کرسٹی اینڈ ٹوٹو (طبع زاد سندھی کہانی کا ترجمہ)

کرسٹی نے اپنی میڈیکل رپورٹ کو بار بار دیکھا؛ لیکن اس میں کوئی تبدیلی نہی آئی؛ وہ + ہی رہی۔ رپورٹ کے مطابق وہ حاملہ تھی۔ اور زچہ و بچہ بالکل صحتمند اور توانا تھے۔ لیکن یہ مثبت رپورٹ اس پر منفی طور اثرانداز ہونے والی تھی۔

اسے گزشتہ روز ہی شک ہو گیا تھا اور اس نے حمل ٹیسٹ کرنے والی سٹرپ خرید کر خود ہی ٹیسٹ کیا اور معلوم کر لیا کہ وہ حاملہ ہے، لیکن اس نے سوچا شاید باقاعدہ ٹیسٹ سے یہ نتیجہ غلط نکل آئے۔ لیکن باقاعدہ رپورٹ کے مطابق بھی وہ بے قاعدہ حاملہ تھی۔ کیوں کہ یہ حمل اس شخص سے تھا جو کہ اس سے تو کیا کسی سے بھی شادی کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کا قول تھا کہ اس کی اولین ترجیح اس کا فیوچر ہے اور ایک سیکیور فیوچر کے بعد ہی وہ شادی کر سکے گا۔ البتہ وہ محبت کا قائل تھا اور عشق میں بے جھجک تمام حدود پار کرچکا تھا۔ کرسٹی اس سلسلے میں کسی طاقتور ملک کے کمزور ہمسائے جتنی موہوم سی مزاحمت بھی نہ کر پائی۔ لیکن وہ قصہ تو پہلے بچے کا تھا۔

یہ دوسری بار تھا کہ تمام ”سیفٹی پریکاشنس“ کے باوجود وہ ”پرگننٹ“ ہو چکی تھی۔

”اوہ گاڈ!“ وہ سر پکڑ کر بڑبڑائی، ”ناٹ اگین!“ ایک بار پھر ابارشن کا عذاب؟ وہ سوچنے لگی، یہ ٹوٹو بھی نجانے کون سے سیارے کی مخلوق ہے۔ اتنی احتیاط کے باوجود وہ ایک بار پھر نہ چاہتے ہوئے بھی حاملہ ہو چکی تھی۔ دراصل کرشنا کرشنانی عرف کرسٹی جب ایل ایل بی کی پہلے سال میں تھی تو طوطو مل عرف ٹوٹو اس کا بوائے فرینڈ تھا۔ دونوں کے والدین قدامت پسندی کے باوجود بچوں کی دوستی کے آگے مجبور تھے۔ خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فریقین کی ایک ایک ہی اولاد تھی۔

کرشن کرشنانی ایک بڑے تاجر تھے۔ اور رام کمل نامور وکیل۔ اور ان کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا بھی ایل ایل بی کر کے پریکٹس شروع کر دے۔ لیکن یہ صاحب تو ایل ایل بی میں آ کر مانو دلدل میں دھنس گئے اور مسلسل فیل ہوتے رہے حتی کہ ان سے پیچھے رہنے والی ان کی پڑوسن کرشنا کرشنانی بھی اسی کلاس میں ان کی ہم جماعت بن گئی۔

یہ بھی تعلیمی اداروں اور دیگر طلبا کے رویے کا اثر ہی تھا کہ وہ دونوں کرشنا کرشنانی اور طوطومل سے کرسٹی اور ٹوٹو بن گئے۔ اور ان کے ماڈرن ناموں یا عرفیتوں میں سے ان کے ہم جماعت کچھ اس طرح مطمئن ہو گئے جیسا کہ ان کے اباو اجداد میں اسی قسم کے نام چلتے آرہے ہوں۔ جب کہ اس سے قبل طوطو مل اور کرشنا کو بابار یہ وضاحت کرنی پڑتی تھی کہ وہ ہندو سندھی ہیں اور وہ اس قسم کے نام بھی رکھتے ہیں۔ کرسٹی اور ٹوٹو میں پڑوسیوں کے طور پر واقفیت اور تعلقات تو پہلے ہی تھے اب وہ نہ صرف ہم جماعت تھے بلکہ ہم مذہب بھی، تو جلد ہی پہلے دونوں میں دوستی ہوئی اور پھر دونوں محبت کے راہ پر چل پڑے۔ پیار کی راہوں میں بھٹکتے بھٹکتے دونوں اس قدر دور نکل گئے کہ واپسی مشکل ہو گئی۔ اور کرسٹی حاملہ ہو گئی۔ اب کرسٹی نے طوطومل کو خالصتاً نسوانی رائے دی، ”طوطو اب ہمیں شادی کر لینی چاہیے۔ اب ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں۔“

”اوہ ربش!“ ٹوٹو نے لاپرواہی سے کہا، اور یہ مردانہ مشورہ دیا، ”سوئٹ ہارٹ پریشان کیوں ہوتی ہو؟ سنا نہیں ہمت مرداں مدد خدا۔“

”مطلب؟“
”مطلب یہ مرد ہمت کرتا ہے تو خدا اس کی مدد کرتا ہے۔“
”لیکن تم مرد کہاں ہو؟“
”کیا مطلب میں مرد نہیں ہو ں؟“ ٹوٹو استعجاب اور استفسار کی نشانی بن گیا، ”میں مرد نہیں ہوں؟“
”میرا مطلب کہ ہم نے شادی نہیں کی تو تم میرے مرد یعنی پتی تو نہیں ہوئے نا!“ وہ معصومیت سے بولی۔

”تم نے تو میرا اور مردوں کا خانہ خراب کر دیا ہے لڑکی،“ ٹوٹو اپنا قہقہہ نگل کر بولا۔ ”خیر میرا مطلب ہے کہ میں فی الحال شادی یا بچے جیسی عیاشی افورڈ نہیں کر سکتا، اس لیے مناسب یہی ہوگا کہ ہم ابارشن کرالیں۔“

”تم کرالو میں تو نہیں کراؤں گی،“ وہ بنا سوچے سمجھے بولی، ”یہ ہمارے پیار کی نشانی ہے۔ اور تمہیں تو پتہ ہے آئی لو کڈز ویری مچ۔“ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔

”ارے یار میرے بس میں ہوگا تو میں تمہاری جگہ اپنے بچوں کو بھی جنم دے دوں گا لیکن فی الحال میں“ گھربوتا ”نہیں بلکہ تم گربھوتی ہو سو ابارشن بھی تمہیں کرانا ہے۔“ ٹوٹو نے مزاحیہ انداز میں کہا تو وہ چڑ گئی، ”میری جان پر بنی ہوئی ہے اور تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے!“

”او ڈارلنگ،“ ٹوٹو نے ہونٹوں سے اس کے آنسو پونچھ لیے۔ ”بس میں ذرا ایل ایل بی کر لوں پھر ہم شادی کر لیں گے اور تب تم جتنے بچے چاہے پیدا کرلینا۔ لیکن فی الحال ہم۔“

ٹوٹو کی منہ سے پہلی بار شادی کے سلسلہ میں غیر معینہ مدت ہی کی سہی مقرری کا سن کر کرسٹی کا بچے کا غم قدرے کم ہو گیا، اور وہ بے ساختہ استفسار کر بیٹھی، ”او ڈیئر ریلی، آرنٹ یو کڈنگ؟“

”آئی ایم ناٹ کڈنگ، اینڈ وونٹ لیٹ ہیو اینی“ کڈ ”یو ٹو۔“ ٹوٹو نے اس سے کہا اور اگلے ہی دن وہ اسے شہر کی گنجان آبادی والے علاقے میں ایک کلنک کی طرف لے چلا، جس کے باہر بڑے حرف میں ”عفت کلنک“ کا بورڈ آویزاں تھا۔ بورڈ پر کسی ڈاکٹر عفت آرا کی بطور گائناکالوجسٹ سابق و موجودہ خدمات سمیت ڈگریوں کی ایک فہرست بھی چھپی ہوئی تھی۔ البتہ عفت آرا کے الف کو کسی شرپسند نے کھرچ کر ”ی“ کر دیا تھا اور یہ عفت آری پڑھا جا رہا تھا!

