EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

انڈیا: کتنے بچے پیدا کرنے ہیں؟ فیصلہ حکومت کا ہوگا یا عورت کا

دیویہ آریہ - بی بی سی، دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب حکومت ملک کی آبادی کو کم کرنے کے لیے فیصلے لینا چاہتی ہے تو وہ خواتین جن کے زیادہ بچے ہیں اور مانع حمل کے طریقے زیر بحث آ جاتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب آبادی پر قابو پانے کے لیے انڈیا میں انعام اور سزا کی پالیسی اپنائی گئی ہو یعنی حکومت خاندان چھوٹا رکھنے پر انعام دے گی جبکہ زیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کو سرکاری پالیسیوں سے محروم رکھا جائے گا۔

ایسا سب سے پہلے سنہ 1970 کی دہائی میں ملک میں ایمرجنسی کے دوران نس بندی کے پروگرام کے ذریعے کیا گیا تھا اور پھر 1990 کی دہائی میں ’دو بچوں‘ کی پالیسی کے تحت کئی ریاستوں میں پنچائیت کے انتخابات لڑنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

ہمسایہ ملک چین سے ’ایک بچے‘ اور ’دو بچے‘ کی پالیسیاں جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا سے بھی کچھ اسباق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اب آسام اور اتر پردیش کی حکومتیں بھی ایسی ہی پالیسی اپنانا چاہتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انڈیا کی آبادی اور خواتین کی زندگی پر ماضی میں شروع کی گئی ایسی مہمات کا کیا اثر ہوا؟

ورلڈ بینک کے مطابق جب انڈیا آزاد ہوا تو ایک عورت اوسطاً چھ بچوں کو جنم دے رہی تھی۔

آبادی پر قابو پانے پر پہلا قدم سنہ 1952 کے پہلے پانچ سالہ منصوبے میں اٹھایا گیا تھا لیکن ملک میں ایمرجنسی کے دوران حکومت نے کہا کہ پرانے طریقوں نے کوئی زیادہ اثرات نہیں دکھائے، اس لیے کچھ نیا کرنے کی ضرورت ہے اور پھر نس بندی پر زور دیا گیا۔

سنہ 1976 میں لائی جانے والی اس پہلی قومی آبادی پالیسی کے تحت خاندانی منصوبہ بندی کے اہداف طے کیے گئے اور لوگوں کو نس بندی کروانے پر انعام بھی دیے گئے۔

نسبندی اور خواتین

نس بندی کی یہ پالیسی مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے تھی لیکن زیادہ توجہ مردوں پر دی جاتی تھی کیونکہ مردوں پر سرکاری ملازمت یا راشن سے محرومی کی شرائط عائد کرنا آسان تھا اور دوسرا یہ کہ خواتین کے مقابلے مردوں کی نس بندی کرنا کم پیچیدہ عمل تھا اور صحت کے مراکز اس کے لیے بہتر طور پر تیار تھے۔

لیکن اس کے باوجود اس عرصے میں نس بندی کے عمل میں 2،000 مرد ہلاک ہو گئے۔ جب ایمرجنسی ختم ہوئی تو کانگریس کی حکومت بھی ختم ہو گئی اور نئی حکومت کو زبردستی نس بندی کے فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

انتخابی شکست کے بعد اہم فرق یہ تھا کہ اب خاندانی منصوبہ بندی کا مرکز مرد نہیں بلکہ خواتین تھیں۔

پروفیسر ٹی کے ایس رویندرن نے تولیدی صحت کے ایک جریدے میں لکھا ہے کہ ’سنہ 1975-76 میں ہونے والی نسبندی کی مہم میں تقریباً 46 فیصد خواتین کی نس بندی کی گئی، 1976-77 میں یہ شرح 25 فیصد رہ گئی لیکن 1977-78 میں یہ بڑھ کر 80 فیصد ہو گئی۔ 1980 کی دہائی میں یہ 85 فیصد کے لگ بھگ جبکہ 1989-90 میں 91.8 فیصد تک جا پہنچی۔‘

2015-16 کے تازہ ترین نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس) کے مطابق خاندانی منصوبہ بندی میں مرد کی نس بندی کا حصہ صرف 0.3 تھا یعنی نس بندی کے ذریعہ خاندانی منصوبہ بندی کا تقریباً سارا بوجھ خواتین کے سر پر تھا۔

47 فیصد خواتین اب بھی مانع حمل کا کوئی طریقہ استعمال نہیں کرتیں اور 2005-06 سے لے کر 2015-16 تک مانع حمل طریقوں کے استعمال میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔

اس میں مردوں کی شرکت بھی کم ہوتی رہی اور اب خاندانی منصوبہ بندی میں ان کی کل شراکت 10 فیصد سے بھی کم ہے۔

مانع حمل کی ذمہ داری خواتین کے کندھوں پر ڈال تو دی گئی تھی لیکن انھیں اس متعلق فیصلہ لینے کی آزادی نہیں ملی۔ جب حکومت نے پھر سے خاندانی منصوبہ بندی میں سزا اور انعام کو اکٹھا کیا تو اس کے نتیجے میں خواتین کو زیادہ تکلیف اٹھانا پڑی۔

دو یا کم بچوں پر پنچائیت کے انتخابات لڑنا

انڈیا میں ایمرجنسی کے دوران لاکھوں مردوں کی نس بندی کے باوجود جب سنہ 1981 میں مردم شماری کے اعداد و شمار سامنے آئے تو آبادی میں اضافے کی شرح کم نہیں ہوئی بلکہ اس میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ماہرین کے مطابق یہ اس وجہ سے ہوا کہ مانع حمل کے لیے کونڈوم جیسے عارضی اقدام کی بجائے نسبندی مستقل فیصلہ ہوتا ہے اور جوڑے یہ فیصلہ صرف اس وقت لیتے ہیں جب انھیں اس بات کا یقین ہو کہ انھیں مزید اولاد کی ضرورت نہیں۔

ایک بار حکومت نے پالیسی واپس لے لی تو لوگوں نے نس بندی کرانا بھی بند کر دیی یعنی اس پالیسی کی وجہ سے آبادی کو کم کرنے کے فائدے کے بارے میں لوگوں کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

آبادی پر نس بندی کے اثرات کو سمجھنے کے لیے امریکی ماہر بشریات روتھ ایس فریڈ نے 1958-83 کے درمیان دلی کے قریب ایک گاؤں میں تحقیق کی۔

ان کی تحقیق کے مطابق حکومتی پالیسی کے منسوخ ہونے کے بعد نس بندی کے فیصلے یا تو مردوں کی معاشی حیثیت پر مبنی تھے یا اس پر کہ ان کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے یا نہیں۔ خواتین کی خواہش کی کوئی خاص حیثیت نہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔

خواتین کو اس ثانوی حیثیت کا ایک بار پھر احساس اس وقت ہوا جب 1990 کی دہائی میں آئین میں ترمیم کے بعد پنچایتی راج میں خواتین ، دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کے لیے مخصوص نشستوں میں آئین میں ترمیم کی گئی تھی لیکن اس کے علاوہ دو یا کم بچے پیدا ہونے والے انتخابات لڑ سکتے تھے۔

خواتین پر کم بچوں کا اثر

ایک سرکاری عہدیدار نرمل بچ کی تحقیق کے مطابق اس کا اثر مردوں اور عورتوں دونوں پر پڑنا چاہیے تھا لیکن اس سے زیادہ متاثر خواتین ہوئیں۔

ایسی بہت ساری مثالیں ملی ہیں جہاں مردوں نے پنچایت انتخابات میں کامیابی کے بعد تیسری اولاد پیدا ہونے پر اپنی بیوی کو طلاق دے دی یا اسے یہ الزام لگا کر گھر سے باہر پھینک دیا گیا کہ وہ ناجائز بچے سے حاملہ ہوئی یا بیوی چھوڑ کر دوبارہ شادی کر لی۔

انھوں نے ایسی خواتین کا بھی ذکر کیا ہے جو انتخابات میں کامیابی کے بعد اگر تیسری بار حاملہ ہوئیں تو پھر کسی اور گاؤں یا ریاست میں چلی گئیں اور چپکے سے اس بچے کو جنم دیا۔ لڑکا پیدا ہونے کی صورت میں انھوں نے سیاسی عہدہ چھوڑ دیا اور لڑکی پیدا ہونے کی صورت میں اسے چھوڑ دیا۔ بہت ساری جگہوں پر خواتین کا غیر محفوظ اسقاط حمل بھی کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’انڈیا کی آبادی آٹھ سال میں چین سے زیادہ ‘

چین: مرد جو سنگل ہیں اور خواتین جو بچے پیدا کرنا نہیں چاہتیں

دنیا بھر میں بچوں کی پیدائش میں ’حیرت انگیز‘ کمی متوقع

نرمل بچ کے مطابق اس پالیسی نے خواتین بہت برا اثر ڈالا لیکن عام خیال یہ رہا کہ آبادی پر قابو پانے کے لیے یہ ضروری تھا۔

دیہی ماحول میں عورت کی مرضی کو بیٹے اور پنچایت میں نمائندگی کی خواہش کے درمیان مارا گیا لیکن یہ جاننے کی بہت کم کوشش کی گئی کہ عورت خود کیا چاہتی ہے۔

چین کی آبادی کی پالیسی اور بیٹے کی خواہش

آبادی پر قابو پانے میں حکومت کی مداخلت کی سب سے بڑی مثال پڑوسی ملک چین میں پائی جاتی ہے۔ چین جس کی آبادی انڈیا سے زیادہ ہے، اس نے اپنی آبادی پر کنٹرول کرنے کے لیے سنہ 1980 میں ’ایک بچے‘ کی پالیسی اپنائی تھی۔

یہاں تک کہ چین میں بیٹے کی خواہش کتنی شدت سے کی جاتی ہے، اس حقیقت سے دیکھا جا سکتا ہے کہ ’ایک بچے‘ کی پالیسی میں دیہی علاقوں میں رہنے والے جوڑے کو دو بچوں کی اجازت دی گئی تھی بشرطیکہ ان کا پہلا بچہ لڑکی ہو۔

اس کے باوجود ’ایک بچے‘ کی پالیسی کے متعارف ہونے کے دو دہائیوں بعد بھی چین میں بچوں کی جنس کا تناسب بری طرح خراب ہوا تھا۔

یعنی یہاں بھی اسقاط حمل اور جنین قتل جیسے طریقے استعمال کر کے حکومتی پالیسی سے گریز کرتے ہوئے بیٹے کی خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔

یونیسیف کے مطابق یہ شرح سنہ 1982 میں ہر 100 لڑکیوں کے مقابلے 108.5 لڑکوں سے بڑھ کر سنہ 2005 میں ہر 100 لڑکیوں کے مقابلے میں 118.6 لڑکوں تک بڑھ گئی۔ سنہ 2017 میں یہ تناسب 100 لڑکیوں کے مقابلے 9.111 لڑکوں پر آ گیا لیکن یہ اب بھی دنیا میں بدترین جنسی تناسب میں سے ایک ہے۔

چین میں اب آبادی کی پالیسی میں نرمی کی گئی ہے۔

آبادی میں کمی اور جنسی تناسب میں اضافہ

چین میں بچوں کے جنسی تناسب میں بہتری زیادہ تر شہری علاقوں میں دیکھی گئی۔ جہاں خواتین کی اعلی تعلیم بہتر ہے، وہ بڑی عمر کے والدین کی مالی دیکھ بھال کرنے کے قابل ہیں، ان کو جائیداد میں حصہ ملتا ہے اور خاندان بھی پرانی روایات پر زیادہ یقین نہیں رکھتے۔

امریکہ کی ٹفٹس یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کی پروفیسر الزبتھ ریمک نے چین کے ساتھ ساتھ جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی بچوں کے جنسی تناسب کی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی پالیسیوں نے اس میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ان کے بقول ’جاپان میں خواتین جائیداد کی حقدار ہیں، مالی طور پر بااختیار ہیں اور عمر رسیدہ افراد پینشن کا عمدہ نظام رکھتے ہیں۔ سنہ 1995 کے بعد جنوبی کوریا میں بھی بچوں کے تناسب میں بہتری آنے لگی جب حکومت نے خواتین اور مردوں کے لیے جائیداد میں یکساں حصہ، روایات میں مساوی مقام اور شادی کے بعد بیوی کے اپنے شوہر کے گھر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے کی روایت کو ختم کر دیا۔‘

یعنی آبادی پر قابو پانے کی کسی بھی قسم کی پالیسی لانے کے برے نتائج ہو سکتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ لوگ رضاکارانہ طور پر اس پر عمل کریں۔

ماضی کے تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ کسی لالچ یا سزا کی پالیسی کا سہارا لیے بغیر خواتین کو بااختیار بنانا بہتر نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

سائنسی جریدے لانسیٹ میں سنہ 2020 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ’لڑکیوں کی مانع حمل کے جدید طریقوں تک رسائی اور تعلیم کی بنیاد پر دنیا بھر میں شرح پیدائش اور آبادی کم ہو رہی ہے۔‘

این ایف ایچ ایس 2015-16 کے مطابق انڈیا میں بھی اقتصادی طور پر بااختیار خواتین جو بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کر چکی ہیں، کم بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔ ان پڑھ لڑکیوں کے مقابلے میں تعلیم یافتہ لڑکیاں 15 سے 18 سال کی عمر میں مائیں کم بن رہی ہیں۔

دوسری طرف کم تعلیم یافتہ، غریب، دیہی اور اقلیتی برادری کی خواتین مانع حمل مہمات سے متعلق کم معلومات رکھتی ہیں۔

انڈیا

Getty Images

مرد اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

این ایف ایچ ایس 2015-16 کے مطابق تقریباً 40 فیصد مرد سمجھتے ہیں کہ مانع حمل صرف خواتین کی ذمہ داری ہے لیکن 20 فیصد یہ بھی مانتے ہیں کہ مانع حمل طریقوں کو استعمال کرنے والی عورت ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرتی ہے۔

یعنی مانع حمل کی ذمہ داری بھی خواتین پر عائد ہوتی ہے اور ان کے کردار پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عورت پر لڑکا بیدا کرنے کا معاشرتی دباؤ بھی ہوتا ہے۔

انڈیا میں دوسری قومی آبادی کی پالیسی سنہ 2000 میں منظور کی گئی تھی اور اس میں زبردستی اور سزا کے بجائے بچے اور ماں کی صحت، خواتین کو بااختیار بنانے اور مانع حمل کے طریقوں پر توجہ دی گئی تھی۔

اب مرکزی حکومت نے مانع حمل میں مردوں کا حصہ بڑھانے کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی ہے۔ انڈیا میں شرح پیدائش 1950 میں چھ بچوں سے کم ہو کر 2015-16 میں 2.2 پر آ گیا۔

وہ اقدامات جو خواتین کی مانع حمل کی ذمہ داری بانٹتے ہیں اور ان کو حقوق دیتے ہیں وہ مناسب تناسب کے ساتھ آبادی پر قابو پانے کے کہیں بہتر نتائج برآمد کرسکتے ہیں۔

یہی بات اترپردیش اور آسام جیسی ریاستوں پر بھی لاگو ہوتی ہے جو لگتا ہے کہ تاریخ کے صفحات سے سبق نہیں لے رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 20014 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp