EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

عزت کی بھوک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس نحیف جسامت کے ساتھ بیس اینٹوں کو رسی سے باندھ کر اس نے کمر پر لادا اور زیر تعمیر چار منزلہ عمارت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ ابھی گرا ہی گرا۔ اس کے ساتھی ذو معنوی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا کام کرتے ہوئے اسے بھی کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے۔ آج اسے مستری نے طعنہ جو دے ڈالا تھا کہ یہ کیا بچوں کی طرح تین تین جوڑی اینٹیں لے آتا ہے؟ پھر دھیاڑ پوری مانگے گا دوسرے مزدوروں کی طرح۔ کام ان سے آدھا کرتا ہے۔

شرفو اپنے ہڈیوں کے ڈھانچے جیسے چہرے پر لگی بڑی بڑی آنکھیں پھاڑے خاموشی سے سب سن رہا تھا۔ جو پچکے گالوں پر پھیل کر پہلے سے کئی گنا بڑی دکھائی دے رہی تھیں۔ پھر کچھ یاد آنے پر یک دم اس نے اندر سے اٹھتی غصے کی آگ پر صبر کا پانی چھڑکا اور سر جھکا کر اپنی ہمت سے زیادہ اینٹیں اٹھانے چل پڑا کیونکہ وہ مشکل سے ہاتھ آئی مزدوری ہاتھ سے جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اسے کل رات سے بھوکے بچوں کے پیٹ کی آگ جو بجھانی تھی۔

خادم حسین نے اسے ہانپتے ہوئے اوپر جاتے دیکھا تو خاموشی سے اپنے حصے کی اینٹیں اٹھا کر اس کے ساتھ ہو لیا۔ وہ جانتا تھا کہ کس مشکل سے اس پر ترس کھاتے ہوئے اسے یہ مزدوری دلوائی ہے۔ ٹھیکیدار تو اس کی جسامت کو دیکھتے ہوئے اسے رکھنے کو تیار ہی نہ تھا۔ اس کے منتیں ترلے کرنے پر بمشکل راضی ہوا تھا۔

اچانک شرفو کو اینٹوں کا بوجھ ہلکا ہوتا محسوس ہوا، اس نے چونکتے ہوئے ذرا گردن موڑ کر دیکھا تو خادم حسین ایک ہاتھ سے اس کی اینٹوں کو سہارا دیتا نظر آیا۔ وہ شکر گزار نظر اس پر ڈال کر سر جھکائے آگے بڑھتا گیا۔ جب مستری کے پاس جا کر اینٹیں رکھیں تو وہ کبھی اسے اور کبھی اینٹوں کو حیران نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا؛ واہ بھئی لالے! تنکے میں اچھی خاصی جان ہے ابھی۔ یہ سن کر شرفو چھاتی چوڑی کرتا ہوا گردن اکڑا کر مڑ گیا لیکن سیڑھیاں آہستہ آہستہ اترنے لگا تاکہ اسی بہانے جسم کو دوبارہ وزن اٹھانے کے لیے تیار کر سکے۔

ادھر گھر پر شرفو کی چچیری بہن اس کی بیوی سے ملنے گئی تو اس کی اور گھر کی حالت دیکھ کر ششدر رہ گئی۔ اس نے قدرے اڑے رنگ والے تھری پیس لان کے سوٹ کا دوپٹہ ایک ادا کے ساتھ درست کیا اور ایک چھوٹا سا لال رنگ کا موبائل ایک ہاتھ سے دوسرے میں منتقل کرتے ہوئے ٹھنڈے اور صاف چولہے کو دیکھنے لگی۔ نظیراں نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا اور سمجھ گئی کہ مہمان پر گھر کا راز کھل گیا ہے۔ وہ فوراً اسے مخاطب کر کے حال احوال پوچھنے لگی۔

صغراں نے کمرے کے اطراف پر گہری نظر ڈالتے ہوئے اس کے سوال کا جواب دیا اور پوچھا، ”شرفو بھرا کدھر ہے؟“ نظیراں نے بتایا کہ بیماری سے کل ہی اٹھا تھا۔ آج مزدوری پر گیا ہے۔ لو جی! اب شرفو بھی مزدوری کرے گا۔ اسے کہاں عادت ہے، کیا ضرورت تھی بڑے بیٹے کا اتنی جلدی نکاح کرنے کی؟ چلا گیا ناں اپنی بیوی سمیت کراچی۔ اب تمہارے ہاتھ نہ آیا۔ بہتر ہے تو بھی میری طرح بڑی بڑی کوٹھیوں میں کام کر۔ دیکھ موج ہی موج ہے۔

دیکھ میرے کپڑے، موبیل یہ ٹور، پیسہ، سب اپنی محنت ہے۔ نظیراں جو اسے دیکھ کر پہلے ہی مرعوب نظر آ رہی تھی اور بھی دب گئی۔ کہنے لگی کہ شرفو آتا ہے تو بات کرتی ہوں۔ تو چائے پیئے گی؟ صغراں نے ناک چڑھاتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا اور بولی ابھی کوٹھی سے دودھ پتی اور ڈبل روٹی کے پیس کھا کر آئی ہوں مجھے کوئی طلب نہیں چائے شائے کی۔ میں چلتی ہوں، سنا تھا شرفو بیمار ہے اس لیے پوچھنے آ گئی تھی۔ میں چلتی ہوں تجھے نوکری کی اجازت ملی تو چھوٹے بیٹے کے ہاتھ سویرے سویرے پیغام بھیج دینا، میں کوئی انتظام کر دوں گی۔

شرفو جب تھکا ہارا ہاتھ میں آٹے اور دال کے شاپر اٹھائے گھر میں داخل ہوا تو چاروں بچوں کی آنکھوں میں چمک آ گئی کہ آج پیٹ بھر کر روٹی ملے گی۔ گیارہ سالہ بڑی بیٹی نے باپ کے ہاتھ سے سامان لیا اور چھوٹا بیٹا پانی دینے کے لیے بڑھا۔ جتنی دیر میں ایک کمرے کے مکان کے چھوٹے سے صحن میں ماں نے کھانا تیار کیا اتنی دیر بچے کھانے کی خوشبو کو اپنے اندر اتارتے ہوئے باپ کے بازو اور ٹانگیں دبا رہے تھے۔ باپ تھکن سے چور لیکن بظاہر ایک اکڑ کے ساتھ لیٹا تھا۔

بچے اس کی بیماری کے دوران دبانے کے اتنے عادی ہو چکے تھے اور بھوک کے مارے آنتوں کی وہ حالت تھی کہ باپ کی اکڑ کی طرف ان کا دھیان ہی نہ تھا۔ پھر باپ نے اپنی چارپائی پر اور باقی سب نے چولہے کے گرد بیٹھ کر پیٹ کی آگ بجھائی۔ اس وقت بھی نظیراں کو کل کی فکر تھی کہ اگر تھکاوٹ سے شرفو کو پھر بخار چڑھ گیا تو ہفتہ بھر اترنے کا نہیں۔

اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ رات شرفو کو اس قدر شدید کھانسی کا دورہ پڑا کہ نظیراں کی آنکھ کھل گئی اور وہ جلدی سے پانی لینے کے لیے دوڑی۔ پانی پی کر شرفو کی جان میں کچھ جان آئی۔ بیوی نے جب اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو وہ بخار میں تپ رہی تھی۔ اسے صغراں کی باتیں یاد آنے لگیں۔ اس وقت تو شوہر کو بخار کی آخری بچی ہوئی گولی پانی کے ساتھ کھلا کر سلا دیا لیکن صبح سویرے جب دیکھا کہ شرفو کام پر جانے کے قابل نہیں تو اس سے بات کر کے بیٹے کو پیغام دے کر بھیجا کہ پھوپھی صغراں کو بول کہ اماں کے لیے کام تلاش کرے۔

اگلے ہی دن وہ صبح سویرے کام سمیٹ کر بچوں کو ہدایات دیتی صغراں کے ساتھ کوٹھی پر کام کرنے نکل کھڑی ہوئی۔ سارا دن کمر توڑ کام کر کے دو تین میل پیدل چل کر جب گھر پہنچی تو شرفو قدرے پریشان بیٹھا تھا کہ اتنی دیر اچھی نہیں، کہیں بیوی اب ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اس لیے اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی بولا، ”ہاں بھئی اج دی کی رپورٹ اے؟“ ۔ وہ اس کے سوال پر قدرے حیران ہوتی ہوئی، بیٹی کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتی دن بھر کی روداد سنانے لگی۔

اسی دوران شرفو کی بہن کا فون آیا تو اسے اکڑ کر بتانے لگا کہ ذرا طبعیت ٹھیک نہیں اس لیے مزدوری پر آج نہیں گیا۔ بچے ٹھیک ہیں۔ نظیراں بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔ اس کو بڑی کوٹھیوں میں کام ملا ہے۔ چھوٹے موٹے مکانوں میں نہیں۔ یہ باتیں سنتے ہوئے بیوی نے مسکراتی نظروں سے شوہر کو دیکھا اور تھکن کو بھول بھال کر سیدھی ہو بیٹھی۔

اس رات شرفو سکھ کی نیند سویا کہ اب مزدوری ملے نہ ملے گھر چلتا رہے گا۔ بس نظیراں کو کام کرتے رہنا چاہیے لیکن اس کا دبا رہنا بہت ضروری ہے اسی میں میری عزت ہے۔ صبح اس نے اونچی آواز میں سب کو جاگنے کا کہا اور خود کھانسنے لگا۔ بیوی کو بولا کہ جلدی کام پر جا تاکہ وقت پر واپس آ سکے۔ ادھر بیوی اس سوچ پہ مسرور کہ شوہر کو میرا کتنا خیال ہے! اور کیوں نہ ہو، آخر کو وڈی! کوٹھی میں کام کرتی ہوں۔ کسی چھوٹی موٹی جگہ نہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے