EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

دلیپ کمار کیا محض ایک عظیم اداکار ہی تھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دلیپ کمار کے مرنے کے بعد جب ان کی دیرینہ رفیق حیات اداکارہ سائرہ بانو نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا کہ ایک بہت اچھا انسان اس دنیا سے چلا گیا۔ تو مجھے یقین ہے کہ ان کی مراد عظیم اداکار دلیپ کمار ہی سے نہیں بلکہ ایک ایسے اعلی کردار انسان سے بھی تھی جس نے عملی زندگی کے اسٹیج پہ بھی اپنا کردار بہت عمدگی سے نبھایا۔

دلیپ کمار کی اداکاری، ادب نوازی، علمیت اور عمدہ انداز گفتگو سے کسی حد تو ہم سب ہی واقف ہیں۔ لیکن پچھلے دنوں ان کے متعلق گوگل سرچ کرتے ہوئے مجھ پہ ان کا ایسا روپ بھی منکشف ہوا جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اور وہ ہے ان کی بینائی سے محروم معذور بچوں سے ربط، محبت اور سرپرستی کا روپ۔ وہ بچے جنہیں معاشرہ ان کا جائز حق دینے کے لیے آسانی سے تیار نہیں، دلیپ کمار نے ان کی زندگیوں میں بولتی کتابوں سے رنگ بھرنے اور مالی وسائل، تعلیم اور ہنر سے ان کی زندگی خود کفیل بنانے کی ذمہ داری قبول کی۔ اور نیشنل ایسوسی ایشن آف بلائنڈ میں بطور چیئرمین رفاہی کام کیا۔

آخر انہیں بصارت سے محروم افراد سے اتنی دلچسپی کیونکر پیدا ہوئی؟ اس سلسلے میں دو واقعات ہیں جو انہوں نے اپنی سوانح عمری اور اپنے ایک انٹرویو میں بیان کیے۔

ان کی سوانح عمری کے مطابق جب دلیپ کمار کو 1951 میں فلم ”دیدار“ کے لیے ایک اندھے کا کردار ملا تو وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ ایک اندھا کے طور پہ وہ کس طرح کیمرہ کا سامنا کریں گے۔ اس وقت کے مشہور فلمساز محبوب نے انہیں بمبئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن میں بیٹھ کر بصارت سے محروم ایک فقیر کے مشاہدے کا مشورہ دیا۔ جس پر دلیپ کمار نے عمل کیا۔ اس فقیر کے مشاہدے کے دوران ایک اور بینائی سے محروم فقیر اس سے ملنے آیا۔ جب دلیپ نے اس سے بات کی تو اس نے دلیپ سے پوچھا ”تم کون ہو؟ تم ایک اداکار لگتے ہو جس کی فلم میں نے حال میں ہی دیکھی ہے۔“ دلیپ حیران ہوئے اور پوچھا ”تم نے کیسے فلم دیکھی؟“ اس پر اس نے جواب دیا۔ ”ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن ہم سوچ سکتے ہیں۔ محسوس کر سکتے ہیں۔ رو سکتے ہیں۔“

اس واقعہ نے دلیپ کمار پہ بہت کہرا اثر چھوڑا۔ اس کے کئی سال بعد جب انڈین کرکٹ کے سابق کیپٹن وجے مرچنٹ نے نیشنل ایسوسی ایشن آف بلائنڈ ( NAB) کی چیئرمین شپ کی آفر کی تو اس فقیر کا چہرہ ان کے سامنے آ گیا۔ لہٰذا فیصلہ کرتے ہوئے دل کی آواز اس آفر کے حق میں آئی کہ ”میں شامل ہو جاؤں تاکہ این اے بی کے پاس سرمایہ ہو۔ وہ (NAB) نابینا افراد کی مدد کرسکیں اور یہ ممکن ہو سکے کہ ان کی زندگیوں میں وقار، اپنی عزت نفس اور خود انحصاری پیدا ہو۔“

NAB کے چیئرمین کی حیثیت سے دلیپ نے پونا سے بمبئی تک ایک خاص ٹرین چلوائی جس میں وہ عام لوگوں کے ساتھ سوار ہوتے۔ اس طرح لوگوں کو اپنے پسندیدہ فلم اسٹار سے ملنے کا موقعہ ملتا۔ 1960 میں جب پہلی بار یہ ٹرین چلی تو NAB کو پچاس ہزار روپے کا فنڈ ملا۔ ہر سال دلیپ اور بہت سی فلمی شخصیات کو ٹرین میں سفر دعوت دیتے۔ مزاحیہ اداکار جانی واکر اپنی پر مذاق طبیعت کی وجہ سے ہمیشہ ہی میدان جیت لیتے۔ بعد میں دلیپ سے شادی کے بعد سائرہ بانو بھی اس شامل ہو گئیں جو بھی عوام کی توجہ کا مرکز ہوتی تھیں۔

بصارت سے محروم افراد کے مسائل سے ناتا کی ایک اور وجہ دلیپ کمار نے اپنے ایک انٹرویو میں اس وقت بتائی کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ ”ان کی زندگی میں نابینا بچوں سے رشتہ کس طرح جڑا؟ جس پر انہوں نے اپنے ایک قریبی دوست“ ایرانی ”کی زندگی کی کہانی بتائی جو نابینا ہو گیا تھا۔ بینائی کھونے کا دکھ ایرانی کو تو تھا۔ لیکن اس نے کسی طور اس کو قبول کر لیا۔ وہ کہتا کہ اتنے سال تو دیکھتا رہا صرف آنکھیں ہی تو نہیں پوری کائنات میرے ساتھ ہے۔

زندگی خوبصورت ہے۔ لیکن اس کی بیوی جیرو ایرانی اس کو برداشت نہ کر سکی۔ وہ بہت پریشان اور الجھی رہتی۔ ایک دن دلیپ کمار ان میاں بیوی کے ساتھ ہی تھے جب اس کی بیوی اپنے شوہر ایرانی کیان باتوں پہ پھٹ پڑی اور چلا کے کہا۔“ یہ جھوٹ بولتا ہے۔ بکواس کرتا ہے۔ ڈھونگ کرتا ہے۔ اس کی زندگی میں کیا خوبصورتی ہے۔ تم اندھے ہو تم دیکھ نہیں سکتے۔ ”دلیپ کمار کو اس واقعہ نے بہت متاثر کیا“ میں دنگ رہ گیا کہ کس طرح اس کی بیوی اپنے شوہر کے اندھے پن کا صدمہ برداشت نہ کر سکی۔ ”

اپنی آرگنائزیشن کے توسط سے دلیپ کمار نے چاہا کہ اگر بچے اپنی بینائی کھو دیں تو جیرو ایرانی کی طرح صدمہ ہی نہ اٹھاتے رہیں بلکہ زندگی کا لطف بھی اٹھائیں۔ اور NAB آرگنائزیشن کی ٹیپ شدہ کہانیوں اور تعلیمی کتابوں کا تجربہ کر سکیں۔ کہانیوں کے ذریعہ سمندر میں پانی کی آواز اور پرندوں کی آواز۔ ”کسی قسم کی تفریح جس میں دلبستگی کی لہریں طوفان کھڑا کردیں۔ جو ہم اداکار کرتے ہیں کہ محبت نہیں ہے جدائی نہیں ہے غصہ نہیں ہے لیکن

وہ بنا لیتا ہے موج خون دل سے اک چمن اپنا

اسی انٹرویو میں انہوں نے شہرت سے متعلق پوچھے جانے سوال کا جواب بھی دیا کہ ”شہرت دلفریب کیفیت ہے لیکن بہت خطرناک شہ ہے۔ آپ اس سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں لیکن یہ بہت کرپٹ کرنے والی چیز ہے۔ اور خطرناک بھی ہے۔“ دلیپ کمار نے اسی کرپشن سے بچنے کے لیے اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ سماج سے جڑنے کو ترجیح دی۔ جس سے انہیں بہت سکون ملا۔ گو انہوں نے مستقل دریا دلی سے لوگوں کی عملی طور پہ مدد کی لیکن 1992 میں بمبئی میں ہونے والے ہنگاموں میں تو ان کا گھر ریلیف کیمپ کی صورت اختیار کر گیا۔

بلا شبہ دلیپ کمار کو ان کی بہترین اداکاری پہ بلند ترین اعزازات سے نواز گیا لیکن ان کی انکساری اور انسان دوستی کے اعتراف میں ملنے والے ایوارڈ کا مول بھلا کہاں جو لوگوں کے دلوں میں راج کرنے کی صورت ہمیشہ رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے