EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

فضل ربی راہی کی کتاب: ”اور سوات جلتا رہا“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


”سوات بھر میں جن خودکش حملوں کے چرچے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں آتے رہے، مقامی لوگوں کے مطابق ان میں زیادہ تر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے تھے۔ بلکہ یہ ڈس انفارمیشن کا حصہ تھے تاکہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی حکومت کو سہارا دیا جاسکے اور اس کے ذریعے امریکہ اور یورپی ممالک کی اندھی حمایت حاصل کی جاسکے۔“

”اے این پی کی صوبائی حکومت بار بار اس عزم کا اظہار کرتی رہی کہ وہ پر امن ذرائع سے حالات کنٹرول کرے گی اور سوات میں دوبارہ فوجی آپریشن نہیں ہونے دے گی لیکن اس وقت یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اے این پی کی حکومت بھی بے بس ہو چکی ہے اور وہ اس آپریشن کو رکوانے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔“

”موجودہ آپریشن کی شروعات بھی عام آدمی کے لیے کسی طور خوش گوار نہیں۔ گزشتہ روز فوج کی طرف سے گولہ باری کے دوران دیولئی میں ایک گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے چار بچوں اور ایک خاتون سمیت ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جب کہ کانجو میں ایک بچہ سر پر گولی لگنے سے جاں بہ حق ہوا ہے۔ اسی روز چار باغ میں ایک خاتون بھی گولہ لگنے سے ہلاک ہوئی ہے۔ اس طرح چند دن قبل کی گولہ باری سے بھی 9 معصوم شہری جاں بہ حق ہوچکے ہیں۔ درجنوں مکانات تباہ اور 30 سے زائد عام شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں۔ سوات میں اس وقت صورت حال کچھ یوں ہے جیسے کسی دشمن ملک نے حملہ کر دیا ہو۔“

”لیکن جب سوات میں فوجی آپریشن کا دوسرا فیز شروع ہوا تو آپ سب صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے اراکین نے سوات سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا اور سوات کے مکینوں کو فوج، عسکریت پسندوں اور ناگفتہ بہ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اس وقت سوات کے لوگ اپنے تمام قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سوات اور اہالیان سوات کے لیے آپ لوگوں کی کارکردگی صفر کے مترادف ہے۔“

”فوجی آپریشنوں کے نام پر عسکریت پسندوں کے اصل ٹھکانوں کو تباہ کرنے کی بجائے بے قصور اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، ان کے گھر تباہ کر دیے گئے۔ گاؤں اور دیہات میں بنیادی صحت مراکز کو جلوایا گیا۔ پلوں اور سڑکوں کو تباہ کر دیا گیا۔ اور وہ سوات جو چند سال قبل امن و سکون کا گہوارہ تھا اور اس کا دامن تھکے ہوئے لوگوں کے لیے وا رہتا تھا، اسے اپنے ہی باشندوں کے لیے جہنم زار بنا دیا گیا۔“

اقتباسات کی ان چند جھلکیوں سے ہی پڑھنے والے کو باآسانی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اسے ایک خوب صورت علاقہ اور وہاں کے بے خبر معصوم لوگوں کو ان کی تاریخ کے انتہائی مشکل اور تکلیف دہ دور سے گزرتے دیکھنے کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔ الغرض شروع سے آخر تک، اس کتاب کا ہر صفحہ جرم

بے گناہی کا شکار ہونے والوں کا نوحہ ہے۔ ایک حسین و سر سبز و شاداب تاریخی وادی کے گلے سے نکلنے والی دبی دبی چیخیں ہیں۔ جسے دبوچنے والا ہاتھ اس کی درد ناک کیفیت کو حتیٰ الامکان طول دینے پر مصر ہے۔ ظلم و زیادتی کی اس خوف ناک کہانی کے ہونٹ وسیع تر ملکی مفاد کے طلائی تاروں سے سینے کا عمل جاری ہے۔ بزبان حال و قال جتایا جا رہا ہے کہ جبر و استبداد کا ہر تھپڑ، ہر ٹھوکر، ہر گالی دم سادھے سہتے رہو۔ شکوہ، شکایت، فریاد عین غداری ہے۔

