EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

دفاعی تجزیہ کار بمقابلہ موسمی قصائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ روز قبل کام کے بعد دیر سے گھر آنے کے بعد سوچا کہ اب کیا پکاؤں چلو کھانا آرڈر کر دینا بہتر ہے۔ کوئی چالیس منٹ بعد رائیڈر آیا اس نے کھانا دے کر پیمنٹ وصول کرتے ہوئے بہت احترام سے کہا کہ میڈم یہ میرا کارڈ رکھ لیں میں الیکٹریشن کا کام بھی کرتا ہوں کبھی ضرورت ہو تو آپ کال کر سکتی ہیں۔ میں نے اس وقت لڑکے کو بغور دیکھا وہ کوئی بیس، اکیس سال کا نوجوان تھا۔ میں نے اگلا سوال کر دیا۔ کیا تم پڑھتے ہو؟ جواب آیا جی میں نے انٹر کیا لیکن گھر کی ذمہ داریوں کے سبب تعلیم آگے جاری نہ رکھ سکا تو اب ڈلیوری کا کام کرتا ہوں، الیکٹریشن کا کام کرتا ہوں اور ہاں ابھی عید بھی ہے اگر جانور کی قربانی ہو تو پارٹ ٹائم قصائی بھی ہوں۔

یہ بات میرے لئے چونکا دینے والی تھی۔ میں نے کہا قصائی بننا کیا اتنا آسان کام ہے کہ کوئی بھی یہ کام پارٹ ٹائم کر سکتا ہے؟ تو آگے سے جواب آیا کہ دو، تین سالوں سے یار دوستوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں اب تجربہ ہو گیا ہے۔ اس بچے کا اپنے تجربے پر پختہ یقین دیکھ کر میں اگلا سوال نہ کر سکی کہ اگر مستقبل میں کسی تگڑے بیل سے واسط پڑ گیا تو یہ تجربہ کم نہ پڑ جائے۔ میں نے وہ کارڈ لیا اور گھر میں کہیں سنبھال کر رکھ دیا لیکن اس پارٹ ٹائم قصائی والی بات پر سے میرے ذہن میں یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ کہیں نوجوان نے الیکٹریشن کا کورس بھی یار دوستوں کو دیکھتے ہوئے نہ کر لیا ہو تو مجھے اگر آزمانا ہی ہے تو وہ پرانا پلمبر اور الیکٹریشن ہی ٹھیک ہیں جنھیں میں اپنے اسکول کے زمانے سے دیکھ رہی ہوں۔

اس واقعے نے مجھے ایک نیا اسٹوری آئیڈیا دیا کہ موسمی قصائی کیسے کمانے کے چکر میں لوگوں کی قربانی خراب کرتے ہیں، لوگوں کی قصائیوں کو لے کر بے شمار گلے شکوے تھے جب قصابوں سے ان کا موقف جانا تو انھوں نے کہا کہ لوگ جانور تو لاکھوں کا خریدتے ہیں لیکن اس کی کٹائی کی قیمت دیتے ہوئے ان کا دل دکھتا ہے۔ جو لڑکے ان کی مدد کے لئے عید پر ساتھ چلتے ہیں جن کا کام بغدے، چھرے سنبھالنا، بنا ہوا گوشت اٹھا کر دوسرے جگہ رکھنا ہوتا ہے وہ اگلی عید پر اپنی ایک ٹیم بنا کر لوگوں کے جانوروں پر چھری پھیر رہا ہوتا ہے اور خود کو اتنا تجربے کار ثابت کرچکا ہوتا ہے کہ لوگ اس کے جھوٹ کو سچ سمجھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج مزدور، مالی، چوکیدار، ڈلیوری بوائے سب ہی عید پر قصائی بن جاتے ہیں۔

ابھی میں یہ قصابوں کی لڑائی پر سوچ بچار کر رہی تھی کہ خبر آئی کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے افغانستان کے سفیر کی بیٹی اغوا ہو گئیں اور پھر ان کو تشدد کرنے کے بعد اسی روز چھوڑ دیا گیا۔ یہ خبر معمولی نہ تھی سب ہی جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک میں سفارت خانے اور سفارتی عملے کی کیا اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے خبر سوشل میڈیا، نیوز چینلز پر پھیل گئی چونکہ کیس ہائی پروفائل تھا اور اس کا تعلق ایک پڑوسی ملک کے سفیر سے تھا۔

اس سے بھی کہیں زیادہ حساس معاملہ اس وقت خطے کی صورتحال سے ہے اب جبکہ امریکہ اکتیس اگست تک افغانستان سے اپنی افواج کا مکمل طور پر انخلا کر دے گا اور ابھی اس میں وقت ہے لیکن اس کے باوجود طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں کی خبریں تواتر سے موصول ہو رہی ہیں۔ ان حالات میں ایسی خبر کا آنا تشویشناک تھا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ سوشل میڈیا پر گھنٹی بجی، رائیڈر کھانا دینے آیا اور اس نے بتایا کہ وہ پارٹ ٹائم دفاعی رپورٹر اور تجزیہ کار ہے، یہی نہیں وہ یار دوستوں کی مدد سے بین الاقوامی سیاست پر اب خاصا عبور رکھتا ہے۔

تھوڑی ہی دیر میں ٹویٹر سمیت تمام سوشل میڈیا پر دفاعی رپورٹر اور تجزیہ کاروں کی وہ ٹیمیں جو استادوں کے بغدے اور چھرے صاف کر کے دیا کرتی تھی اب سب کو بتا رہی تھیں کہ سفیر کی بیٹی نے کیا کیا ہو گا؟ یہ سازش کہاں تیار ہوئی ہم پتہ لگا کر دیں گے، اسے یہ ٹاسک کہاں سے ملا ہم جانتے ہیں، اس واقعے کی گتھی سلجھ چکی ہے بس ذرا سا انتظار کیجئے، جہاں سے ڈور ہل رہی تھی اب وہ ہمیں مل گئی ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ گھر سے نکلی کیوں؟ ٹیکسی میں گئی کیوں؟ پیدل کیا کر رہی تھی؟

یہ وہ تمام سوالات تھے جو اس واقعے کے بعد یقیناً ملک کے ان اداروں کے سامنے ہوں گے جن کے دارالحکومت میں ایسا ہوا ہے۔ تفتیشی ادارے، پولیس، ایجنسیاں سب وہ شواہد اکٹھا کرنے میں جتھے ہوئے تھے وہ صرف ایک لائن کہنے یا ایک ٹویٹ کرنے پر اکتفا کر رہے تھے۔ وزیر داخلہ چیخ چیخ کر بے حال تھے ان کی باڈی لینگویج اور آواز بتا رہی تھی کہ یہ واقعہ اگر سچا ہے تو اس کا اثر پاکستان پر کیا پڑے گا اور اگر جھوٹا ثابت ہوتا ہے تو ثابت ہونے تک کیا کیا نقصان پاکستان اٹھا چکا ہو گا جس کا ازالہ ممکن نہیں ہو گا۔

لیکن سفیر اور اس کے خاندان کے اسلام آباد نکلنے سے لے کر اب تک سوشل میڈیا پر بکروں اور گائے کی تصاویر اور پوسٹ سے زیادہ موسمی دفاعی رپورٹر اور تجزیہ کاروں کی ایسی منڈی لگی ہے کہ آج ایک دیکھو تو کل تین اور نکل آتے ہیں۔ یہ بہت باصلاحیت ہیں یہ عائلی ازدواجی مسائل سے لیکر، زرمبادلہ کے ذخائر، کرپشن، الیکشن، بجلی چوری، مذہب، صحت، ماحولیات، کے ساتھ ساتھ دفاع پر بات کرنے پر عبور رکھتے ہیں۔ یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ساتھ ساتھ غزہ، اسرائیل کشیدگی پر بھی بات کر سکتے ہیں۔

یہ عورت کو کیسے رہنا ہے کیا کرنا ہے سے لے کر امریکہ کے صدارتی نظام پر بھی بات کر سکتے ہیں۔ انھوں نے 1965 کی جنگ مطالعہ پاکستان میں پڑھی تھی لیکن یہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی ہر اس خبر سے بھی واقف ہیں جو آج تک کسی کتاب کا حصہ نہیں بن سکی۔ یہ تیسری عالمی جنگ کب چھڑے گی؟ کون سا لیڈر کس کے پاؤں پکڑے گا؟ کہاں سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوں گے؟ کون سا لڑاکا طیارہ، میزائل عالمی طاقتوں کے چھکے چھڑا دے گا یہ آپ کو ان سب سے معلوم ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ مجھے، مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ یہ آپ کو آپ کے پیدا کرنے والوں سے زیادہ جانتے ہیں۔

گزشتہ برس میرے ایک عزیز اپنے ایم فل کے دوران ایک ریسرچ کر رہے تھے ان کے کچھ اہم سوالات تھے جس پر انھیں کچھ ایسے صحافیوں کی رائے درکار تھی جن کا صحافت میں طویل تجربہ رہا ہو انھوں نے مجھے کچھ نام دیے اور کہا کہ میں ان اشخاص سے جواب لینے میں ان کی مدد کروں۔ سوالات جنگ کے دوران میڈیا کے کچھ اصول اور ضابطوں کے حوالے سے تھی۔ میں نے تینوں صحافیوں کو کالز کیں جن میں سے ایک میرے استاد محترم افتخار احمد بھی تھے جن کا ہمیشہ سے الیکشن کی کوریج اور سیاسی شخصیات سے سخت انٹرویوز اور سوالات پوچھنا وجہ شہرت رہے ہیں۔

استاد محترم نے سوالات طلب کیے اور پھر ان کی کال آئی اور فرمایا کہ میں ان کے جوابات نہیں دے سکتا کیونکہ یہ میرا سبجیکٹ نہیں ہے۔ اگلی شخصیت کا جواب آیا کہ میں نے کبھی ایسی صورتحال میں رپورٹنگ نہیں کی تو میں ان کے جوابات دینے کا اہل نہیں کیوں خواہ مخواہ سن سنا کر کچھ لکھ دوں جس نے سوالات بھیجے ہیں نقصان اس کا ہو گا۔ میں نے استفسار کیا کہ آپ کا تجربہ بائیس برسوں کا ہے آپ کوئی رائے تو دے سکتے ہوں گے؟ جواب آیا رائے دینا آسان ہے لیکن وہ رائے اگر تجربے کی بنیاد پر نہ ہو تو کئی اذہان خراب کر سکتی ہے ان کی بنیاد ایک مفروضے پر بنا سکتی ہے۔

تیسری شخصیت نے تفصیلی جوابات دیے کیوں کہ وہ ایک یونیورسٹی میں صحافت کے استاد بھی تھے اور اس موضوع پر بات کرتے رہے تھے۔ اسی طرح محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سے غیر رسمی بات چیت کے دوران میں نے ان سے فضائی آلود گی پر بات کرنا چاہی تو انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے میری معلومات خاصی کم ہیں کیوں کہ یہ میرا سبجیکٹ نہیں ہے۔ ان اشخاص نے مجھے یہ احساس دلایا کہ یہ لوگ کتنے بڑے ہیں ان کے تجربے تین سے چار دہائیوں پر محیط ہیں لیکن آج بھی جس موضوع پر ان کو محسوس ہو کہ ان کی معلومات قلیل ہے یہ اپنی رائے نہیں دیتے بلکہ یہ باور کرواتے ہیں کہ یہ اس پر مہارت نہیں رکھتے۔

یہاں کچھ موسمی تجزیہ کار پولیٹیکل ایکٹیوسٹ بھی ہیں اور ان کے سوشل میڈیا سیاسی جماعتوں، وزراء، پارٹیوں کی ترجمانی کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ پھر ماضی میں ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی تحریر دو صحافیوں کے ناموں سے شائع ہوئی جب سوال ہوا تو کہا گیا کہ یہ محض حسن اتفاق ہے اور پھر ریسرچر کا تذکرہ آ گیا۔ یہ وہی ریسرچر ہے جو راتوں رات ان موسمی صحافیوں کو کچھ خبریں دے کر تجربات کی ان معراج پر پہنچا دیتے ہیں جہاں سے وہ ٹمٹماتی روشنیوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ وہ کس بلندی پر جا پہنچے ہیں لیکن یہ بات صرف وہ ریسرچر جانتا ہے کہ جسے وہ زمین کی روشنیاں سمجھ رہے ہیں وہ نیچے نہیں ان کے اوپر ہے، روشنی تو جگمگاتے ستاروں کی بھی ہو سکتی ہے۔

اداروں سے موصول ہونے والی پریس ریلیز پر پورے پورے آرٹیکلز لکھنا ایمبیڈڈ جرنلزم تو ہو سکتا ہے لیکن دفاعی رپورٹنگ نہیں ہو سکتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن صحافیوں نے وار زون میں جاکر کام کیا ہے، جان پر کھیل کر مارنے اور مرنے والوں کے انٹرویوز کر رکھے ہیں، قید خانوں سے لے کر جنگ کی تباہیوں کو سامنے سے دیکھ رکھا ہے وہ آج بھی خود کو دفاعی رپورٹر اور تجزیہ کار کہلوانا پسند نہیں کرتے کیونکہ انھیں یہ لگتا ہے کہ ان کی معلومات ابھی بھی اس موضوع پر کم ہے۔ لیکن جو صورتحال اس وقت درپیش ہے اس میں مجھے ان موسمی دفاعی رپورٹرز اور تجزیہ کاروں کے خود پر پختہ یقین کو دیکھ کر یہ سوال بار بار ذہن میں ضرور آتا ہے کہ اگر کوئی تگڑا بیل سامنے آ گیا تو کیا ان کا دو سے چار سال کا طویل ترین تجربہ اس خونخوار بیل کا مقابلہ کر پائے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 78 posts and counting.See all posts by sidra-dar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے