EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

گئے ہوﺅں کی خیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر استاد یحییٰ آفندی شاہجہاں کو دستیاب نہ ہوتا تو کیا تمام شاہی وسائل کے باوجود تاج محل آگرہ کی تعمیر ممکن تھی؟ کئی تعمیراتی فن پارے کسی ”شاہجہاں“ سے ٹاکرا نہ ہونے کے باعث فنکاروں کے دل و دماغ میں ہی رہ جاتے ہیں۔ استاد یحییٰ آفندی نے تاج محل بیس ہزار مزدوروں، ہنرمندوں کی مدد اور کثیر لاگت سے بائیس برس میں مکمل کیا۔ باون ایکڑ رقبہ پر مشتمل یہ عمارت شاہجہاں اور ملکہ ممتاز کا مدفن ہے۔ ملکہ ممتاز محل چودہویں بچے کی پیدائش پر اپنی زندگی ہار بیٹھی تھی۔ تاج محل عشق کی دو کہانیوں کا نام ہے۔ شاہجہاں کا اپنی ملکہ سے عشق اور استاد یحییٰ کا اپنے فن تعمیر سے عشق۔ ساحر لدھیانوی کو اس شاہی عشق کے اظہار میں زروسیم کے انبار کھٹکتے تھے۔ وہ تاج محل آگرہ کو اک اور نظر سے دیکھ رہا تھا۔ اللہ کی زمین پر اللہ کے بخشے ہوئے رزق کی غلط تقسیم پر معترض نظر۔

یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل    

یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

ساحر یہ رائے کیوں قائم کرتا ہے؟وجہ بھی اسی کی زبانی پڑھ لیجئے۔

میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی

جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل

ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود

آج تک ان پر جلائی نہ کسی نے قندیل

گوجرانوالہ کے ایک ماہر فن تعمیرات مبین ملک کی پوسٹیں دیکھتے ہوئے دھیان یونہی تاج محل آگرہ کی طرف چلا گیا۔ مبین ملک اپنے پیج پر اپنی بنائی ہوئی ’منقش در و دیوار محراب و طاق ‘ کی تصاویر لگاتا رہتا ہے۔ ہم شاہ پسند اور محل پسند لوگ ہیں۔ اپنی بے گھری اور بے سرو سامانی میں بھی ہمیں جاتی عمرہ اور بنی گالہ کے محلات بھلے لگتے ہیں۔ شاید ’،میرے پیر دا اُچا بنگلہ ‘ گاتے ہوئے اپنی بے گھری کا دکھ قدرے ماند پڑ جاتا ہے۔ کیا ہوا جو ہماری کٹیا کو مٹی کے تیل کا دیا تک میسر نہیں۔ ہمارے سیاسی قائد کا گھر تو بجلی کے  چراغوں سے روشن ہے۔

چند روز پہلے مبین ملک نے اپنے پیج پر ایک پوسٹ لگائی۔ یہ ایک گھر کا کونہ ہے۔ مختصر سے سرسبز لان کے ساتھ گھر کی خوبصورت بیرونی دیوار دکھائی دے رہی ہے۔ گھر سے باہر پس منظر میں اندھیرا گہرا ہے۔ گھر کے اندر میٹھی میٹھی روشنی کا سماں ہے۔ چند خالی کرسیاں ہیں۔ یہ آنے والوں کی منتظر دکھائی دے رہی ہیں۔ ابھی ان کرسیوں سے کچھ لوگ اٹھ کر گئے ہوں گے۔ کچھ اورلوگ آنے والے ہوں گے۔ یہی زندگی ہے۔ یہی دنیا ہے۔

یہ جہاں یونہی رہے گا اور ہزاروں جانور

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے

کالم نگار نے مبین ملک کی پوسٹ پر لکھا۔ ”کچھ لوگ ابھی یہاں سے اٹھ کر گئے ہیں۔ کچھ آنے والے بھی ہیں۔ آنے والوں کی خیر۔ گئے ہوﺅں کی خیر“۔ اب اللہ جانے یہ کس کا گھر ہے؟ کہاں واقع ہے؟ کس شہر میں کس بستی میں کس نگری میں؟ کون اٹھ کر گئے؟ کون آنے والے ہیں؟ پانچ سو برس قبل مسیح لکھی گئی کتاب ”مکالمات افلاطون “ میں درج ہے۔

میں صرف یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا“۔ علامہ اقبالؒ نے بھی علم کی انتہا کو حیرت ہی لکھا ہے۔ لیکن باب علم تو آگہی کا در کھولتا ہے اور علم کے شہر میں اگر حیرت ہے تو وہ حیرت علم کی وسعت پر ہے۔ شاید اقبالؒ یہی کہنا چاہتا تھا۔

اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں

تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے

شاعر لاہور شعیب بن عزیز کا چھوٹا بھائی نعمان بن عزیز پچھلے دنوں موت کی ان گمنام وادیوں کو چل دیا جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ اس کی محبت میں مٹھاس چوری کے گُڑ کی طرح کچھ زیادہ ہی تھی۔ یہ اللہ کی زمین پر ازلی میزبان تھا۔ جس گھر میں خود مہمان ٹھہرتا وہاں بھی میزبان بن بیٹھتا۔ گھر والے بھی اس کو میزبان محسوس کرنے لگتے، ہر دم ہر ایک کی خدمت اور دلجوئی کو تیار۔ سچی بات ہے کالم نگار اس کی محبت، تپاک اور مہمان گیری کی شدت سے جھنجھلا اٹھتا تھا۔ کالم نگار کو خود خدمت گار بننا اچھا لگتا ہے۔ دوستوں کا، اپنے بچوں کا، اپنے مہمانوں کا، اپنے ملنے والوں کا۔

نعمان بن عزیز کا چہلم تھا۔ کالم نگار کو مسجد کے دروازے پرایک نوجوان نے روکا۔ پوچھنے لگا۔ کیا ”آپ علامہ عزیز انصاری مرحوم و مغفورکے صاحبزادے ہیں“؟ یہ والد محترم کے یار جانی پاسبان بینک والے شیخ منصور کا بیٹا تھا۔ اللہ شیخ منصور کی قبر نور سے بھرے۔ والد محترم شیخ منصور کو شہر نور کہا کرتے تھے۔ وہ یہ بھی کہا کرتے اک منصور وہ تھا جس نے کہا کہ میں خدا ہوں۔ ایک منصور یہ ہے جو کہتا ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں۔ پھر یہ توحید گھاٹے کا سودا بھی نہیں۔ اقبالؒ نے توحید کی افادیت یوں سمجھائی ہے۔

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے             

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

شیخ منصور نے گوجرانوالہ کی سیاست کو ایک نئی راہ دکھا دی تھی۔ اب اس راہ پر چلنا یا نہ چلنا شہریوں کا کام ہے۔ راہ دکھانے والا راہ دکھا کر باون برس کی عمر میں دوسری دنیا کو چل دیا۔

کام تھے عشق میں بہت پر میر

ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے۔

شیخ منصور جی نہ رہے۔ والد محترم نہ رہے۔ سب کا پیارا نعمان بن عزیز نہ رہا۔ رہے نام اللہ کا۔ گئے ہوﺅں کی خیر۔ اللہ ان سب کی مغفرت فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے