جام پور کو صاف پانی دیں، اپیل بنام گورنر پنجاب
لاہور شہر کی ہر یونین کونسل میں لگے واٹر فلٹریشن پلانٹ، پکی سڑکیں اور انتظامی معاملات دیکھ کر بڑا دل چاہتا ہے کہ کاش ہمارے ہاں بھی اتنی ہی انتظامی پھرتی ہو۔ کاش ہمارے ہاں بھی ہمارے وسائل کا استعمال ہمارے اوپر ہو۔ پنجاب کے سب سے آخری ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور کی بات کی جائے تو دس لاکھ نفوس پر مشتمل یہ تحصیل لاہور کے 9 ٹاؤنز میں کسی بھی ٹاؤن کی آبادی جتنی ہے اتنی ہی اس پسماندہ ترین تحصیل کی ہے۔ جام پور جو کہ ضلع راجن پور کی چار تحصیلوں میں سے ایک تحصیل ہے کی سرحد جہاں ایک طرف دریائے سندھ کے ذریعے مظفرگڑھ سے ملتی ہے وہیں مغرب میں کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں کے ذریعے بلوچستان تک وسیع ہے۔
جناب گورنر صاحب 21 یونین کونسلز پر مشتمل جام پور شہر کی ہی آبادی 7 لاکھ سے زیادہ ہے، دو ہزار 10 میں آنے والے سیلاب کے بعد جہاں سیلابی پانی کا مہینوں اس شہر سے اخراج نہ ہونے اور شہر بھر کے سیوریج بھرے پانی کی وجہ سے نہ صرف سطح زمین کے نیچے پانی کا لیول کم ہوا بلکہ شہری علاقوں میں پانی پینے کے قابل نہیں رہا۔ گورنر صاحب آپ کے صوبہ پنجاب کے لئے خدمات کو اتنی ہیں کہ لکھنا بیٹھیں تو صفحات کم پڑ جائیں مگر پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے کارنامہ اور لگن کی تو بات جداگانہ ہے۔ آپ کے پچھلے دور میں لاہور سمیت پنجاب بھر کے مختلف علاقوں میں پینے کے صاف پانی کے حوالے سے نہ صرف واٹر فلٹریشن پلانٹ لگے بلکہ ان کو فعال رکھنے میں آپ کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
گورنر صاحب آپ کے متحرک ہونے کے بعد جام پور کی سات لاکھ آبادی کو بتدریج سات واٹر فلٹریشن پلانٹ نصیب ہوئے جو کہ آبادی کے لحاظ سے تقسیم کیے جائیں تو ایک لاکھ نفوس کو صرف ایک واٹر فلٹریشن پلانٹ دستیاب ہے جو کہ گورنر صاحب اگر 24 گھنٹے فل کپیسٹی پر بھی چلایا جائے تو بمشکل ایک سے دس ہزار کی آبادی کے لئے صاف پانی کی پروڈکشن کر سکتا ہے۔ باقی 90 ہزار شہریوں کو اسی زہریلے، بدبودار اور غیر صحت مند پانی پر گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ شہر کا صرف تیس فیصد حصہ سیوریج سسٹم سے منسلک ہے۔ 30 فیصد اس وجہ سے کہ یہ وہ علاقہ ہے کہ جہاں سے سیوریج لائنوں سے پانی پمپ کر کے ڈرین کیا جاتا ہے باقی علاقوں میں مقامی آبادی کے ہی خالی پلاٹوں یا رقبوں میں ہی سیوریج کا پانی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پہلے سے ہی زہریلے پانی میں سیوریج والا پانی ملنے کی وجہ سے جام پور میں ہیپاٹائٹس سی جیسی بیماری نے اب ہر گھر کو مسکن بنالیا ہے۔
گورنر صاحب آپ کا اقبال بلند ہو اس شہر نے عمران خان کی قیادت پر بھروسا کرتے ہوئے نہ صرف آپ کی جماعت کے ایم این اے بلکہ ایم پی اے کے لئے بھی آپ ہی کی جماعت کے امیدوار کو ووٹ دے کر جتوایا۔ جناب گورنر صاحب زہریلے پانی کی وجہ سے ہیپاٹائٹس سے لڑ رہے اس شہر کو آپ کی ضرورت ہے، آپ چیئرمین آب پاک اتھارٹی ہیں، آپ کے صادر کیے گئے احکامات پر فوری عمل ہوگا۔ آپ اس شہر کی ہر یونین کونسل کے لئے کم سے کم دو واٹر فلٹریشن پلانٹس کی منظوری دیں، نہ صرف منظوری دیں بلکہ ان کی تنصیب کے ساتھ ساتھ افتتاح جیسے کار خیر میں شرکت کریں۔ بے شک جنوبی پنجاب کے لوگ وفادار اور مخلص ہوتے ہیں آپ لوگوں کی جانب سے کیے گئے اس اقدام کا انتخابات میں آپ کی پارٹی کو ووٹ دے کر شکریہ ادا کیا جائے گا۔
یہاں میں وزیراعلی پنجاب جناب عثمان بزدار صاحب کی بھی توجہ چاہوں گا، جناب وزیراعلی صاحب جیسا کہ آپ خود بھی جنوبی پنجاب کے ہیں اور اس علاقے کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور آپ کو جام پور کے حالات کے حوالے سے بریف کیا جا چکا ہے۔ جناب وزیراعلی صاحب اپنے ضلع سے بھی زیادہ آبادی اور رقبہ والی اس تحصیل کو انتظامی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ رقبے کے لحاظ سے بڑی تحصیل ہونے کی وجہ سے آپ کی سول انتظامیہ کے بس کی بات ہی نہیں ہے کہ اگر ایک ایک علاقے میں ایک ایک گھنٹے کے لئے بھی جائیں تو پورا دن گزر جائے گا مگر پوری تحصیل کے علاقوں کا وزٹ ہی نہیں ہو سکے گا۔
جناب وزیراعلی صاحب اس شہر کو آپ کی ذاتی دلچسپی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اسی ایک تحصیل کے علاقے داجل، محمد پور، کوٹلہ مغلاں ہی تحصیل کا درجہ پانے کے اہل ہیں اور ان تمام میرٹس پر پورا اترتے ہیں جو پنجاب حکومت کے قوانین کے مطابق ایک ضلع اور تحصیل کے لئے لازمی ہوتے ہیں۔ میری گورنر پنجاب اور وزیراعلی پنجاب سے دس لاکھ کے نفوس کی طرف سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے کہ ہمیں ہیپاٹائٹس اور انتظامی بحران سے نکالیں اور ہمیں صاف پانی، سیوریج سسٹم اور فعال انتظامی ڈھانچہ جیسا بنیادی حق فراہم کریں۔


