ببلو بیل کا فرار

اس سے پہلے ہم آپ کو ببلو کی کہانی سنا چکے ہیں جس کا ایک دن یکلخت بیف بن گیا تھا۔ آج ہم آپ کو ببلو ٹو کی کہانی سناتے ہیں جس کی جرات و شجاعت کی داستان اسے قریب سے جاننے والے کئی نسلوں تک سناتے رہیں گے۔

ببلو کو بیف بنانے کے ایک برس بعد دوبارہ عید آئی۔ برخوردار خان نے ایک مرتبہ پھر اپنے کزنوں کی جمعیت اکٹھی کی اور رات بارہ بجے مویشی منڈی پر دھاوا بولا۔ اس کے مخبروں نے بتایا تھا کہ اس وقت غنیم بیوپاری خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں اور سستے داموں میں سودا چکا دیتے ہیں کہ دو گھڑی سکون کی نیند تو نصیب ہو۔ بارہا تجربے نے یہ مخبری درست ثابت کی تھی۔ ایک مویشی فروش سے مناسب داموں میں ایک تنومند بچھڑے کا سودا طے ہو گیا۔ بچھڑا گاڑی میں لدوا کر گھر لانے کی ذمہ داری ٹک ٹاک کھوکھر کو سونپی گئی جس کے ٹک ٹاک پر لاکھوں مداح ہیں اور بقیہ وقت میں وہ ہمارے پاس ڈرائیوری کرتا ہے۔

یوں قافلہ ایسے چلا کہ آگے آگے برخوردار خان اپنے کزنوں کی جمعیت کے ساتھ کار میں تھا۔ پیچھے کچھ فاصلے پر ہی ٹک ٹاک کھوکھر گاڑی میں ببلو ٹو کو لا رہا تھا۔ گھر کی گلی میں پہنچ کر برخوردار خان کو خیال آیا کہ قریب کے ہمسایوں کے جانور بھی دیکھ لیے جائیں کہ ببلو ٹو ان سے ہیٹا تو نہیں پڑ رہا۔ اس نے گاڑی کا رخ اس طرح موڑ دیا۔

کچھ دور گئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک بیل سرپٹ دوڑتا ہوا آ رہا ہے۔ فرمانبردار خان کا خوشی سے برا حال ہو گیا۔ کہنے لگا کہ دیکھو کسی بے وقوف کا بیل بھاگ گیا ہے۔ اسی اثنا میں بیل کے پیچھے پیچھے ایک سیاہ پوش شخص بھی جی جان لگا کر دوڑتا دکھائی دیا۔ برخوردار خان نے اسے دیکھتے ہی کہا ”کتنا بہترین تماشا ہے۔ یہ بے وقوف اسے نہیں پکڑ سکتا۔ اب یہ بیل کے بغیر ہی قربانی کریں گے۔ ان احمقون کو جانور رکھنے بھی نہیں آتے۔ اب یہ عید پر مرغی ہی کاٹیں گے“۔ تمام کزنوں نے قہقہہ لگایا۔

شوں سے بیل پاس سے گزر گیا اور سیاہ پوش قریب آیا۔ ”یہ تو ٹاک ٹاک کھوکھر ہے“ فرمانبردار خان نے رنر کو شناخت کیا۔
”یہ تو ہمارا بیل ہے“ برخوردار خان نے بیل کو شناخت کیا۔

ایک موٹر سائیکل والا وہاں سے گزر رہا تھا۔ ٹک ٹاک کھوکھر اچھل کر اس کی سیٹ پر بیٹھ گیا اور کہا ”اس بیل کا پیچھا کرو“ ۔ موٹر سائیکل والے کا ایکسائٹمنٹ سے برا حال ہو گیا۔ ایک عام آدمی کی زندگی میں ایسا لمحہ قسمت سے ہی آتا ہے جب اسے یوں فلمی انداز میں کسی مفرور کا تعاقب کر کے اسے گرفتار کرنے کا موقع ملے۔

ویسا ہی تعاقب شروع ہوا جیسے ہالی ووڈ کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔ بس مسئلہ یہ تھا کہ اب تک ببلو ٹو نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ اور ٹک ٹاک کھوکھر بھی۔ برخوردار خان کی گاڑی کالونی کے گیٹ تک پہنچی۔

”یہاں سے کوئی بیل تو نہیں گزرا؟“ برخوردار خان نے گارڈ سے سوال کیا۔
”ابھی کچھ دیر پہلے گزرا ہے۔ اس طرف گیا ہے۔“ گارڈ نے بتایا۔

”گیٹ بند کیوں نہیں کیا؟“ برخوردار خان نے سوال کیا۔ گارڈ سر کھجانے لگا۔ ظاہر ہے کہ اس نے اپنا روٹین کا فرض ادا کیا تھا جو یہ تھا کہ جیسے ہی کوئی بڑے حجم والی شے گیٹ کے قریب پہنچتی ہے تو وہ گیٹ کھول دیتا ہے اور گزرنے پر بند کر دیتا۔

بتائی گئی سمت میں تعاقب دوبارہ شروع ہوا۔ سامنے دکھائی دیا کہ موٹرسائیکل ببلو تک پہنچ چکا ہے۔ ٹک ٹاک کھوکھر نے جمپ مار کر ببلو کی رسی قابو کرنے کی کوشش کی۔ ببلو بھی گویا حرفوں کا بنا تھا، جل دے گیا۔ برخوردار خان گاڑی سے اتر کر دوڑا۔ جو جانور جتنا زیادہ خطرناک اور وحشی ہو، اسے اس سے اتنی ہی زیادہ محبت محسوس ہوتی ہے۔

ایک اور موٹر سائیکل والا بھی رات کے دو بجے یہ رونق لگتی دیکھ کر قافلے میں شامل ہو چکا تھا۔ ٹک ٹاک کھوکھر اس کی موٹرسائیکل پر بیٹھ گیا۔ جس پک اپ گاڑی میں ببلو کو لایا گیا تھا وہ بھی کہیں سے نمودار ہو کر تعاقب کا حصہ بن چکی تھی۔ یوں آگے آگے ببلو بھاگ رہا تھا اور پیچھے پیچھے دو گاڑیاں اور دو موٹر سائیکلیں۔

پک اپ والا ببلو کے سامنے پہنچ گیا۔ ببلو نے یکلخت سمت بدلی اور واپس ہوا۔ ایک جگہ ببلو گھیرے میں آ گیا۔ سامنے ایک گاڑی تھی۔ سائیڈ پر دوسری۔ پیچھے موٹرسائیکل۔ اور بائیں جانب ایک خشک پڑا برساتی نالہ۔ ببلو نے بھی شاید نسیم حجازی کا ناول آخری چٹان پڑھا ہوا تھا۔ جس طرح سلطان جلال الدین خوارزم شاہ نے ایک بلند چٹان پر خود کو تین طرف چنگیز خانی لشکر اور چوتھی طرف بپھرے ہوئے دریائے سندھ سے گھرا پا کر دشمنوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کی بجائے گھوڑے سمیت طوفانی دریائے سندھ میں چھلانگ لگا دی تھی ویسے ہی ببلو نے برساتی نالے میں چھلانگ لگا دی۔

اب معاملہ کچھ آسان ہو چکا تھا، یہ کوئی سو گز کا ٹکڑا تھا جس کے دونوں طرف راستہ پلوں نے مسدود کیا ہوا تھا۔ بہادر ببلو نالے کے اندر ایک محدود علاقے میں ہی بھاگ سکتا تھا۔ برخوردار خان کی جمعیت نے نالے کے دونوں کناروں کا محاصرہ کر لیا۔ درجنوں افراد کی کمک اسے پہنچ چکی تھی جو رات کے تین ساڑھے تین بجے بھی اپنے اپنے بستر چھوڑ کر اس سنسنی خیز تعاقب کا حصہ بن چکے تھے۔ ببلو کی رسی کئی بار پکڑی گئی مگر وہ چھڑا کر بھاگ نکلا۔ آخر وہ برخوردار خان کے قابو میں آ گیا جس نے رسی ایک کھمبے سے باندھ دی۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ بہادر ببلو کو تین چار فٹ کے برساتی نالے سے نکال کر اوپر سڑک تک کیسے لایا جائے۔ کئی لوگوں نے ببلو کا سر، کان، سینگ اور رسی وغیرہ پکڑ کر اسے اوپر کھینچنے کی کوشش کی مگر بہادر ببلو کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ اب تک صبح کے چار بج چکے تھے۔ برخوردار خان کی جمعیت ہمت ہارنے کے قریب پہنچ چکی تھی۔ بہادر ببلو کی فتح قریب تھی۔ بے شمار ہاتھ خدائی مدد مانگنے کے لیے آسمان کی طرف اٹھ گئے۔

مایوسی کی مہیب گھٹا چھائی تھی یکلخت خدائی مدد آن پہنچی۔ گھپ اندھیرے میں سڑک پر ایک سفید ہیولا نمودار ہوا۔ قریب پہنچا تو پتہ چلا کہ وہ دودھ سپلائی کرنے والی ایک گاڑی تھی جو صبح سویرے اپنے مقدس مشن پر نکلی ہوئی تھی۔ چلتی گاڑی کا دروازہ کھلا۔ ایک گجر نے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگائی اور چھلانگ لگاتے ہوئے ہی دوسرے ہاتھ سے ہینڈ بریک کھینچ کر گاڑی روکی۔ وہ سیدھا ببلو پر جا گرا۔

برخوردار خان اور اس کا لشکر ابھی حیرت سے سوچ ہی رہا تھا کہ یہ کیا ہوا ہے کہ وہ گجر نالے میں اتر گیا، ببلو کی پشت پر دو ہاتھ جمائے اور ببلو سڑک پر پہنچ گیا۔ ببلو جو درجن بھر لوگوں کو شکست دے چکا تھا، اس رستم صفت گجر کے ایک جھانپڑ کی مار نکلا۔ یہ معاملہ فہمی گجروں میں ہی ہوتی ہے کہ ڈنگر کو آگے سے نہیں کھِینچا جاتا پیچھے سے دھکا دیا جاتا ہے۔

یوں گجروں کی مدد سے پٹھانوں کے ایک لشکر نے سرکش ببلو پر قابو پایا اور چار ساڑھے چار بجے اسے اس کے کھونٹے سے باندھا۔ اگلے دن پو پھٹنے پر ببلو ٹو کا بھی بیف بن گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words