بڑی عید کے مزیدار پکوان، مگر احتیاط ضروری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائل فوٹو
 

کراچی — عید الاضحیٰ پر مزید دار پکوانوں سے کون لطف نہیں اٹھاتا۔ تکے، سیخ کباب، بریانی، کڑاہی گوشت سمیت دیگر انواع و اقسام کے کھانے عید الاضحیٰ کی رونق سمجھے جاتے ہیں۔عید الاضحیٰ پر مسلمان جہاں جانوروں کی قربانی کرتے ہیں وہیں اگلہ مرحلہ گوشت سے چٹخارے دار کھانے بنانے کا آتا ہے۔

عید کے دنوں میں زیادہ تر افراد اپنی صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور ایسے میں کھانے میں احتیاط کیے بغیر سب کچھ کھایا جا رہا ہوتا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ اس کی وجہ سے صحت پر کس قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آج ہم آپ کو عید الاضحیٰ کے موقع پر چند احتیاط کی یقین دہانی کرانے والے ہیں جس پر عمل کر کے آپ صحت مند طریقے سے عید منا سکتے ہیں۔

برطانیہ میں مقیم ماہرِ غذائیات فریحہ جے کہتی ہیں عید کے دن خود پر پابندیاں لگانا درست نہیں، اگر آپ کو کوئی بیماری نہیں ہے تو پھر آپ کا جو دل چاہے وہ ضرور کھائیں اور اس سے لطف اٹھائیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے فریحہ جے نے بتایا کہ اعتدال سے کھائیں اور اتنا زیادہ نہ کھائیں کہ آپ کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو جائے۔

کراچی کے قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر احسن مجتبیٰ بیگ کا کہنا ہے کہ عیدالضحی ایسا موقع ہوتا ہے جب لوگ سب سے زیادہ بد پرہیزی کرتے ہیں جس کی وجہ سے دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عید پر گوشت سے کسی کو منع کرنا یا بالکل نہ کھانا یہ درست نہیں۔ لیکن گوشت کے استعمال کی کچھ شرائط ہیں۔

ڈاکٹر احسن کے بقول قربانی کے جانور کے گوشت کو روکھا استعمال کیا جا سکتا ہے یا گوشت کا ایسا حصہ لیجیے جس میں چکنائی کی مقدار کم سے کم ہو۔

کتنی مقدار میں گوشت کھائیں؟

ماہر غذائیات فریحہ جے کے مطابق ہماری زندگیوں میں ویسے ہی اس قدر تناؤ ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ کھانے کے بارے میں اتنی ٹینشن نہیں لینی چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ عید کے دن تو کھانے کے معاملے میں کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ایک دن میں ہمیں 60 سے 90 گرام تک گوشت کھانا چاہیے جب کہ ایک ہفتے میں 300 گرام سے زیادہ گوشت نہیں کھانا چاہیے۔

گوشت پکاتے وقت کن باتوں کا خیال کریں؟

ماہر غذا فریحہ جے کے مطابق گوشت بناتے وقت جب ہم صحت مند طریقوں کی بات کرتے ہیں تو سب کے ذہن میں باربی کیو آتا ہے جو صحت کے لیے ٹھیک ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ سالن بنائیں تو اس میں تیل کا استعمال کم سے کم کریں۔

ان کے بقول چوں کہ گوشت میں اس کا اپنا فیٹ (چکنائی) موجود ہوتا ہے اور وہ اپنے ہی فیٹ میں بہت اچھا بن سکتا ہے۔ اس لیے بعض اوقات آپ کو کھانے میں خوردنی تیل ڈالنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔

فریحہ جے کا کہنا ہے کہ کوشش کریں کہ گوشت کے اوپر نظر آنے والی چربی کو نکال دیں یا ایک اور طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گوشت اُبال لیں اور پھر اس کے اوپر جو سفید رنگ کی تہہ آتی ہے وہ آپ ہٹا لیں۔

صحت مند طریقے سے عید گزارنے کے لیے چند ہدایات

ڈاکٹر احسن مجتبیٰ کا کہنا ہے کہ یہ ایسی ہدایت ہیں جس پر ہمیں نہ صرف عید بلکہ روز مرہ کی زندگی میں بھی عمل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں آرام پسند طرزِ زندگی سے ہٹ کر ورزش اور ایکٹی ویٹی کرنی چاہیے۔

ان کے بقول اگر آپ کھانے میں کوئی بد پرہیزی کر رہے ہیں یا دعوتوں میں جا کر کھانے کھا رہے ہیں تو اس کے بعد اپنی ورزش کو تھوڑا بڑھا دیں تا کہ جو کھانا آپ کے جسم کے اندر گیا ہے وہ ہضم ہو سکے۔

ڈاکٹر احسن کا کہنا تھا کہ واک کرنے سے آپ کی دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی ہیں اور جب آپ کے دل کی دھڑکن بڑھتی ہے تو ایسے افراد جنہیں کوئی مرض لاحق نہیں ہے ان کے جسم کا میٹا بولزم کا نظام تیز ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے آپ کا ہاضمہ اچھا ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ دن میں آدھا گھنٹہ اور ہفتے میں پانچ دن واک اور مستقل تیز تیز چہل قدمی سے آپ کی صحت اچھی رہے گی۔

قربانی کے جانور کے کون سے حصے نہ کھائیں؟

ماہر غذا فریحہ جے کا کہنا ہے کہ ہمیں عام طور پر گوشت کا استعمال کم رکھنا چاہیے کیوں کے اس سے دل اور کولیسٹرول جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو یورک ایسڈ کا مسئلہ ہوتا ہے وہ کوشش کریں کہ وہ قربانی کے جانور کی کلیجی، گردہ اور دل نہ کھائیں جب کہ وہ خواتین جو حاملہ ہیں انہیں بھی کلیجی وغیرہ سے پرہپز کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر احسن کہتے ہیں گردہ، کلیجی، تلی اور دل وٹامن اور پروٹین سے تو بھرپور ہوتے ہیں لیکن اس میں فیٹ کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ مذکورہ اشیا کا استعمال ضرور کریں لیکن کم سے کم کھائیں اور دل کے مریض اس سے مکمل پرہیز کریں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3142 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments