کون روئے گا تیرے مرنے کے بعد !

آج کل روبن شرما کی کتاب Who Will Cry When You Die؟ ہمارے زیر مطالعہ ہے جس میں مصنف نے زندگی کی مقصدیت پر کئی سوال اٹھائے ہیں اور اس نے بڑی بڑی کارپوریشنز کے سی۔ ای۔ اوز کی ورکشاپ میں بھی یہ سوال پوچھا کہ زندگی میں ہماری تمام تر کامیابیوں کے باوجود کیا ہم نے کبھی اس سوال پر غور کیا ہے کہ جب ہم اس دنیا میں نہیں ہوں گے تو کون کون ہمیں یاد کر کے روئے گا۔

روبن شرما کے اس سوال نے مجھے بھی کچھ چو نکا دیا اور ہم نے عالم تصور میں اپنی زندگی کی فلم کو دس پندرہ سال فارورڈ کر کے دیکھا تو عجیب منظر نظر آیا۔ کچھ رشتے دار اور ان جان لوگ ہماری میت کو اٹھا کر شہر خموشاں لے جا رہے ہیں۔ وہ جگہ جہاں ہم جیسے کئی طرم خان ڈھیروں من مٹی کے تلے دفنا دیے گئے۔ وہ مقام جہاں ہم نے کئی پیارے، اپنے ہاتھ سے دفن کیے ۔ قبر ستان، جس کے قریب سے ہم اپنی گاڑی تیزی سے دوڑاتے ہوئے گز ر جاتے ہیں اور کبھی ان کی قبروں کی جانب مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ آج ہمیں وہیں لایا جا رہا تھا۔

ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ایک قریبی رشتے دار نے ہمارے آخری دیدار سے پہلے کچھ آنسو بہائے، کچھ نے ہمارے کفن میں ملبوس لاشے کی سیلفیاں لیں اور پھر ہمیں قبر میں اتار دیا گیا۔ جہاں بہت اندھیرا تھا جس سے ہم عمر بھر ڈرتے رہے۔ ہمیں سپرد خاک کر کے، ہمارے سب عزیز و اقارب اور دوست احباب اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ بعد از مرگ، کچھ دن ہمارے گھر میں صف ماتم بچھی رہی اور پھر ہماری یاد بھولی بسر ہو گئی اور ہمارے سب چاہنے والے اپنی زندگی کے میلوں میں کھو گئے۔ ہاں کبھی کوئی، دیوار پر لٹکی ہماری فوٹو دیکھ کر ایک آہ بھرتا پھر وہ سلسلہ بھی، تصویر کا فریم ٹوٹنے کے ساتھ ہی بند ہو گیا۔

ہماری روح ابھی عالم تصور میں گم ہی تھی کہ کسی فقیر نے دروازے پر دستک دی اور ہم پھر سے چونک گئے اور اپنی دنیا میں واپس لوٹ آئے۔ معلوم نہیں حقیقت وہ تھی جو ہم نے اپنی بند آنکھوں سے دیکھی یا وہ جس میں ہم نے اپنے سامنے کھڑے ایک بوڑھے فقیر کو دیکھا جو اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا سوال کر رہا تھا۔ زندگی کا تلخ سچ جس کا مجھے سامنا تھا۔ ایک غریب باپ جو اپنی اولاد کے لیے مجھ سے مدد کا طلبگار تھا۔ حقیقت اور سچائی جو بھی ہو لیکن روبن شرما کا سوال اپنی جگہ موجود رہا کہ کون روئے گا تیرے مرنے کے بعد ؟

وہ اولاد روئے گی جن کے آج کی خاطر، ہم اپنا کل برباد کر دیتے ہیں۔ وہ جن کی خاطر ہم دوسروں کے بچوں کے منہ کا نوالہ بھی چھیننے سے باز نہیں آتے۔ وہ جن کے سکون کی خاطر ہم نے اپنے اصول توڑے، بد دیانتی کی، دولت جمع کی اور بڑے بڑے محلات تعمیر کیے۔ کیا وہ ہمیں روئیں گے؟ شاید نہیں۔ جب انہیں ہماری حقیقت کا علم ہو گا، وہ رونا تو درکنار شاید اپنے نام کے ساتھ ہمارا نام لکھنا بھی پسند نہ کریں۔

یا پھر وہ اولاد ہمیں روئے گی، جن کی خاطر ہم نے ایمان داری کے ساتھ دن رات محنت کی۔ اپنا تن من دھن سب کچھ ان کی خوشیوں پر نچھاور کر دیا۔ کیا وہ ہمیں یاد کر کے روئیں گے۔ لیکن کیوں؟ کیا ان کا رونا بنتا بھی ہے یا نہیں۔ ہم نے اولاد پیدا کرنے اور انہیں پالنے پوسنے کی ذمہ داری خود اپنی مرضی سے اپنے سر لی، پھر بھلا ان سے یہ توقع کیوں رکھیں کہ وہ ہمارے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد ہم پر روئیں گے۔ شاید، وہ ہمیں اچھے الفاظ میں یاد ضرور رکھیں، ہم پر فخر بھی کریں اور چند آنسو بھی بہا لیں۔ لیکن اگر وہ یہ سب کچھ نہ بھی کریں تو کوئی گلہ نہیں۔ ہمیں تو بس اپنا فرض نبھانا تھا جو پورا کر چکے۔

ہاں مگر وہ فقیر ہمارے مرنے پر ضرور روئے گا جس کی ہم نے مشکل وقت میں مدد کی تھی۔ اگر ہم کسی ضرورت مند کو اپنے دروازے سے دھتکار دیں تو وہ غریب ہمارا کیا بگاڑ لے گا لیکن شاید انسانیت کے ناتے کی گئی مدد اسے ہمیشہ یاد رہے گی۔ کسی یتیم کے سر پر رکھا ہوا ہمارا شفقت بھرا ہاتھ اسے کبھی نہیں بھولے گا۔ ہماری لکھی ہوئی تحریر اگر کسی کی زندگی بدل سکتی ہے تو ہم ضرور یاد رکھے جائیں گے۔ ہماری کوئی ایجاد جس سے کروڑوں انسانوں کا بھلا ہو، وہ ہمیں امر کر دے گی۔

اگر ہم نے دنیا میں خون کے رشتوں کے ساتھ ساتھ انسانیت کے رشتے کو بھی سمجھا اور اچھی طرح نبھایا تو یقین جانیں ہم یاد رکھے جائیں گے۔ جب جب لوگ ہماری بھولی بسری داستان سنیں گے تو شاید ہمارے لیے غم کے نہیں تو خوشی کے چار آنسو ضرور بہائیں گے۔ بس یہی روبن شرما کا پیغام تھا کہ اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے۔ مزا تو تب ہے جب ہم دوسروں کے لیے جینا سیکھیں۔

مولانا روم بھی ہمیں مرنے کے بعد زندہ رہنے کا بڑا اچھا گر سکھاتے ہیں۔ مولانا کے بقول، ”جب مجھے کفن پہنا دیا جائے تو یہ مت سوچنا کہ میں دنیا سے جا رہا ہوں۔ میرے جانے کے بعد مجھ پر آنسو مت بہانا، میرے لیے غم زدہ مت ہونا، میں کسی بلا کے گھر تو نہیں جا رہا۔ جب تم دیکھو، میری میت اٹھ رہی ہے، تو چیخنا چلانا مت، میں کہیں نہیں جا رہا، میں تو ابدی محبت والے گھر داخل ہو رہا ہوں۔ جب تم مجھے قبر میں اتارو، تو الوداع مت کہنا، یاد رکھو، قبر تو بس ایک پردہ ہے، جس کے پیچھے امن کا گھر ہے۔

تم مجھے قبر میں اترتا ہوا تو دیکھ رہے ہو، کیا جانتے بھی، یہ میرا انت نہیں، کیا سورج کے ڈوب جانے اور چاند کے غائب ہو جانے سے ان کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہ بس نظر کا دھو کا ہے کہ سب کچھ ختم ہو گیا، سب کچھ ڈوب گیا، لیکن حقیقت میں تو یہ ایک نئی شروعات ہے، ایک نئے دن کا آغاز۔ جب قبر پر مٹی ڈال دی جائے تو روح آزاد ہو جاتی ہے، کیا تم نے دیکھا کہ کوئی بیج زمین پر گرے اور پھر نئی زندگی بن کر ابھر نہ آئے، ایسا ہے تو پھر تم کیوں شک کرتے ہو کہ وہ بیج جس کا نام انسان ہے وہ زیر زمین جانے کے بعد زندہ نہیں رہے گا۔ ”

ہاں ہم انسان چاہیں تو ہمیشہ اپنی نیکیوں کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں۔ وہ نیکی نہیں جو ہم اپنی ذات کے لیے کرتے بلکہ وہ خیر کا عمل جس سے کسی دوسرے کا بھلا ہو۔ بس ہمیں بابا بلھے شاہ کی طرح اپنے آپ سے پوچھتے رہنا چاہیے کہ بلھا کیہ جاناں میں کون، روبن شرما کی طرح کچھ سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی سعی جاری رکھنی چاہیے کہ کون روئے گا تیرے مرنے کے بعد اور محبت کے گرو، حضرت رومی کی طرح اس یقین کے ساتھ جینا اور امید کے ساتھ مرنا ہے کہ ہما را جینا اور مرنا، کسی سایہ دار درخت کے اس بیج کی طرح ہیں جو بظاہر مٹی تلے دب جائے مگر پھر ایک تناور درخت بن کر، لوگوں کو دھوپ سے بچانے کے لیے ٹھنڈی چھاؤں دینے لگے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words