گلگت،ہنزہ اور پرتاب پل
جگلوٹ کی موجودہ ترقی بھی پاک آرمی کے بیس کیمپ کی وجہ سے ہے۔ یہ ٹاؤن دفاعی نقطہ نظر سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ سیاچین کی حفاظت کا کچھ بندوبست یہاں سے بھی کیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر بھی یہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ انیسویں صدی میں جگلوٹ کو دریائے سندھ کے پار ”بونجی“ نامی گاؤں جو مہاراجہ کشمیر کا ایک فوجی پڑاو تھا، سے ملانے کے لئے ایک فیری سروس چلتی تھی بعض میں مہاراجہ نے یہاں سسپنشن برج بنوا دیا جو آج بھی موجود ہے۔
جگلوٹ سے کوئی پچاس کلومیٹر اوپر اور گلگت سے دس کلومیٹر پیچھے شاہراہ ریشم ہنزہ کی طرف مڑ جاتی ہے۔ گلگت شہر کا یہ حصہ شاہراہ ریشم کے مسافروں کو اگرچہ کھانے پینے اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی کا ذریعہ ہے مگر قراقرم ہائی وے کے دونوں اطراف دکانوں اور مارکیٹوں کی تعمیر نے اتنا رش کر دیا ہے کہ آرام سے گزرنا محال ہے۔ ٹریفک کنٹرول کے لئے پولیس کو مستعدی سے کام کرنا پڑتا ہے۔
ہم چائے کے لئے یہاں رکنا چاہتے تھے مگر ٹریفک کا بہاو ہمیں کہیں بھی رکنے کا موقع نہیں دے رہا تھا۔ یوں تو ٹریفک دنیا بھر کا مسئلہ ہے مگر دنیا اس مسئلے کے حل کی مسلسل کوشش میں مصروف ہے۔ پاکستان کے لوگ اور حکومت مل کر اس مسئلے کو بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ چلتے چلتے چوک سے کوئی آدھا کلومیٹر آگے جگہ ملی۔ شکر ہے قریب میں ایک بیکری نظر آ گئی جہاں سے ہمیں چائے شائے مل گئی۔
ایک اور بڑا مسئلہ فون اور فون سے زیادہ انٹر نیٹ کا ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں کی مقبول ترین نیٹ ورک جیسے جیز، زونگ اور یو فون وغیرہ قراقرم ہائی وے کے اکثر مقامات پر نہیں چلتیں، اس بات کا ہمیں ہنزہ جاکر علم ہوا۔ یہاں صرف ”ایس کام“ چلتی ہے۔ ہنزہ پہنچنے سے پہلے ہم نیٹ کمپنیوں و کوستے رہے کہ لوٹ مار میں ان کا جواب نہیں۔ دعوے آسمانوں کے ہوتے ہیں اور ملتے زمین پر بھی نہیں۔ ان کے ریٹ اور پیکیج سمجھنے کے لئے الگ سے پی ایچ ڈی کرنا پڑتی ہے۔
گلگت جو کہ گلگت بلتستان کا دارالخلافہ ہے دریائے ہنزہ اور دریائے گلگت کے سنگم پر ایک بڑی وادی میں آباد خوبصورت شہر ہے۔ یہ شہر کبھی بدھ ازم کا مرکز تھا۔ مہاتما بدھ کے کئی سٹوپا یہاں موجود ہیں جن پر سنسکرت میں لکھی مقدس عبارات بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔ یہ شہر گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں اور چوٹیوں کو سر کرنے والے اور پہاڑوں کی خوبصورتی کو محسوس کرنے والے سیاحوں کی مہمان نوازی میں پیش پیش ہے۔ سال کے نو ماہ سردی رہتی ہے باقی تین مہینے شدید گرمی ہوتی ہے۔ بارش کم ہوتی ہے اور کاشتکاری دریائی پانی سے کی جاتی ہے۔
شام کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے۔ نعمان سو گیا تھا۔ صبح جب ہم ناران سے نکلے تھے وہی گاڑی چلا رہا تھا۔ گاڑی میں نے پکڑی تو گاڑی میں چلنے والی موسیقی میں نعمان کے خراٹے بھی شامل ہو چکے تھے۔ گلگت سے ہنزہ شاہراہ ریشم ایک بار پھر خوبصورت اور سر سبز ہوتی جا رہی تھی۔ نومل کے مقام پر ایک راستہ نلتر ویلی کو جاتا ہے مگر ہماری منزل کریم آباد تھی۔ کوئی ایک گھنٹے یا دیر میں ہم ”راکا پوشی ویو پوائنٹ“ پر پہنچے۔ یہاں سیاحوں کا رش لگا ہوا تھا۔ ندی کے ساتھ اور پل کے آس پاس بہت سے ہوٹل اور سووینیئر شاپس کھل گئی ہیں۔ گائے اور یاک کے گوشت سے گندھے قیمے والے نان جنہیں مقامی زبان میں۔ شپشور کہتے ہیں گرم گرم چائے کے ساتھ پہلی دفعہ کھائے تھے، مزہ آیا۔
ہماری منزل کریم آباد کا رومی ہوٹل تھا۔ تھکے ہوتے تھے، دل کر رہا تھا، یہیں ہوٹل سے کھانا کھا کر لمبی تان کر سو جائیں۔ نعمان نے آتے ہوئے کوئی لاہوری ناشتہ پوائنٹ دیکھ لیا تھا۔ چھوٹو کی رائے تھی کہ وہ ناشتہ پوائنٹ ہے اور ہم نے ڈنر کرنا ہے۔ دونوں بہن بھائی بحث میں الجھتے جا رہے تھے کہ بیگم نے بیچ بچاو کرتے ہوئے کہا ”ہم کون سا پیدل جا رہے ہیں، کوئی اور ہوٹل دیکھ لیں گے“ ہوٹل کھلا تھا اور لوگ ڈنر کر رہے تھے۔
رش اتنا نہیں تھا۔ چھوٹو نے پھر ویٹو کرتے ہوئے کہا ”بابا یہ ہوٹل چلتا نہیں ہے، کھانا بھی اچھا نہیں ہوگا“ ۔ بیگم مگر ہوٹل کے شیف سے کچھ گفتگو کر رہی تھی، کہنے لگی میں نے شیف کا انٹرویو کر لیا ہے، ٹھیک ہے۔ کھانا واقعی اچھا بنا تھا۔ ہمارے اصرار پر اس نے تازہ روٹی توے پر بنا دی تھی۔ ہم ٹھنڈے نان کھانے سے بچ گئے۔ بیگم کو نان کھانا اتنا برا لگتا ہے کہ بس۔ کہتی ہے سالن جتنا مرضی اچھا پکا ہو نان کے ساتھ کھاو تو ”سواد“ آ ہی نہیں سکتا۔
رات ٹھنڈی ہوتی جا رہی تھی۔ ہم سب چائے اور چھوٹو کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ دور چوٹیوں کے درمیان چاند نکل آیا تھا۔ کچھ چوٹیاں چاند کی روشنی منعکس کرتے ہوئے سنہری ہوتی جا رہی تھیں۔ چاند کی تاریخ اس کے سائز سے ہی معلوم دے رہی تھی۔ چودہویں کا چاند تمام تر رعنائیوں کے ساتھ وادی ہنزہ کو بقعہ نور بناتا چلا جا رہا تھا۔ وادی ہنزہ کا اس طرح کا خوبصورت نظارہ ایک بار پہلے بھی دیکھنا نصیب ہوا تھا جب ہم دوستوں کے ایک گروپ کے ساتھ وادی ہنزہ کہ خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
ہمارے ساتھ آیا ہوا ”ماسٹر“ مگر سر شام ہی سو گیا تھا۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر ہمیں نیند سے بیدار کرنے کی ناکام کوشش کرتا رہا تھا۔ دوپہر کو جب اس سے ہماری ملاقات ہوئی تو کہنے لگا، تم پہاڑ پر سونے کے لئے آتے ہو، یہاں آ کر بھی تم نے اگر طلوع آفتاب نہیں دیکھا تو کچھ نہیں دیکھا۔ ہم ساری رات چاند دیکھتے رہے تھے۔ وادی میں تب بے شمار ٹورسٹ پوری دنیا سے چاند رات کو ہنزہ کا نظارہ کرنے پہنچے ہوئے تھے۔ آدھی رات کا چاند جگمگا رہا تھا۔ ہم ہوٹل کی چھت پر بیٹھے موسیقی اور چاندنی سے لطف اندوز ہوتے رہے حتیٰ کہ ہماری آنکھیں نیند سے بند ہو گئیں۔





