آزاد کشمیر کے انتخابات 2021ء اور سیاسی منشور کی عدم دست یابی
جمہوری ریاست میں سیاسی منشور کسی بھی انتخابات کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ سیاسی منشور سے کسی بھی جماعت یا امیدوار اسمبلی کے ارادوں اور وعدوں کا یکساں طور پر پتا چلتا ہے۔ اس طرح اس بات کا اندازہ بھی ہوتا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے پاس عوامی مسائل کا حل کیا ہے۔ سیاسی منشور کے بغیر الیکشن لڑنے کو عوام کے ساتھ دھوکا تو کہا جاسکتا ہے مگر صحیح انتخابی عمل کہنا غلطی کے مترادف ہوگا۔
چند روز قبل راقم الحروف نے آزاد کشمیر کے آمدہ انتخابات منعقدہ 25 جولائی 2021ء کے لیے سیاسی منشور کے سلسلے میں سماجی رابطوں کی ویب گاہ پر ایک پوسٹ کی۔ جس میں استفسار کیا گیا کہ سب احباب اپنی اپنی سیاسی جماعت یا اپنے پسندیدہ امیدوار کی طرف سے پیش کیا جانے والے انتخابی منشور کا اشتراک کردیں۔ ایسا دریافت کرنے کا ایک بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ پڑھا لکھا عام شہری کس بنیاد پر اپنی متعلقہ سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت کر رہا ہے اور اپنی توانائیاں صرف کرتے چلا جا رہا ہے۔
مزید براں کہ آیا آزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کا منشور عوام تک پہنچ چکا ہے یا نہیں؟ اس ضمن میں کچھ احباب نے اپنے تئیں کوشش کی مگر وہ محض اپنی اپنی جماعت کا عمومی بیانیہ فراہم کرنے میں کام یاب ہو سکے۔ ایک دوست نے بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جماعت کا منشور برقی پتے پر ارسال کیا مگر ورق گردانی سے پتا چلا کہ وہ پاکستان کے 2018ء کے عام انتخابات کے لیے پیش کیے جانے والے اہداف و مقاصد پر مشتمل دستاویز ہے۔ آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے لیے ایک بھی جملہ موجود نہیں۔ اسی طرح ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سرگرم رکن نے اپنی جماعت کا منشور پوسٹ کیا وہ بھی عمومی نوعیت کا حامل ہے۔ جس میں آزاد کشمیر کے آمدہ انتخاب کے لیے بہ طور خاص کچھ ذکر نہیں۔ بقیہ سیاسی جماعتوں کے اراکین نے خاموشی کا سہارا لیتے ہوئے متذکرہ فیس بک پوسٹ کو محض ایک جنبش انگوٹھا کے توسط، اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے صرف نظر میں ہی اپنی عافیت جانی۔
اس کے بعد متعدد سیاسی جماعتوں کی ویب گاہوں کا رخ بھی کیا گیا جن پر جماعت کی مکمل تاریخ، مقاصد، اہداف، ارتقا، سیاسی سفر، حکومتی روداد، حاصل کردہ ووٹوں کا تناسب سمیت باقی بہت ساری معلومات موجود ہے۔ پاکستان و آزاد کشمیر کے ماضی میں ہونے والے انتخابات کے سیاسی منشور تو مختلف ویب گاہوں پر پائے جاتے ہیں، مگر آزاد کشمیر کے متذکرہ انتخابات کے لیے کوئی منشور نظر نہیں آیا۔ اس سعی سے بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ بالفرض اس مرتبہ کسی جماعت نے اپنا انتخابی منشور مرتب کیا بھی ہے تو وہ عوام تک پہنچنے میں کام یاب نہیں ہو سکا اور نہ ہی کسی ویب گاہ یا میڈیا کی زینت بن سکا ہے۔
کمال حیرت کی بات ہے کہ آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات کے لیے کسی بھی جماعت نے باقاعدہ کوئی منشور پیش نہیں کیا۔ بغیر منشور پیش کیے اس وقت سب سیاسی جماعتیں انتخابی مہم اور سیاسی مقابلے کے میدان میں مصروف عمل ہیں۔
حالاں کہ ترقی یافتہ اقوام میں ہر الیکشن سے قبل باقاعدہ تمام سیاسی جماعتیں اور دیگر امیدوار (مخصوص الیکشن) کے لیے اپنا اپنا سیاسی منشور ترتیب دیتے ہیں۔ اس منشور کو عوام تک مختلف طریقوں سے پہنچایا جاتا ہے۔ مختلف کتابچوں اور پمفلٹوں کی صورت میں عوام الناس تک اپنا سیاسی منشور پہنچایا جاتا ہے۔ منشور پیش کرنے کے بعد انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جاتا ہے۔ تاکہ رائے دہندہ گان سب کے سیاسی منشور کو اچھی طرح جانچنے کے بعد اپنی رائے کا بہتر طریقے سے استعمال کر سکیں۔ لیکن آزاد کشمیر کے موجودہ 2021ء کے الیکشن میں الٹی گنگا بہتی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں کسی امیدوار کے پاس کوئی باقاعدہ اور باضابطہ سیاسی منشور نہیں ہے۔
ایک طرف شہریوں کو اپنی آرا کا آزادانہ اور منصفانہ حق دینے کا دعوی کیا جاتا ہے تو دوسری طرف محض نظریہ ضرورت کے پیش نظر چند تقریروں کی وساطت سے عوام کو بے وقوف بنا کر ووٹ کا حصول ممکن بنایا جاتا ہے۔ مستقبل میں ان وقتی و جذباتی تقاریر کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی کسی بھی سیاسی نمایندے کی اس ذاتی بیاض (ڈائری) کا کوئی مقام ہے جس پر وہ انتخابی مہم کے دوران میں لوگوں کے سامنے عوام سے مختلف قسم کے وعدوں کو رقم کرتا ہے۔ اس خرابی میں رائے دہندہ گان اور سیاسی نمایندے دونوں برابر کے حصے دار ہیں۔
اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سیاسی نمایندے اپنے اپنے حلقہ انتخاب کے تقاضوں کے مطابق اپنا اپنا منشور ترتیب دیں۔ (کیوں کہ ہر حلقے یا علاقے کے علاحدہ علاحدہ مسائل اور تقاضے ہوتے ہیں ) اور اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس کو عام آدمی تک پہچانے کے لیے متعدد طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً چھوٹے چھوٹے کتابچے تقسیم کیے جائیں، پمفلٹ کا اشتراک کیا جائے اور اس ضمن میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو استعمال کیا جائے۔ عوامی سطح پہ ان منشورات کے آڈیوز اور ویڈیوز بھی دست یاب ہونے چاہیں۔ علاوہ ازیں منشور کو اردو اور انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں میں بھی پیش کیا جائے۔ تاکہ عوام کے ہر طبقے کو اچھی طرح سے سیاسی نمایندوں کے اہداف اور ارادوں سے آ گاہی حاصل ہو سکے۔
مزید براں رائے دہندہ گان کا بنیادی فرض بنتا ہے کہ جو بھی سیاسی نمایندہ ووٹ کی خاطر ان کے پاس آئے تو سب سے پہلے اس سے منشور طلب کیا جائے۔ اس کے منشور اور باقی سب کے منشور کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے کہ کون سا نمایندہ ووٹ کا زیادہ حق دار ہے۔ کسی بھی سیاسی شخصیت کی زبانی تقریر و گفتار درست رائے عامہ کا تعین نہیں ہو سکتا ۔ کیوں کہ کسی ایک بھی شہری کے غلط ووٹ کے استعمال سے نا اہل حکمران مسلط ہو سکتا ہے۔ منشور کی جانچ پرکھ کے ساتھ ساتھ متعلقہ امیدوار کی سیرت و کردار کو ملحوظ خاطر رکھنا بھی لازم ہے۔
ووٹ کا استعمال ایک گواہی ہے۔ اور گواہی سوچ سمجھ کر دی جانی چاہیے۔ کیوں کہ جس کو ووٹ دیا جاتا ہے اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپ اس بات کی گواہی دے رہے ہیں، وہ باقیوں کی نسبت بہتر ہے۔ بہ حیثیت مسلمان گواہی کے بارے میں روز حساب جواب دہ ہونا ہے۔ اپنے نمایندوں کے انتخاب میں کسی بھی قسم کی سستی، کاہلی اور لاپرواہی کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ صرف برادری، خاندانی تعلق، ذاتی منفعت، سیاسی مفاد، مالی لالچ یا دیکھا دیکھی کی بنیاد پر کسی بھی جماعت یا فرد کی حمایت یا مخالفت کرنا کسی بھی طور مہذب اور ترقی یافتہ اقوام کا شیوہ نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کے پڑھے لکھے اور باشعور شہریوں کے لیے دعوت فکر ہے۔


