قوس قزح کے سب رنگ


کہتے ہیں کہ کتاب سے اچھا دوست کوئی نہیں ہے۔ صاحبان ذوق اور اہل علم حضرات اس قول کی صداقت کے پوری طرح قائل ہیں۔ ہمیشہ سے کتب بینی یا مطالعے سے شغف ہونا پڑھے لکھے ہونے کی نشانی تصور کیا جاتا رہا ہے۔ کسی دور میں مطالعہ صرف علم میں اضافے کا سبب ہی تصور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ یہ فاضل وقت گزارنے کے لیے ایک بہترین مشغلہ بھی سمجھا جاتا تھا۔ یہ صدی سائنسی ترقی اور اس کے عروج کی صدی ہے۔ اس دور میں علم کے اضافے اور وقت گزاری کے لیے اب صرف کتابیں ہی نہیں ہیں بلکہ سائنس کی ترقی کی بدولت دیگر کئی ذرائع بھی وجود میں آچکے ہیں مثال کے طور پہ الیکٹرانک میڈیا۔ جس کے سبب کچھ لوگوں کے خیال میں کتاب سے رغبت کم بلکہ خاصی کم ہوئی ہے۔ شاید یہ بات بہت حد تک درست بھی ہے کہ;

”کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی ”

کتابوں کے بارے میں جب بھی کسی سے بات کی جائے اکثر و بیشتر یہ ہی سننے میں آتا ہے کہ کتب بینی کا شوق ختم ہو رہا ہے۔ اب لوگ کتابیں نہیں پڑھتے لیکن اس مفروضے کو انہی دنوں شائع ہونے والے کتابوں کے ایک سلسلے نے غلط ثابت کر دکھایا ہے۔ اس کتابی سلسلے کی ہر جلد کو لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ یہ کتابیں اس قدر فروخت ہوئی ہیں کہ ریکارڈ توڑ دیا۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن چار ہفتوں میں فروخت ہو گیا تھا۔ شاید لوگوں کی اکثریت کے لیے یہ بات ناقابل یقین ہو مگر واقعتاً ایسا ہوا ہے۔

یہ ذکر ہے ”سب رنگ کہانیاں“ کا۔ یہ سب رنگ ڈائجسٹ کی منتخب کہانیوں پر مبنی کتابی سلسلہ ہے کہ جس کی چوتھی جلد اب آنے کو ہے۔ اس کتاب نے یہ ریکارڈ قائم کیا ہے کہ اس کا پہلا ایڈیشن اس کی اشاعت کے چار ہفتے میں ہی ختم ہو گیا لیکن اس کی طلب ختم نہ ہوئی تب پھر کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا۔ یہاں یہ بات واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ عام طور پر کتابیں ہمارے یہاں آج کل جس تعداد میں شایع ہوتی ہیں ”سب رنگ کہانیاں“ اس سے دوگنا سے بھی کچھ زیادہ تعداد میں شایع ہوئی تھی جو کہ محض چار ہفتوں میں فروخت ہو گئی اور دوسرے ایڈیشن بھی شایع ہونے کے کچھ ہی عرصے میں فروخت ہو گئے یہ ہی صورت حال دوسری اور تیسری جلد کی ہے۔ تینوں جلدوں کے نئے ایڈیشن تواتر سے شایع ہو رہے ہیں۔

کتابیں تو شایع ہوتی ہی رہتی ہیں لوگ خریدتے بھی ہیں اور پڑھتے بھی ہیں لیکن کسی کتاب کی اتنی پسندیدگی عشروں سے دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس کتاب میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک مقیم اردو خواں افراد اس کو پڑھنے اور خریدنے کے لیے اتنے بے تاب ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب اپنے دور کے مقبول ترین رسالے سب رنگ کی کہانیوں کا انتخاب ہے اور سب رنگ کے تعارف، اس کے معیار اور اس میں شایع ہونے والی تحریروں کے بارے میں کچھ کہنا گویا کہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ سب رنگ میں شایع ہونے والی ہر تحریر لاجواب ہوتی تھی۔ خواہ وہ اردو ادب کے شاہ کار ہوں، عالمی ادب کے تراجم ہوں، سلسلے وار کہانیاں ہوں یا سب سے بڑھ کر شکیل عادل زادہ کا ذاتی صفحہ جس کا ایک ایک لفظ نایاب موتی جیسا وقیع اور خوب صورت ہوتا ہے۔ ان تمام چیزوں کے حسین امتزاج کا نام تھا سب رنگ ڈائجسٹ۔

ملکی اور عالمی ادب کے رنگا رنگ پھولوں کے اس گل دستے کی مہک نے سبھی پڑھنے والوں کو اس طرح اپنے حصار میں لیا ہوا تھا کہ اس کی اشاعت ختم ہونے کے باوجود بھی لوگ آج بھی اسے یاد کرتے ہیں اور وہ ہی یا ویسی ہی تحریریں پڑھنے کے خواہش مند ہیں جو سب رنگ میں شایع ہوئیں۔

شکیل عادل زادہ کے سب رنگ کی اشاعت کو ختم ہوئے قریب ڈیڑھ عشرہ ہونے کو آیا لیکن سب رنگ کا اپنے قارئین سے یہ رشتہ، یہ تعلق اور یہ نسبت آج بھی برقرار ہے۔ سب رنگ ڈائجسٹ کی اشاعت ختم ہو جانے کے باوجود بھی اس کے قارئین اسے فراموش نہ کر پائے۔ قارئین کی اپنے محبوب جریدے سے محبت اور وابستگی کا جو رشتہ ایک مرتبہ قائم ہوا وہ ہمیشہ برقرار رہا۔ محبت اور وابستگی کے اسی اٹوٹ تعلق کو احمد ندیم قاسمی کے اس شعر سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے ;

”بچھڑ کے بھی میں تیرے پرتو وصال میں ہوں
جہاں بھی ہوں میں تیرے ہالہ جمال میں ہوں ”

اخبار، ڈائجسٹ اور رسالے کچھ وقت کے بعد محفوظ نہیں رہ پاتے۔ سب رنگ کی اشاعت میں تعطل آ جانے کے بعد ، اس میں شائع ہونے والی اردو ادب کی کلاسیکی تحریروں کے بارے میں بھی دل دادگان سب رنگ کو یہ ہی خدشہ لاحق ہوا لیکن کسی کی سمجھ میں اس کا حل نہ آیا سوائے اس کے کہ کسی بھی طرح اور کہیں سے بھی سب رنگ ڈائجسٹ کے پرانے شمارے تلاش کر کے اپنے پاس محفوظ کر لیے جائیں لیکن سب رنگ کے عاشق صادق محترم حسن رضا گوندل کے ذہن میں اس سلسلے میں ایک منفرد خیال آیا کہ کیوں نہ اردو ادب کی اعلیٰ درجے کی ان کلاسک تحریروں کو، جو سب رنگ ڈائجسٹ میں شائع ہو چکی ہیں، ایک کتابی سلسلے کی صورت میں محفوظ کر لیا جائے چناں چہ انھوں نے اس خیال کو حقیقت کا روپ دیا کچھ اس انداز میں کہ اب تقریباً ہر تین چار ماہ بعد ”سب رنگ کہانیاں“ کی ایک نئی جلد شائع ہو رہی ہے۔ یہ بات چند افراد کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں تھی کہ یکے از کشتگان سب رنگ جناب حسن رضا گوندل سب رنگ میں شایع ہونے والے ادب کی شاہ کار تحریروں کو ایک عرصے سے کتابی شکل میں محفوظ کرنے کے خواہاں ہیں اور بالآخر وہ اپنے ارادے میں کام یاب ہو ہی گئے۔ بہزاد لکھنوی کے اس شعر کے مصداق;

”اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے ”

سب رنگ کہانیاں ان کا اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ اس پہ ان کی جتنی بھی تحسین کی جائے، کم ہے۔ یہ کہنا مبالغہ آرائی قطعی نہ ہوگا کہ درحقیقت انھوں نے سب رنگ سے اپنے جذبہ عشق کی صداقت کا وہ ثبوت دے دیا ہے کہ اسے نظرانداز کرنا ممکن ہی نہیں۔ جب بھی سب رنگ ڈائجسٹ کی بات ہوگی۔ اس کے حوالے سے حسن رضا گوندل کا نام بھی ضرور آئے گا۔ ان کے عزم نے ایک انتہائی مشکل بلکہ تقریباً ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا یوں کہ کوئی مشکل، مشکل ہی نہ رہی۔ وہ راہ میں حائل تمام دشواریوں سے نبرد آزما ہوئے اور اپنی دیرینہ آرزو کی تکمیل کی۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ اسی ذوق و شوق اور محنت و لگن سے کام کرتے رہیں اور دل دادگان سب رنگ کی دل بستگی کے لیے سب رنگ کہانیاں مرتب کرتے رہیں۔

”خدا کرے کہ یہ ذوق سفر رہے باقی
ہزار جادہ و منزل ہیں راہ رو کے لیے ”

Facebook Comments HS