مطابق اگر لڑکی اس موبائل سے اپنی والدہ کو فون نہ کرتی تو شاید اس بچی کا سراغ لگانا ناممکن ہو جاتا۔

یہ بھی پڑھیے

گجرات: ساڑھے تین ماہ کا بچہ جو اب تک دو مرتبہ اغوا ہو چکا ہے

گوجرانوالہ میں بیوی کا چیلنج قبول کر کے اداکاری کرنے والا شخص اغوا کے مقدمے میں گرفتار

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

کمسن بچی کو بازیاب کروانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں علینہ راجپر کا کہنا تھا کہ پولیس نے سب سے پہلے ملزم کے بھائی کے زیر استعمال موبائل کا ڈیٹا متعلقہ موبائیل کمپنی سے حاصل کیا اور اس کے بعد جہاں پر یہ فون استعمال ہو رہا ہے اس کے قریبی موبائل ٹاور کی لوکیشن معلوم کرکے ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اس موبائل نمبر پر جنتی کالیں موصول ہوئیں اور جتنی کالیں کی گئیں اس کا ڈیٹا حاصل کرلیا گیا اور جن نمبروں سے زیادہ مرتبہ کالیں آئی ہوں یا کالیں کی گئی ہوں تو اس نمبر پر کال کر کے ملزم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ ماضی قریب میں کسی بھی شخص کا موبائل ڈیٹا حاصل کرنے کی صلاحت صرف پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے پاس ہوتی تھی اور اگر پولیس کو کسی ملزم کا موبائل ریکارڈ حاصل کرنا ہوتا تھا تو ایس پی رینک کا پولیس افسر تحریری درخواست دیتا تھا جس پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے زیر استعمال موبائل ڈیٹا فراہم کیا جاتا تھا۔

سب سے پہلے یہ سہولت اسلام آباد پولیس کو اور پھر دیگر صوبوں کی پولیس کو فراہم کی گئی اور اب پولیس کسی بھی موبائل نمبر کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرنے کی مجاذ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19983 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp