EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

مریم نواز کی کشمیر میں انتخابی مہم، ‘اسٹیبلشمنٹ پر تنقید حکمتِ عملی کے تحت کی جا رہی ہے’

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نواز کئی روز سے کشمیر میں انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔
لاہور — پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز ان دنوں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ مختلف جلسوں میں وہ عمران خان حکومت کے علاوہ، پاکستان کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ پر بھی تنقید کر رہی ہیں۔مریم نواز واضح کر چکی ہیں کہ اگر مسلم لیگ (ن) الیکشن ہاری تو وہ نتائج تسلیم نہیں کریں گی کیوں کہ اُن کے بقول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے گلگت بلتستان کی طرح پاکستانی کشمیر کا الیکشن چرانے کی تیاریاں کر رکھی ہیں۔

البتہ حکومت ان الزامات کی تردید کر رہی ہے جب کہ پاکستانی فوج کی جانب سے بھی متعدد بار کہا جا چکا ہے کہ اُنہیں سیاسی معاملات میں ملوث نہ کیا جائے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے لیے پولنگ 25 جولائی کو ہو رہی ہے۔

بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید مسلم لیگ (ن) کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جب کہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اُنہیں الیکشن میں ہار نظر آ رہی ہے اس لیے وہ اس کا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر گرانا چاہتی ہیں۔

‘مفاہمت اور مذاکرات ساتھ ساتھ کی پالیسی’

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے خیال میں یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کی سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔ جس کے تحت ایک پارٹی رہنما مذاکرات اور مصالحت کے لیے رہے جب کہ دوسرا اُن کے خلاف ہونے والی مبینہ زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتا رہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ مریم نواز کا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت رویہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اُن کا یہ رویہ خاصا پرانا ہو چکا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ مریم نواز کے لہجے میں تلخی نئی نہیں ہے، لیکن حکومت کی جانب سے خاص طور پر علی امین گنڈا پور اور مراد سعید کی جانب سے کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران جو زبان استعمال ہو رہی ہے۔ اس کو بھی سامنے رکھنا ہو گا۔

مریم نواز گزشتہ کئی روز سے پاکستانی کشمیر میں انتخابی مہم کے لیے موجود ہیں۔
مریم نواز گزشتہ کئی روز سے پاکستانی کشمیر میں انتخابی مہم کے لیے موجود ہیں۔

سلیم بخاری کہتے ہیں کہ وہ ایک بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ مریم نواز کی زبان سخت ہو سکتی ہے، لیکن یہ حکومتی وزرا کے مقابلے میں پھر بھی الفاظ کا بہتر چناؤ کرتی ہیں۔

اُن کے بقول حکومتی وزرا نواز شریف اور شہباز شریف کو ‘چور’ اور ‘ڈاکو’ کہتے رہتے ہیں لیکن جب مریم نواز عمران خان کو مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ اُنہوں نے کشمیر کا سودا کیا تو حکومت کو اس پر اعتراض ہوتا ہے۔

‘مریم نواز کی تقاریر سے اُن کی مایوسی ظاہر ہوتی ہے’

سینئر صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر میں مریم نواز انتخابی مہم کے دوران جو اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کر رہی ہیں اُس سے اُن کے اندر کی مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ اُن کے خاندان اور جماعت کے اندرونی جھگڑے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے صابر شاکر نے کہا کہ اندرونی اختلاف کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ جس میں تازہ ترین پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابی مہم کو لیڈ کرنے کا معاملہ ہے۔

صابر شاکر کے بقول انتخابی مہم سے قبل شہباز شریف نے یہ کہا تھا کہ وہ اکٹھے انتخابی مہم نہیں چلا سکتے۔ اُنہوں نے مزید کہا تھا کہ مریم صفدر صاحبہ کو کہا گیا تھا کہ وہ آرام کریں، لیکن اںہوں نے ایسا نہیں کیا۔

صابر شاکر کے بقول کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اکیلی مریم نواز ہی انتخابی مہم میں شریک ہیں جب کہ شہباز شریف پارٹی صدر ہونے کے باوجود انتخابی مہم میں نظر نہیں آ رہے۔

سینئر صحافی سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ مریم نواز ایک طرف تو اب بھی اسٹیبلشمنٹ سے ناراض ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ مل بیٹھ کر غلط فہمیاں دُور کرنے کے بھی حق میں ہیں۔

مریم نواز کے ہمراہ پارٹی کے دیگر رہنما بھی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔
مریم نواز کے ہمراہ پارٹی کے دیگر رہنما بھی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔

البتہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے بقول مریم نواز مسلم لیگ (ن) کو دیوار کے ساتھ لگانے یا قومی احتساب بیورو (نیب) کے ذریعے دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی تو اس سے تلخیاں بڑھیں گی۔

سلیم بخاری کے خیال میں اگر مریم نواز کے نکتۂ نظر سے دیکھا جائے تو جو اُن کی جماعت کے ساتھ ہوا۔ مثال کے طور پر شہباز شریف، حمزہ شہباز، خواجہ آصف، سعد رفیق سمیت دیگر رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ لیکن نیب اُن کے خلاف کوئی کیس ثابت نہیں کر سکی، لہذٰا اُن کے لہچے میں انہی عوامل کی وجہ سے تلخی ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر کے خیال میں اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان دونوں کا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاست اور انتخابات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اُن کے خیال میں کسی بھی سیاسی جماعت کی اتنخابی مہم کو دیکھا جائے تو کشمیر سے متعلق بات کی جاتی ہے لیکن مریم نواز ایسی کوئی بات نہیں کرتیں۔

صابر شاکر کی رائے میں "مریم نواز ایک طرف تو عمران خان صاحب کو حرفِ تنقید بنا رہی ہیں تو دوسری جانب افواجِ پاکستان کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ افواجِ پاکستان کی بھی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔”

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ مریم نواز کا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اِس لیے غصہ کم نہیں ہو رہا کہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ نواز شریف کو بطور وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ نے نکالا اور آج نواز شریف جس صورتِ حال سے دوچار ہیں، اِس میں اسٹیبلشمنٹ کا کافی کردار ہے۔

سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کو جارحانہ انداز کی سیاست کی ضرورت ہوتی ہے تو مریم نواز کو آگے کر دیتے ہیں۔ اِسی طرح جب مفاہمت اور مذاکرات کی ضرورت ہوتی ہے تو شہباز شریف آگے چلے جاتے ہیں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر کے بقول مریم نواز چوں کہ اِس وقت پارلیمنٹ سے باہر ہیں۔ اِنہیں اِس بات کا بھی دکھ ہے کہ انہیں انتہائی اہمیت کے حامل ملکی معاملات میں اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ صابر شاکر کے خیال میں مریم صفدر صاحبہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران جو پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں کوئی پاکستانی اس سے اتفاق نہیں کر سکتا۔

سینئر صحافی سلیم بخاری کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے مسلط کیا ہے اور اِس بات کو وہ بہت کھل کر کرتے ہیں۔ دوسری جانب (ن) لیگ یہ بھی سمجھتی ہے کہ جب سے عمران خان حکومت میں آئے ہیں اُن سے گورننس نہیں ہو رہی۔ اُنہوں نے اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔

سہیل وڑائچ کے خیال میں مریم نواز اپنی انتخابی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عمران خان صاحب پر بھی تنقید کرتی ہیں جب کہ شہباز شریف صرف عمران خان کو حرفِ تنقید بناتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2594 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے