مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک (آٹھویں قسط)

مغربی ادب۔ ریلزم اور نیچرل ازم کے دور میں

انیسویں صدی میں یورپ کی سوسائٹی کئی ایک سیاسی، سماجی، سائنسی اور اخلاقی تبدیلیوں سے گزرتی چلی گئی۔ تبدیلی کا یہ عمل اس قدر شدید اور تیزرفتار تھا کہ رومانس ازم کی حسین اور خیالی ادبی دنیا اس کے سامنے بہت دیر تک پاؤں نہ ٹکا پائی اور بالآخر فطری اور حقیقی دنیا میں اپنی بقاء کے امکانات ڈھونڈنے لگی۔

انیسویں صدی میں ہونے والی اہم سیاسی تبدیلیوں کا آغاز ہمیں 1815 کی ’ویانا کانگریس‘ سے دکھائی دیتا ہے جس میں اس دور کے پانچ طاقتور ترین ممالک برطانیہ، فرانس، رشیا، پروشیا اور آسٹریا کی شمولیت ہوئی تھی تاکہ واٹر لو کی جنگ میں نیپولین کی شکست کے بعد یورپ میں ایک دیرپا امن کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کانگریس کے مقاصد روایتی بادشاہی نظام کو تحفظ پہنچانے کے لیے یورپ کی مختلف اقوام کے درمیان ایک توازن قائم کرنا اور مستقبل کے انقلابات سے بچنے کے خاطر آزادی اظہار پر کنٹرول، پبلیکیشن پر سنسر شپ اور سیکرٹ پولیس کے قیام کو قانون کا حصہ بنانا تھا۔

مگر ان تمام کوششوں کے نتائج میں ’نیشن اسٹیٹ‘ کا تصور بتدریج مستحکم ہوتا چلا گیا اور یوں 1830۔ 1848 کے دوران یورپ کے مختلف حصوں پروشیا، آسٹرو ہنگرین، جرمنی اور اٹلی میں یکے بعد دیگر انقلابات کا سلسلہ شروع ہوتا چلا گیا۔ جس کے نتیجے میں آسٹریا اور پریشیا میں جاگیردارانہ نظام اور رشیا میں غلامی کے دور کا خاتمہ ہوا، جرمنی اور اٹلی کی مختلف ریاستوں کے درمیان یونیفیکیشن ہوئیں، فرانس اور جرمنی میں طبقاتی تقسیم کو استحکام ملا اور نیشنل ازم کے تصور کو طاقت نصیب ہوئی۔ بالآخر رشیا، سلطنت عثمانیہ اور آسٹرو ہنگرین ایمپائر میں آباد مختلف نسل و تہذیب کی اقوام نے اپنی آزادی کا مطالبہ کر دیا اور یوں یہ ریاستیں کمزور ہوئیں اور پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی چلی گئی۔

اسی دوران 1853 1856۔ کی کریمین وار میں رشیا کی صنعتی ترقی نہ ہونے کی وجہ سے برطانیہ اور سلطنت عثمانیہ سے شکست ہوئی جس کا فائدہ فرانس، برطانیہ اور سلطنت عثمانیہ کو بہتر ذرائع ابلاغ اور ٹرانسپورٹ کے نظام کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس دوران جہاں برطانیہ میں ہمیں وکٹورین عہد 1837 سے 1901 نظر آتا ہے وہیں امریکہ میں 1861 سے 1865 تک چلنے والی سول وار بھی جس کے نتائج میں ایک نئے امریکہ کی تعمیر ہوئی، غلامی کے عہد کا خاتمہ ہوا اور رنگ و نسل سے بالاتر مساوات کا ایک نیا نظام قائم ہوا۔

انیسویں صدی کے اس عرصے میں نہ صرف اہم سیاسی تبدیلیاں مغرب میں آئیں بلکہ تین عظیم انقلابات یعنی صنعتی، سائنسی اور اخلاقی انقلابات بھی رونما ہوئے جنہوں نے مغربی معاشرے کی فکر میں ایک تاریخی تبدیلی پیدا کی اور جس کے اثرات اس دور کے ادب میں قابل ذکر تبدیلی کا سبب بنے۔ صنعتی انقلاب کا آغاز بھاپ کے انجن، ریلوے کی ایجاد اور فیکٹریوں کے چاروں جانب پھیلتے ہوئے جال سے ہوا جس نے شہری زندگی کے پورے سماج میں اتھل پتھل مچا دی۔ جوں جوں دیہات سے شہری نقل مکانی بڑھتی گئی، آبادی بے قابو انداز سے پھیلتی چلی گئی اور یوں بڑھتے ہوئے معاشی مسائل شراب نوشی، جسم فروشی اور نفسیاتی و جسمانی بیماریوں کے پھیلنے کا سبب بن گئے۔

اسی دور میں امریکہ اور یورپ کی مختلف ریاستوں کے درمیان سڑکوں اور ریلوے کا وسیع جال بچھایا دیا گیا، ایڈیسن نے گراموفون اور بلب ایجاد کر دیا اور مادام کیوری نے ریڈیو ایکٹو ٹی دریافت کی۔ آ گسٹ کامٹی نے ’پوزیٹو ازم‘ کا کائناتی حقیقت پر مبنی ایک تین رخی ارتقائی فلسفہ (مذہبی، معا بعد الطبیعیاتی اور طبیعیاتی) دیا جس میں اس نے ’سائنسی شعور اور علم‘ کو حتمی سچائی قرار دیا۔

اس دور کے اخلاقی انقلاب نے وکٹورین دور کی منافقانہ اخلاقیات کا خاتمہ کر دیا جس کی بنیاد چارلس ڈارون کی کتاب ’اوریجن آف اسیشیس‘ سے پڑی۔ اس کتاب میں ڈارون نے حیاتیاتی آغاز کو مذہبی خیال سے نکال کر سائنسی و جغرافیائی ثبوت کے ساتھ ارتقائی حقیقتوں کے سپرد کر دیا اور خدا کے الہامی تصور اور اس سے منسلک سماجی و اخلاقی تصورات پر سخت تنقیدانہ سوالات کھڑے کر دیے۔ اس عرصے میں صنعتی معاشرے میں پھیلنے والی معاشرتی تفریق پر کارل مارکس کے ’کمیونسٹ مینی فسٹو‘ اور پھر مذہبی و اخلاقی تعمیر کی عمومی ناکامی پر نطشے کے

سپرمین ’نے معاشی اور فلسفیانہ افکار کو نئی جہتیں عطا کردیں۔

انیسویں صدی کی سیاسی، سماجی اور سائنسی افکار کی طاقتور اور تیز رفتار تبدیلیوں نے عمومی انسانی نفسیات کو متنازعہ مسائل اور فکری جدوجہد سے دوچار کر دیا اور ادب کو رومانسزم کی جادوئی دنیا سے نکال کر ریلزم اور نیچرلزم کی حقیقی دنیا میں لا کھڑا کیا جہاں اسے مسائل سے بھری پری سوسائٹی میں انسانوں کی ترجمانی کی ذمہ داری اٹھانی پڑی۔ گو کہ اس سے قبل ہی برطانیہ میں جین آسٹن ( 1775۔ 1817 ) کے ناولوں کے کردار بیک وقت رومانی اور حقیقی مسائل سے دوچار نظر آتے ہیں یا چارلس ڈکنز ( 1812۔

1870 ) کے ناول اس دور میں ایک سوشل ریفارم کا سبب بن رہے تھے مگر امریکہ میں تو سول وار کے بعد ہی کلچرل سینٹر بوسٹن سے نیویارک منتقل ہو گیا اور یوں امریکی ادب سے بھی ’رومانی امریکہ‘ کا تصور غائب ہوتا چلا گیا۔ جیسے مارک ٹوئین ( 1835۔ 1910 ) نے ’ایڈوینچر آف ہیکل بریفن‘ لکھی جو جنوبی امریکی ریاستوں میں پھیلی ہوئی غلامی پر لکھا گیا سخت تنقیدی ناول تھا۔

ریلزم کی اگلی منزل نیچرلزم کی صورت مغربی ادب میں پیدا ہوئی۔ جہاں ریلزم میں ایک اعتدال کی کیفیت تھی وہیں نیچرل ازم میں انتہا پسندی اور سختی کی سی شکل تھی۔ نیچرل ازم کے تحت تخلیق ہونے والے ادب میں فرد اور معاشرے کے مسائل کے حل کے لیے مادیت یا سائنسی فکر کو ہی حتمی وجہ تعبیر کیا گیا۔ ’فرینچ مین ایملی زولا‘ جو ایک فرانسیسی ناولسٹ، تنقید نگار اور سیاستدان تھے، انہوں نے اپنے 20 ناول کی سیریز ’روگن میکوارٹ سائیکل‘ کو نیچرل ازم کے تصور پر تخلیق کیا۔

ان کے ناول ’لابیٹ ہومین‘ میں انسانی تہذیب کو محض ایک ’وارنش‘ سے تشبیہ دی گئی ہے جس کا ملمع شراب کے نشے، جنسی خواہشات اور نفسیاتی دباؤ کی زیادتی کے نتیجے میں اسے گرا کر حیوانیت کی فطری سطح پر لے آتا ہے۔ اس کے مطابق کیونکہ نیچرل ازم کا تصور قنوطیت، یاس و مایوسی یا ڈپریشن سے منسوب ہے اس لیے زندگی اور فرد کی بے معنویت اسے یا تو قطعی حیوانیت کی سطح پر لا کھڑا کرتی ہے یا پھر خودکشی کی طرف مائل کر دیتی ہے۔

کیونکہ نیچرل ازم کی ادبی تخلیقات میں ’ماڈل‘ سائنسی توجیہات سے آتا ہے اسی لیے ادب تصوراتی اور تخیلاتی تخلیق کے بجائے سوشل اور بائیولوجیکل حقائق اور اعداد و شمار کی مدد سے تشکیل پاتا ہے جس سے ادب کے معیارات انسانی جسم اور دماغ کی میکینیکل چیر پھاڑ تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں سوشل رئیلٹی ایک ’معروضی سچائی‘ سمجھی جاتی ہے اس لیے ادب میں فارم سے زیادہ ’مقدار‘ اہم ہوجاتی ہے۔ پلاٹ میں خوبصورتی سے زیادہ واقعات کے ’تاریخ وارانہ مراحل‘ اور فرد اور ماحول کے رشتے کو ظاہر کرنے کے خاطر ’بے مقصد منظر کشی‘ پر زور ملتا ہے۔ جان اسٹائین بیک کا ناول ’آف مائیس اینڈ مین‘ نیچرلسٹ ناول کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ ناول 1937 میں پبلش ہوا تھا جس کی کہانی جارج ملٹن اور لینی استعمال کے گرد گھومتی ہیں جو گریٹ ڈپریشن کے دور میں کیلیفورنیا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں تاکہ کسی طرح سے بھی ایک نوکری حاصل کرسکیں۔

(جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words