یہاں کے ڈاکٹر اور عملے کے رویہ سے کرسٹی کو محسوس ہوا کہ گویا وہ سب ٹوٹو سے شناسا سے ہوں، لیکن ٹوٹو نے ان کے رویہ کو پیشہ ورانہ قرار دیا۔ اور وہ مطمئن ہو گئی۔ ہیڈ نرس مسمی عصمت جہاں اور اس کی معاون عفیفہ خاتون اسے اسپتال کی ایک اوٹ میں جہاں کہ او ٹی بھی لکھا ہوا تھا لے آئیں۔ کچھ دیر میں ڈاکٹر عفت آرا وہیں موجود تھی۔ چند گھنٹوں کی کارروائی اور آرام کے بعد جب وہ ٹوٹو کے سہارے دوبارہ لوٹ رہی تھی تو اسے نہ صرف اپنا پیٹ ہی خالی نہیں لگ رہا تھا بلکہ یوں محسوس کر رہی تھی جیسے کہ اس کا اپنا وجود بھی کہیں خلاؤں میں تحلیل ہو چکا ۔

اس واقعہ کے بعد کرسٹی نے کئی روز تک ٹوٹو سے ملنا ترک کر دیا لیکن اس نے اسے منتیں اور معذرتیں کر منا ہی لیا، لیکن اس کے بعد ٹوٹو نے دوبارہ اسے پیار کے نام پر پرچانے کی کوشش کی تو اس نے برملا کہ دیا کہ اب وہ اسے شادی سے پہلے نہیں چھو سکتا، اور یہ دھمکی بھی دی کہ اب وہ کسی بھی ایسی حرکت کے بارے اپنے اور اس کے والدین کو آگاہ کردے گی، جس کے بعد دونوں نے ایل ایل بی کر ہی لیا اور رامکمل صاحب کی فرم میں تربیت /کام شروع کر دیا اور پھر دونوں کی شادی بھی کرادی گئی۔ اگرچہ شادی کے بعد بھی ٹوٹو یہی راگ الاپتا رہا کہ دونوں دو تین سال تک صرف عیش کریں گے اور بال بچوں سے بچے ہی رہیں گے لیکن تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود کرسٹی پھر حاملہ ہو ہی گئی۔

اگرچہ اسے اس ناخواندہ بچے سے کوئی پریشانی نہ تھی لیکن ٹوٹو کی ناراضگی کی خیال نے اسے ہراساں کر دیا۔ اسے محسوس ہوا گویا وہ ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں چند سال قبل کھڑی تھی۔ اس نے موبائل پر ٹوٹو سے رابطہ کیا۔ اور سلسلہ ملنے پر کچھ کہنے کے بجائے رونے لگی اور آنکھوں میں سے آنسوؤں کے ساتھ ساتھ منہ سے گالیوں کی بوچھار ہونے لگی۔ ٹوٹو تو کچھ دیر تک اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرتا رہا لیکن کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے کہا، ”ڈیئر آرام سے بتاؤ کیا ہوا ہے۔ پھر چاہے ساری عمر گالیاں دیتے رہنا میں بالکل بھی بے مزہ نہ ہوں گا۔“

اب کرسٹی نے سنبھل کر اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ایک آدھ گالی پھر بھی اس کے منہ پھسل گئی، ”خبیث کہیں کے۔ میں دوبارہ پیٹ سے ہو گئی ہوں۔ کمینے، ذلیل انسان۔“ ٹوٹو نے بھی ”ناٹ اگین“ کا نعرہ لگایا اور چیخا، ”میں تمہاری گالیوں سے سو فیصدی متفق ہوں لیکن یار تم عورت ہو یا اینکیوبیٹر؟ اچھا تم کہاں ہو میں تمہیں لینے آؤں؟“ تب اس نے اسپتال کا پتہ بتا کر سلسلہ منقطع کر دیا۔

آدھے گھنٹے میں ٹوٹو اس کے پاس موجود تھا۔ اصل میں وہ تو اپنی شادی کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک چھوٹی سے کار کرسٹی کو تحفہ میں دینے کے لیے خریدنے کے بعد اسی کو ڈراؤ کرتا پھر رہا تھا کہ یہ کال اس پر بجلی کی طرح آگری۔ اس کی خواہش تھی کہ شادی کی کچھ سال وہ صرف انجوائے کریں گے اور کچھ میچوئر ہونے پر ہی خاندان کو آگے بڑھانے کا سلسلہ شروع کیا جائے لیکن کرسٹی کی کال نے اس کی سارے خوابوں پر پانی پھیر دیا۔ اسے اندازہ نہ تھا کہ میچوئر ہونے کا واسطہ کسی قدر اولاد سے بھی ہے۔

کرسٹی جو کے اسپتال کے ایک نسبتاً ویران سے حصے میں کھڑی تھی اسے یکھ کر اس کی طرف دوڑی اور اس سے لپٹ گئی۔ اس نے آہستہ سے اسے اپنے سے الگ کیا اور پوچھا، ”آخر اتنی احتیاط کے باوجود تم۔“

مجھے کیا پتہ؟ ”وہ غصے سے بولی،“ مجھ اکیلی کا تو قصور نہیں، نہ تم خبیث مردوں کا ہی کوئی بھروسا نہ ہی آج کل کی ان کمینی دواؤں کا، ”

جواباً ٹوٹو نے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔ لیکن اسے تسلی دیتے ہوئے کہا، ”چلو پھر اسی ڈاکٹر کی پاس چلتے ہیں۔“

”پلیزیار مجھے ابارشن نہیں کرانا،“ وہ اس بار پہلے سے بھی کہیں زیادہ عاجزی سے گڑگڑائی تھی۔ ”اب کس چیز کا خوف اب تو ہم پتی پتنی ہیں ہم اپنے پیار کی نشانی کو پال پوس کر بڑا کریں گے۔“

”یار تم چلو تو سہی دیکھیں ڈاکٹر کیا کہتی ہے پلیز کرسٹی،“ وہ بھی اسی کے انداز میں گڑگڑایا، ”تم سمجھتی کیوں نہیں ہم فی الحال بچے افورڈ نہیں کر سکتے۔“

”نہیں ٹوٹو اب تم مجھے مجبور نہیں کر سکتے،“ اس نے مزاحمت کی، ”پتاجی اور انکل بھی ابارشن کی بات پسند نہیں کریں گے،“

”اچھا بھئی ڈاکٹر سے مشورہ تو کر لیں وہ کیا کہتی ہے،“ ٹوٹو نے سوچا کسی طرح اسے ڈاکٹر تک لے جایا جائے پھر ابارشن کے لیے بھی راضی کر لیا جائے گا۔ وہ بھی صرف ٹوٹو کا دل رکھنے کے کیے تیار ہو گئی لیکن دل میں مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ ابارشن نہیں کرائے گی۔

وہ گاڑی سے اتر کلنک کی طرف بڑھ رہے تھے کہ ان کے سامنے سے دو بنجارنیں گزریں، ان کے نہ صرف دونوں بازوؤں میں بچے تھے بلکہ کندھوں پر بھی ایک ایک بچہ براجمان تھا، اور صاف محسوس ہو رہا تھا کہ انہیں ان کہ اٹھانے میں دشواری محسوس ہو رہی ہے۔ دونوں آپس میں کچھ بولتی ہوئی جا رہی تھیں۔ ان کو دیکھ کر وہ لمحہ بھر رکیں ایک نظر انہوں نے ان پر ڈالی اور دوسری کلنک پر اور منہ بگاڑ کر بڑبڑاتی ہوئی آگے بڑھ گئیں۔ ان دونوں کی ہیئت کذائی دیکھ کر کرسٹی کو ہنسی آ گئی اور وہ ٹوٹو سے حسرت یا پھر رشک کے سے انداز میں بولی، ”دیکھو تو سہی، جب اٹھائے نہیں جاتے تو پھر اتنے بچے پیدا کیوں کرتی ہیں؟“

اس کے یہ الفاظ ان دونوں نے سن لیے۔ ان میں سے ایک ٹھٹک کر رک گئی اسے دیکھ کر دوسری بھی رکی اور اسے آگے بڑھنے کو کہا، لیکن وہ اس کی بات کو نظرانداز کرتی ہوئی کرسٹی کی طرف بڑھی اور اس کے عین سامنے آ کر اس کی آنکھوں میں گھورنے لگی۔ وہ گھبرا کر ٹوٹو کی پیچھے چھپنے لگی۔ بنجارن کچھ دیر تک اسے گھورتی رہی پھر اکھڑ سے انداز میں بولی، ”بی بی بلاشک یہ بچے ہم سے اٹھائے نہیں جا رہے لیکن نہ تو ہم انہیں گرایا،“ وہ تلخی سے بولتی چلی گئی، ”نہ ہی کہیں پھینکا ہے، ہم اور ہمارے شوہر مل کر ان کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، اور یہ تیرا یار ہے کہ خصم، اس کی طرح اس چنڈال کے پاس بچہ گرانے کے لیے کبھی نہیں آئے۔“ یوں کہ کر جاتے جاتے اس نے ٹوٹو کو بھی ایک گھورتی نظر سے نوازا تھا۔ وہ دونوں ہی کچھ دیر کے لیے پتھر سے بن گئے۔ پھر کرسٹی ٹوٹو کو چھوڑ کر پیچھے پلٹی۔ تو ٹوٹو کو بھی گویا ہوش میں آیا اور اس نے گھبرا کر پوچھا، ”اب کہاں چل دیں؟ چلو ڈاکٹر کے پاس،“

نہیں میں نہیں چلوں گی، تم میرے ساتھ نہیں چلتے تو کوئی بات نہیں میں ابارشن نہیں کراؤں گی اور اسے گراؤں گی تو ان بنجارنوں کے بعد اپنی نظروں سے بھی گر جاؤں گی۔ میں اسے اٹھاؤں گی۔ اٹھاؤں گی، کوکھ میں بھی اور گود میں بھی۔ ”اس کی آنکھیں مسلسل بہ رہی تھیں۔

ٹوٹو پریشان ہو گیا۔ وہ کبھی کلنک کی طرف دیکھتا اور کبھی کرسٹی کی طرف۔ پھر وہ مڑا اور کار کی طرف بڑھتی کرسٹی کی طرف آتے آتے بھی اس کہا، ”کرسٹی رک جاؤ ہم بچہ افورڈ نہیں کر سکتے۔“

” تم مت کرنا، نا۔ بنجارنیں اپنے بچے پال سکتی ہیں تو میں کیوں نہیں۔ میں بھی اسے پالوں گی۔ تم بس نئی نئی گاڑیاں لینا، ان میں نئی نئی لڑکیوں کے ساتھ گھومنا اور،“ وہ لحظہ بھر رکی اور زہر خند لہجے میں بولی، ”پھر انہیں لے آنا اس کلینک پر،“ اور کار کی طرف بڑھ گئی۔

”اچھا بھئی ٹھیرو تو سہی، کرشنا، میں بھی آ رہا ہوں۔ تم جیتیں میں ہارا۔ اب میرا فیصلہ بھی وہے ہو گا جو تمھارا۔“ اور اس کی طرف بڑھتے بڑھتے اس نے صفائی پیش کی، ”اور یہ گاڑی میں نے لڑکیوں کو گھمانے لیے نہیں لیکن اپنی شادی کی پہلی سالگرہ پر تمہیں تحفتا دینے کے لیے لی ہے،“ طوطومل کی بات سن کر کرشنا نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو طوطومل نے دوڑ کر اس کو سہارا دیا اور دونوں مل کر اپنی نئی کار میں نئے سفر اور نئی منزل کی طرف بڑھ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words