EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ذبح عظیم اور توحید کی بازیافت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحابہ (رض) اگرچہ رسالت مآب (ص) سے بہت کم سوال کیا کرتے تھے، لیکن قربانی کے بارے میں جب آپ (ص) سے استفسار کیا جاتا تھا کہ: ”ما ہذہ الاضاحی، یا رسول اللہ (ﷺ) ؟“ اے اللہ کے رسول (ص) ! ہم جو یہ قربانی کرتے ہیں، یہ کیا ہے؟ رسول اللہ (ﷺ) جواباً فرمایا کرتے تھے کہ ”سنت ابیکم ابراہیم (ع) !“ یعنی یہ آپ کے باپ، ابراہیم (ع) کی سنت ہے! مطلب صاف ظاہر ہے کہ صحابہ (رض) سوال برائے سوال نہیں کرتے تھے۔ ان کی غرض و غایت یہ معلوم کرنا ہوتی تھی کہ قربانی کی شروعات کہاں سے ہوئی ہے۔

اصل میں قربانی ابراہیم (ع) کی اس عظیم سعی و جہد کی یادگار ہے جو آنجناب (ع) نے توحید کی بالادستی کے لئے عالمگیر پیمانے پر انجام دی ہے۔ اسی لئے اس کو قرآن نے ”ذبح عظیم“ (قرآن، 37 : 107 ) قرار دیا ہے اور آنے والوں کے لئے یادگار کے طور پر جاری کیا ہے۔ اس طرح یہ قربانی اس جدوجہد کا نقطہ عروج ہے جو ابراہیم (ع) نے توحید کی بازیافت کے لئے انجام دی۔

ابراہیم (ع) کی کاوش کے نتیجے کو بازیافت اس لئے کہا جاسکتا ہے کیونکہ آدم (ع) نہ صرف یہ کہ انسانیت کے حیاتیاتی پیشوا ہیں بلکہ وہی اس کے روحانی باپ بھی ہیں، جنہیں توحید کی مکمل روشنی اور ہدایت کے ساتھ زمین پر بھیجا گیا تھا۔ یہ دوسری بات ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ انسانیت نے توحید کے سبق کو بھلا دیا اور اپنے لئے نت نئے خدا تراش لئے۔ ابراہیم (ع) کی حیات مبارکہ توحید کے اسی سبق کو انسانیت کو ذہن نشین کرانے میں صرف ہوئی۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک اولوالعزمی کا کام تھا جس کے لئے آنجناب کو نت نئی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ جب آپ (ع) نے اس راہ کے ہر امتحان میں سرخروئی حاصل کی، تو اللہ تعالٰی نے اعلان فرمایا کہ ”ہم نے ابراہیم کو مختلف باتوں (احکامات) میں آزمایا اور اس نے ان کو مکمل کیا۔“ (قرآن، 2 : 124 )

جس زمانے میں ابراہیم (ع) کو توحید کی بالادستی کے لئے مبعوث کیا گیا، اس وقت صرف آپ (ع) کی ذات گرامی خدا یا حقیقت اعلی کے بارے میں باقی دنیا سے مختلف تصور رکھتی تھی۔ باقی دنیا شرک اور توہمات کی بھول بھلیوں میں کھو چکی تھی۔ ابراہیم (ع) نے شرک کے کارندوں کو ہرانے کے لئے جو دلائل پیش کیے ان سے خوب واضح ہوتا ہے کہ پوری دنیا کی مذہبی صورت حال کیا تھی۔ یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ تقریباً تمام انسانیت شرک کے گھپ اندھیرے میں کھو چکی تھی۔ مصر، یونان، میسو پوٹیمیہ اور ہڑپہ کے مذہبی خد و خال تقریباً ایک جیسے تھے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماہرین آثار قدیمہ نے ہڑپہ میں ایک چھوٹا مجسمہ اور کچھ دو ہزار کے قریب مہریں دریافت کیں۔ ان میں سے اس مجسمے کو علماء بشریات نے ”رقاصہ یا ڈانسنگ گرل“ کا مجسمہ قرار دیا ہے۔ ہڑپہ کی یہ مذہبی صورتحال اس وقت کے مشرق وسطی سے ملتی جلتی ہے جہاں اسی زمانے میں پیشہ ور رقاصاوں نے مندروں کو قحبہ خانوں میں تبدیل کیا تھا۔ بابل میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران نکلنے والے کتبات میں تقریباً پانچ ہزار بتوں کے نام ملے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ بابل والوں نے تو نباتات کو بھی خداؤں کا درجہ دیا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ رومی شاعر بوفنال نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے : ”اس قوم کی سادہ لوحی پر قربان جائیے جس کے معبود کھیتوں میں اگتے ہوں۔“ اسی مذہبی ماحول کو تہہ و بالا کرنے کے لئے اللہ تعالٰی نے اس تہذیب کے ایک مشہور مرکز یعنی ”ار“ ، جو دریائے فرات کے کنارے آباد تھا، میں ابراہیم (ع) کو پیغمبر بناکر بھیجا۔ آنجناب (ع) نے تن تنہا اس صورت حال کو کچھ اس طرح للکارا کہ ان کو ”اپنے آپ میں ایک امت“ (قرآن، 16 : 120 ) قرار دیا گیا۔

ابراہیم ( ع) نے وقت کی ایک اعلی تہذیب کے علمبرداروں کو، جو دراصل شرک کے سرپرست تھے، اللہ تعالٰی کے عطا کردہ دلائل اور براہین سے کچھ اس طرح ششدر کیا کہ وہ لاجواب ہو گئے۔ حاکم وقت کے سامنے ابراہیم (ع) نے جس جرآت کا مظاہرہ کرتے ہوئے توحید کی حجت قائم کی اس کو قرآن نے بین الفاظ میں محفوظ کیا ہے۔ قرآن نے اس مکالمے کو کچھ اس طرح پیش کیا ہے : ”کیا تو نے اسے نہیں دیکھا جو سلطنت پاکر ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ وہ کہنے لگا: میں بھی زندہ کرتا ہوں مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا: اللہ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے تو اسے مغرب کی طرف سے لے آ۔ اب تو وہ کافر ہکا بکا رہ گیا اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ (قرآن، 2 : 258 )

اس سماج کے نچلے طبقے کی حالت ابراہیم (ع) کے دلائل کے سامنے اور بھی ناگفتہ بہ تھی۔ یہ لوگ دل ہی دل میں اپنی ہار کو تسلیم کرچکے تھے اور ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ: ”پس یہ لوگ اپنے جی میں سوچنے لگے اور کہنے لگے : واقعی ظالم تو تم ہی ہو۔“ (قرآن، 21 : 64 ) لیکن شرک کی بنیاد پر کھڑے اس نظام کو سہارا دینے کے لئے یہ لوگ یک جٹ ہوئے۔ ”کہنے لگے کہ اسے جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔

“ (قرآن، 21 : 68 ) مطلب صاف ظاہر تھا کہ یہ لوگ ابراہیم (ع) کے خلاف اپنا آخری داو کھیل رہے تھے کیوں آنجناب کی حجت الزامی پر مبنی دلائل اور براہین نے ان کو بے بس کر دیا تھا۔ اس صورت حال میں ابراہیم (ع) کو اللہ تعالٰی نے معجزاتی طور پر بچالیا۔ اس کے بعد آپ (ع) نے اللہ کے حکم کے تحت مختلف علاقوں میں توحید کے مختلف مراکز قائم کیے۔

ابراہیم (ع) نے اپنی اولاد کے ایک حصے یعنی اسحاق (ع) کو فلسطین میں آباد کیا۔ یہاں آپ کے بیٹے یعقوب (ع) ، جو تاریخ میں اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئے اور ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی، نے توحید کی شمع کو فروزاں کیے رکھا۔ انہی کی اولاد میں بنی اسرائیلی انبیاء (ع) کا سلسلہ الذہب چلا جو عیسی (ع) پر ختم ہوا، جن میں داؤد (ع) ، سلیمان (ع) اور موسی (ع) سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ تاہم ان انبیاء (ع) کے پیروکاروں میں سے موسی (ع) کے ماننے والوں نے صاف اور ستھری توحید کی تعلیمات کو ایک نسلی مذہب میں تبدیل کیا، جبکہ عیسی (ع) کے پیروکار اس کو اگرچہ ایک عالمگیر شکل دینے میں کامیاب ہوئے لیکن یہ لوگ یونانی اور رومی دنیا میں موجود تمام مشرکانہ روایات کے اثرات سے توحید کے اس خالص نظریے کو محفوظ نہ رکھ سکے۔ عیسائیت کو مختلف نظریات کا ایک ملغوبہ بنانے میں یونانیت یعنی ہیلنزم کا ایک بڑا کردار رہا ہے۔

تاہم ابراہیم (ع) کی توحید کی خاطر سعی و جہد کو بار آور کرنے اور اس تحریک کو عالمگیریت کے ساتھ ساتھ ابدیت بخشنے کے لئے اللہ تعالٰی نے آپ (ع) کی حیات مبارکہ ہی میں انتظام کر رکھا تھا۔ اس مقصد کی خاطر ابراہیم (ع) نے اللہ تعالٰی کے حکم کے تحت اپنی اولاد کے ایک اور حصے یعنی اسماعیل (ع) کو مکہ المکرمہ کی بے آب و گیاہ وادی میں بسایا۔ یہ وادی اس وقت کی تہذیبی چکا چوند، جس میں شرک کو مرکزی اہمیت حاصل تھی، بالکل صاف اور پاک تھی۔

فطرت کے اس ستھرے ماحول میں پلنے والا کوئی بھی انسان یہاں پر توکل علی اللہ کا درس لے سکتا تھا اور توحید الہی کے رموز اس پر آشکار ہوسکتے تھے۔ چونکہ یہ علاقہ حیات انسانی کے لئے درکار تمام تر سہولیات سے خالی تھا، اس لئے ابراہیم (ع) کو یہی بات تمثیلی انداز میں اس طرح بتائی گئی کہ آنجناب خواب میں اپنے فرزند، اسماعیل (ع) کو قربان کر رہے ہیں۔ تاہم آنجناب (ع) نے نہ صرف یہ کہ خواب کو سچ کر دکھایا بلکہ اصل مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالٰی کے حکم سے بیت اللہ کی تعمیر نو کر کے اسماعیل (ع) کو اس کی نذر کر دیا۔ ربانی منصوبہ بندی کے تحت دراصل ابراہیم (ع) مکہ میں توحید کا ایک گہوارہ (نرسری) تعمیر کر رہے تھے تاکہ وہاں ایک ایسی نسل پروان چڑھ سکے جو شرک کی تمام آلائشوں سے پاک ہو۔ ابراہیم (ع) کی یہ دعا اسی مقصد کی جانب اشارہ کر رہی ہے :

”ابراہیم کی یہ دعا بھی یاد ہے جب انہوں نے کہا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن والا بنا دے، اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے پناہ دے۔ اے میرے پالنے والے معبود! انہوں نے بہت سے لوگوں کو راہ سے بھٹکا دیا ہے، پس میری تابعداری کرنے والا میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو بہت ہی معاف اور کرم کرنے والا ہے۔“ (قرآن، 36، 14 : 35 )

دعا کے الفاظ سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ کس طرح ابراہیم (ع) شرک کے مختلف مظاہر جن میں اصنام اور مجسموں کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، سے اللہ تعالٰی کی پناہ چاہتے ہیں۔ یہاں پر آنجناب (ع) کی وہ دعا بھی قابل ذکر ہے جو آپ نے آخری امت کے لئے آخری رسول (ﷺ) کی بعثت کے لئے فرمائی۔ دعا کے الفاظ کچھ اس طرح کے ہیں : ”اے ہمارے رب! ان میں انہیں میں سے رسول بھیج، جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبے والا اور حکمت والا ہے۔“ ( 2 : 129 )

موحدین کی یہ جماعت ابراہیم (ع) کی دعا کے 2500 سال بعد آخری رسول (ص) کے گرد جمع ہوئی۔ اس جماعت کو ابراہیم (ع) کی دعوت توحید کے اصلی اور آخری وارث، محمد عربی (ﷺ) نے سنوارا اور اس کے عقائد کو ابراہیمی خطوط پر استوار فرمایا۔ نبی (ﷺ) کے تزکیہ کے ذریعے اس جماعت کی توحیدی روح اس طرح بیدار ہوئی کہ انہوں نے بالکل ابراہیم (ع) کی طرح مکمل طور پر کعبے کی تطہیر کی۔

ابراہیم (ع) کے انہی وارثوں کو ”خیر امت“ کہا گیا اور انہی کے لئے کہا گیا کہ ”اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے!“ توحید کے انہی علمبرداروں نے بازنطینی اور ساسانی سلطنتوں کا صدیوں سے جاری رکھا ہوا مذہبی جبر (ریلیجس پرزیکیوشن) ختم کیا۔ انہی حضرات نے توحید کو ابراہیم (ع) کی طرح ایک عالمگیر تحریک بنا دیا اور اس کو اللہ کے اذن سے ابدیت سے بھی ہمکنار کیا۔ اس طرح ابراہیم (ع) کی قربانی کو ”ذبح عظیم“ قرار دینا اور اس کو ”آنے والوں کے لئے باقی رکھنا“ اسی عالمگیریت اور ابدیت کا ایک تمثیلی اظہار ہے جس کی بازیافت ابراہیم (ع) کی ذات والا صفات نے فرمائی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے