کیا بھٹو غدار تھا؟


بھٹو غدار تھا میں نے بھی یہ سمجھا تھا۔ جب میں 10 سالہ ضیاء دور کے باقیات لکھاریوں اور صحافیوں کی تحریریں، ڈائجسٹ اور رسالے پڑھا کرتی تھی۔ اس وقت میں چھوٹی تھی۔ شعور نہیں رکھتی تھی اس طرح کی تحریریں پڑھ کر میں بھی برین واش ہوجاتی تھی بلکہ کافی بڑی عمر تک یہ سمجھتی رہی بھٹو قوم کا غدار اور لادین شخص ہیں۔ وہ شہید نہیں ہو سکتا ہے۔ لیکن جب میں شعور کی منزل کو پہنچی تو پتہ چلا کہ بھٹو تو ایک حریت پسند اور تاریخ میں زندہ رہنے والا ایک باب ہے۔

ایک تاریخ ہے بھٹو تو ایک نظریہ اور فلسفہ ہیں۔ لوگ بھٹو کو کبھی غدار بنا کر کبھی اپنے لیڈر کا قد کاٹ بھٹو جتنا کر کے بھٹو کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ بھٹو کو غدار کہنے والوں کو عوام نے جوتوں اور گندے انڈوں کی بارش سے تواضع کر کے بتا دیا کہ کشمیری عوام کے لئے ان کی خدمات کیا ہیں اور بھٹو کی کیا خدمات تھیں۔ بھٹو دور میں پاکستان کی عزت تھی ہر شہری سر اٹھا کر چلتا تھا ملک کی معیشت اب تک جس رمیڈنسی کی بیس میں چل رہی ہے وہ بھٹو کی مرہون منت ہے آج ملک میں آئین اور جمہوریت کی تھوڑی بچی کھچی شکل ہے وہ بھی بھٹوز اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہے بھٹو نے خود فوجی آمروں کے ساتھ کمپرومائز کرنے کی بجائے جان دے کر قوم کو ایک تحریک دی اور مزاحمت کا راستہ دکھایا بعض لوگ بھٹو پر پاکستان توڑنے کا الزام لگاتے ہیں اور اس وجہ سے سمجھتے ہیں بھٹو غدار ہے۔

حالانکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بھٹو ایک پاپولر عوامی لیڈر تھا اس وجہ سے ضیاء دور کی اسٹیبلشمنٹ نے بھٹو کو بدنام کرنے کے لئے مشرقی پاکستان کے توڑنے کا سارا ملبہ بھٹو پر ڈال دیا تھا۔ بنگلہ دیش بننے کی ایک وجہ شروع سے ہی وہ محرومیاں اور زیادتیاں تھی جو ہماری مغربی پاکستان کی قیادت نے بنگالی قوم کے ساتھ رواء رکھی تھیں جب ملک ٹوٹا اس وقت بھٹو اقتدار میں بھی نہیں تھا اس وقت صدر جنرل یحیٰی اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔

صدر جنرل یحییٰ کی ذمہ داری تھی کہ وہ اکثریتی پارٹی کو اقتدار حوالہ کرتے لیکن وہ صرف اپنا اقتدار مضبوط کرنا چاہتے تھے وہ اقتدار کسی بھی حالت میں عوامی لیڈروں کے حوالے کرنا نہیں چاہتے تھے۔ مشرقی پاکستان کے ٹوٹنے اور عوامی غم و غصے اور دباؤ کی وجہ سے صدر یحییٰ کی مجبوری بنی کہ وہ اقتدار بھٹو کے حوالے کر دیں بلکہ بھٹو نے تو اس بچے کھچے پاکستان کو بحران سے نکال کر لوگوں کو ہمت اور حوصلہ دیا اور پاکستان کو ترقی دی عزت دلوائی۔ بھٹو نے لوگوں کو بولنے اور جینے کے حقوق دیے۔

لوگوں کو شعور دیا جمہوریت اور آئین دیا غریبوں کو جینے کا حق دیا۔ ایٹم بم بنا کر دفاعی لحاظ سے پاکستان کو مضبوط کیا مزدوروں اور کسانوں کو مراعات دیں بھٹو نے اپنے دور حکومت میں ہمیشہ سے نچلے طبقے اور پسماندہ علاقوں کے لئے بہت کام کیا۔ ہمارے گلگت بلتستان کا علاقہ بہت پسماندہ تھا۔ گلگت کے بعض اضلاع میں راجہ سسٹم تھا وہ لوگوں پر بہت ظلم و ستم کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ راجے اپنے بچوں کے علاوہ دوسروں کو اچھی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے۔

بھٹو کا ان علاقوں کے لوگوں پر بڑا احسان یہ ہے کہ راجہ سسٹم کو ختم کر کے عام لوگوں کو حقوق دلوائے گلگت کے علاقے میں لوگوں کو ایک کلرک سے اوپر ترقی نہیں دی جاتی تھی سارے ایڈمنسٹریٹو آفیسرز پنجاب سے بھیجیں جاتے تھے۔ بھٹو نے اس نا انصافی کو ختم کر کے مقامی لوگوں کو ترقی دینے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے ۔ علاقے کی پسماندگی اور غربت کو دیکھ کر لوگوں کو آٹے اور تنخواہوں میں 25 پرسنٹ سبسڈی بھی دی گئی۔

جسے لوگ آج تک فیض یاب ہو رہے ہیں۔ بھٹو پاکستان کے پہلے سربراہ مملکت تھے جنہوں نے گلگت کا دورہ کیا گلگت کے گاؤں گاؤں میں جلسے کیے ۔ لوگوں کو سیاسی شعور دیا اور عوام سے براہ راست گل مل گئے۔ بھٹو کو لادین سمجھنے والے سن لو! بھٹو نے اپنے دور میں جو آئین بنایا وہ قرآن اور سنت کے مطابق بنایا سرکاری طور پر شراب اور جوئے پر پابندی عائد کر دی۔ بھٹو نے ملک میں اسلامی سربراہی کانفرنس کروائی۔ جب عرب اسرائیل جنگ ہوئی تو بھٹو نے فلسطینیوں کی مدد کے لئے دو فائٹر طیارے بھی بھیج دیے۔

قوموں میں بھٹو جیسے لیڈر صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں لیکن ہم نے اس کی قدر نہیں کی۔ ہم نے قتل کے ایک کمزور کیس کا مقدمہ بنا کر اس کو تختۂ دار پر چڑھایا۔ اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو بھٹو کو جس کیس پر موت کی سزا دی گئی تھی وہ اتنی کمزور تھی جس کی کوئی قانونی حیثیت ہی نہیں تھی لیکن جب طاقت کا اندھا استعمال ہو تو سب کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔ بھٹو کا عدالتی قتل ہمیشہ کے لئے ہماری عدالتوں کے لئے ایک سیاہ دھبہ ہے۔

بھٹو کے غدار ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ پاکستان کے مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کی بات کرتا تھا وہ یہ نہیں سمجھتا تھا کہ عوام شعور نہیں رکھتے ہیں ان کو ووٹ کا حق نہیں دیا جائے یا وہ یہ نہیں سمجھتا تھا کہ آئین کے ان دس بارہ صفحات کے کتابچہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ وہ آئین اور قانون کی بالادستی کو ہی مقدس سمجھتا تھا۔ ووٹ کو عوام کی طاقت اور عوام کو اپنی طاقت سمجھتا تھا۔ یہ اس شخص کے اتنے بڑے جرم تھے کہ اس کے بچوں تک کو جانوں کے نذرانے دینے پڑے۔ تاریخ میں بھٹو کو شہید ملت سے یاد کیا جائے گا جبکہ ہمارے ملک کا ایک خاص طبقہ آج بھی بھٹو کو غدار سمجھتا ہے۔

Facebook Comments HS