جس کا انجام نیست و نابود کی بدنام زمانہ تاریکی در تاریکی والی تنگ و تار گھاٹیاں ہیں جہاں بھیجے جانے والوں کی فاتحہ بھی برسر عام پڑھنا مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے چپ سادھے رہو۔ آنکھوں کا استعمال صرف اتنا کرو کہ گھر بس ذرا سہولت کے ساتھ پہنچ سکو۔ راستے میں کسی گڑھے وغیرہ کی نذر نہ ہو جاؤ، کان بھی نیم وا حالت میں رہیں تو بہتر ہے۔ سسکیوں، چیخوں کو بالکل قریب نہ پھٹکنے دو۔ فی الوقت حب الوطنی کا تقاضا یہی ہے کہ سچائی پر جھوٹ کی دبیز چادر پڑی رہے۔ کئی قسم کے دشمن تاک میں ہیں، ان کو غچہ دینے کے لیے یہ سب ضروری ہے۔ اگر یہ سب کچھ دیکھنے سننے اور سہنے کی طاقت نہیں ہے تو کہیں اور چلے جاؤ یہاں جنہیں دعویٰ تھا قیادت کا، سیادت کا، امامت کا، جا چکے ہیں۔

کڑے حالات کی بھٹی اکثر و بیشتر کو تو راکھ کر دیتی ہے لیکن کچھ سخت جانوں کو کندن بنا دیتی ہے۔ میدان جنگ بہت سوں کا قصہ تمام کر دیتی ہے۔ کچھ کو معذوری کے عذاب میں مبتلا کر کے ان کے لیے بقیہ زندگی ایک اذیت ناک تسلسل بنا ڈالتی ہے لیکن بعض خوش بختوں کو ان کی حوصلہ مندی سے خوش ہو کر غیرمتوقع کامرانی کی شاہراہ کا راہی بنا دیتی ہے۔ فضل ربی راہی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔

سوات کی یہ بھیانک کہانی جو ان کالموں میں لحظہ بہ لحظہ بیان ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے کوئی انوکھا واقعہ نہیں کہ قرن ہا قرن سے ظلم و جبر کی رتھوں میں سوار تاجداروں کی جانب سے مستانہ وار معصوم انسانی زندگیوں کو روندنے کا عمل ایک قدیم تاریخی روایت رہی ہے۔ معمورہ جہاں میں شاید وبا ید ہی کوئی ایسا خطہ ہوگا جو اس قسم کے خونی کھیل سے ہمیشہ مامون و محفوظ رہا ہو لیکن آج ان کے ہاتھوں میں جو تیر و تفنگ ہیں، وہ ہزار ہا گنا زیادہ مہلک اور حیات کش ہیں۔

اس لیے تباہی و بربادی کے میزانیہ کو اعداد کے دائرہ میں لانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں لیکن اس لحاظ سے یہ کہانی یقیناً بالکل نئی ہے کہ یہ ہنستا بستا دیار دشمنوں کی خونخواری کا شکار نہیں بنا بلکہ اپنوں کی چیرہ دستی نے اس کے پیراہن زرتار کو تار تار کر دیا ہے۔ یہ کہانی چل رہی ہے، نہ جانے کتنے ایکٹ ابھی باقی ہیں۔

ملکی سطح پر اخباری قارئین کے لیے فضل ربی راہیؔ کا نام یقیناً نیا نہیں، وہ ایک عرصہ سے مؤقرار دو اخبارات و جرائد کے لیے لکھتے رہے ہیں۔ چوں کہ ان کا تعلق سوات سے ہے، اس لیے اپنے اس خرمن کو یوں راکھ ہوتے دیکھ کرتحریر کردہ کالموں پر مشتمل ان کی یہ کتاب انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی خاطر ”المدد المدد“ کی ایک مسلسل پکار ہے۔

خون چکاں حکایات لکھنے کی ریت بہت پرانی ہے۔ یہ سلسلہ تمام تر قدغنوں کے باوصف جاری ہے اور جاری رہے گا۔ چوں کہ جدید میدان جنگ قدیم حدود قیود کے تصور سے نکل کر بہت آگے جا چکی ہے۔ اسی لئے میڈیا کے دیکھنے سننے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کے عمل کو محدود سے محدود کرنے کے لیے جباران وقت نے امریکہ کی قیادت میں مختلف النوع قسم کے ہتھکنڈے ایجاد کرلئے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ موقع و محل کی ضرورت کے تحت ان میں تغیر و تبدل کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔

سچائی تک رسائی تمام تر ابلاغی قوت کے باوجود مشکل سے مشکل بنا دی گئی ہے۔ بزور، بزر اور بہ حیلہ قلم کاروں کو جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کی ترغیب سکہ رائج الوقت کی طرح ہر جگہ جاری ہے۔ ایمبیڈڈ جرنلسٹ کی نئی اصطلاح کے تحت صحافیوں کو محاذ کی قابل قبول تصویر کشی کی غرض سے ساتھ لے جایا جاتا ہے۔ پھر ان کی آنکھیں وہی کچھ دیکھتی ہیں جو پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ کان وہی کچھ سنتے ہیں جس کی انہیں اجازت دی جاتی ہے۔

اسی لیے پوری ذمہ داری کے ساتھ مرضی کی رپورٹیں تیار کی جاتی ہیں۔ آج کے دور میں رائے عامہ اور عوامی رد عمل پر کنٹرول اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ کسی خطہ کا واقعی کنٹرول اہم ہے۔ اسی لیے حرب جدید میں لڑاکا طیارے، میزائل، ٹینک اور توپوں کو قلم اور کیمرے کی مکمل رفاقت درکار ہے جس کا پوری طرح سے اہتمام کیا جاتا ہے۔

ایسے مشکل اور دگرگوں حالات میں اگر کوئی سچ بیان کرنے پر اصرار کرتا ہے تو ایسے قلم کے آگے سجدۂ نیاز بجا ہے۔ اس پر فخر کرنا جائز ہے۔ اس حرماں نصیب جیب و داماں دریدہ خطہ کے الم نصیب باشندے با الخصوص اور سب اہل وطن بالعموم یقیناً اس جواں سال قلم کار کو اپنا محسن سمجھیں گے۔ چوں کہ وہ سب کچھ براہ راست دیکھ اور سن رہا ہے، اس لیے سچائی اپنے پورے ننگے وجود کے ساتھ اس کی ان تحریروں میں موجود ہے۔ کیا اختیار و اقتدار کے بد مست گھوڑوں پر سوار اب اپنی گزشتہ کل کی تاریخ سے تھوڑا بہت سبق سیکھنے پر خود کو آمادہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔

کانٹے بو کر پھولوں کی فصل سے دامن بھرنے کی امید انہی کا کام ہے۔ جو عام روزمرہ کام آنے والی انسانی سمجھ بوجھ سے بھی محروم ہوں۔ آتش و آہن کی زبان سے مطیع بنائی جانے والی بستیاں بظاہر پرسکون نظر آتی ہیں لیکن اندر ہی اندر نفرت و غصہ کی آگ میں تپ رہی ہوتی ہیں۔ خوش فہمی کی ریتلی بنیادوں پر کھڑے کیے گئے محل لمحوں میں مٹی کا ڈھیر بن سکتے ہیں۔ ہماری تاریخ چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے کہ جہاں بظاہر ”محبت کا زمزم“ بہتا نظر آتا ہے، وہاں اندر ہی اندر نفرت و افتراق کے کیسے کیسے جہنم بھڑک رہے ہوتے ہیں۔

معلوم انسانی تاریخ کے سب سے بڑے غنڈے کا ساتھ دے کر ہم نے ایک ایسی مہیب غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا پتہ نہیں کتنی نسلوں کو بھگتنی پڑے گی۔ مانا کہ یہ فیصلہ اضطراری تھا لیکن اپنوں کو نیست و نابود کرنے میں شراکت داری کے عمل پر علانیہ فخر کا سلسلہ (اتنے ماردیے اتنے بیچ دیے۔ اتنے حوالے کر دیے، چہ معنی دارد) کیا کبھی تھمے گا۔ کیا در توبہ پر دستک دینے کی نوبت کبھی آئے گی؟ قرآن تو واضح طور پر کہتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل سارے انسانوں کے قتل کے برابر ہے۔

کیا کوئی جدید سے جدید کیلکولیٹر ہمارے جرم کا صحیح حساب کتاب کرسکے گا۔ نام نہاد دہشت گردی کی یہ جنگ جسے اپنی جنگ ثابت کرنے کے لیے منطق و حجت بازی کے مشاق کاریگر رات دن سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں، ان کی پیٹھوں پر ڈالروں کی تھپکیاں انہیں مسلسل حقیقت کو نظر انداز کرنے پر مجبور کر رہی ہیں، ورنہ اس عریاں سچ سے کب تک کوئی آنکھیں رکھنے والا نظریں چرا سکتا ہے کہ امریکہ کی پوری تاریخ عالمی و سائل کو اپنے قبضہ میں رکھنے کے لیے ہر طرح کی دھونس دھمکی، دجل و فریب اور ہر قسم کی ننگی جارحیت سے موسوم رہی ہے اور رہے گی۔

دوست پالنے کا عارضہ اسے کبھی لاحق نہیں ہوا۔ اسے اپنا کام نکالنے کے لیے کچھ غیر ملکی عمال اور نوکروں چاکروں کی ایک فوج رکھنے کی عادت رہی ہے۔ کام نکلتے ہی بالکل اجنبی بن جانا اس کا سدا سے وتیرہ رہا ہے۔ اس سے کسی نئے طرز عمل کی توقع صرف خود کو بہلانے کے کار فضول کے سوا کچھ نہیں۔ اس کی دوستی کا عذاب تو یقیناً ہم پہلے بھی جھیلتے رہے ہیں بس یہ کہ اس بار حالات پہلے کے مقابلہ میں زیادہ گمبھیر ہیں خدا ہم پر رحم کرے۔

لیکن اس میں حالات و واقعات سے زیادہ ہم خود قصور وار ہیں۔ فاقہ مستوں کا انجام تاریخ بتاتی ہے، براہی ہوتا ہے۔ کشکول بدست افراد اور اقوام تاریخ کے کوڑا دان کی جانب برق رفتاری سے بڑھتے ہوئے نہ جانے کیوں خود کو عزت و وقار کی مسند کا حقدار سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ دست سوال بالآخر اپنے مالک کو بدنامی و گمنامی کے گڑھے میں خود ہی دھکیل دیتا ہے۔

میدان کار زار بنتے ہی سوات قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ بعض خاص قسم کے حالات اور موسم بعض خاص قسم کے کاروبار و نباتات و حیوانات کی افزائش میں انتہائی ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں اسی طرح سوات کی صحافت ایک ننھے سے پودے سے اچانک ساز گار ماحول ملتے ہی تناور درخت بننے کا اعلان کرنے لگی ہے اور مناسب مواقع ملتے ہی یہاں کے چند با صلاحیت افراد نے بہت جلد اپنا لو ہا منوا لیا ہے۔ راہیؔ ان میں سے ایک نمایاں نام ہے۔

روزنامہ ”آزادی“ جو صرف ایک چھوٹا سا مقامی اخبار تھا۔ اسے موجودہ مقام تک لانے میں یہاں کے حالات کے ساتھ ساتھ فضل ربی راہیؔ کا بھی انتہائی اہم کردار رہا ہے۔ بہت ہی قابل تحسین امر یہ بھی ہے کہ اس اخبار کے ذریعہ اس نے کئی نئے لکھنے والوں کی ایک ٹیم تیار کی ہے جو مختلف زاویوں سے یہاں کے حالات کی تصویر کشی میں مصروف ہے۔ وہ سچ بیان کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود کسی نہ کسی طور اس کی کچھ نہ کچھ جھلکیاں سامنے لا رہے ہیں۔

بہر صورت اس ضمن میں سب سے جرات مندانہ اور وقیع کام خود اسی کا ہے۔ ملکی پیمانہ پر ان کالموں کی پذیرائی اس طرح ہوئی ہے کہ مؤقر اردو روزناموں اور ماہناموں جیسے روزنامہ ”ایکسپریس“ اور ماہنامہ ”ترجمان القرآن“ نے ان کالموں کو بنیاد بناتے ہوئے کالم اور ادارئیے لکھے۔ روزنامہ ”ایکسپریس“ کے گروپ ایڈیٹر جناب عباس اطہر، اس کے ایک نہایت سینئر کالم نگار جناب حمید اختر اور ماہنامہ ترجمان القرآن کے ایڈیٹر جناب سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے اپنی تحریروں میں ان سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے قارئین کے ایک بہت بڑے حلقہ کو سوات میں وقوع پذیر ہونے والی ہولناک صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔

موجودہ حالات میں تعمیر و تخریب سے یکساں طور پر مستفیض ہونے والے تو یقیناً خود کو کامیاب و کامران ہی سمجھیں گے لیکن جس مٹی نے اور جن لوگوں نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے، جو بھرے پرے گھرانے عدم آباد کی طرف دھکیل دیے گئے اور جو ہنستے بستے مکین، زندگی کی روانی کا مظہر کاروبار، کھیت، کھلیان نیست و نابود ہوئے، کیا وہ صرف آثار قدیمہ کا ایک بے نام سا گوشہ بننے پر راضی ہوجائیں گے؟ کیا تباہی و بربادی کی مہیب حقیقتوں کو میڈیا کی مدد سے بپا کردہ کھیل تماشوں کی گرد میں تادیر چھپا یا جاسکے گا؟

چند اوباش صفت کر داروں کی طرف سے ملنے والی پذیرائی اور رفاقت کو پورے سماج کی کا یا پلٹ اور ایک عہد نو کا آغاز سمجھ کر جشن کا اہتمام کرنے والے لگتا ہے روایتی جلد بازی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس زمین کو جو گہرے گھاؤ لگے ہیں، وہ مندمل ہونے کے لیے مزید وقت کے متقاضی ہیں لیکن خدشہ یہی ہے کہ طاقت ہمیشہ کی طرح صائب مشوروں کو جوتے کی نوک پر رکھے گی اور تاریخ بچاری یوں ہی ایک دائرے میں سفر کرتے ہوئے خود پر تھوکتی رہے گی۔

بے بسی اور درد کے یہ اظہارئیے جو پہلے اخباری کالموں کی شکل میں سامنے آئے اور اب ایک کتاب کی صورت آپ کے ہاتھوں میں ہیں۔ اس بات کا تقاضا کرنے میں حق بجانب ہی کہ ان کی مدد سے گزرے کل کی جھولی سے آج اور آنے والے کل کی مثبت انداز میں تعمیر کے گر سیکھے جائیں۔ وہ یہ کہ ان تازہ کھنڈرات پر فرداً فرداً یا اجتماعی طور پر رونے سے سوائے جگ ہنسائی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بہتر عمل یہ ہے کہ فرداً فرداً اور اجتماعی طور پر ٹوٹی ہوئی دیواروں کو اٹھا نے کی ایک تحریک شروع کی جائے اور اس بات کا عہد کر لیا جائے کہ آئندہ لفظی جادوگروں کے فریب کا شکار نہ ہوں۔

اور اپنی اس جنت کو خوش نما بہکاؤں کی نذر نہ ہونے دیں۔ قیادت و سیادت کے دعوے داروں کو ان کے زر تار لبادوں اور بلند آواز نعروں کی جگہ گزشتہ کل کی ترازو میں تول کر دیکھیں۔ وہ جو کل خطرہ کی بو سونگھتے ہی بوتل کے جن کی طرح دھویں کے مرغولوں کی صورت غائب ہو گئے تھے۔ ان کا کھوٹ سب پر عیاں ہو چکا اپنے آنے والے کل کو ایسے قائدین و عمائدین کے دل فریب وعدوں کے حصار سے نکالنا ہوگا۔ اور یہ کہ صرف بندوق کو امن وامان کی ضمانت ماننے والی لیڈر شپ بہت ہی بودی دلیل کا سہارا لے رہی ہے۔ امن وامان تو افہام و تفہیم سے کام لیتے ہوئے ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور مل جل کر اپنے اس گھر کو ہر قسم کے در اندازوں سے بچانے ہی سے مل سکتا ہے۔

کتاب: اور سوات جلتا رہا
مصنف : فضل ربی راہی
ناشر: شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز
سوات مارکیٹ، جی ٹی روڈ مینگورہ، سوات
فون: 0946۔ 729448

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احمد فواد، سوات کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے