کیا مختاراں مائی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ایک ہی کہانی تو نہیں؟

پاکستان کے سیاسی افق پر چند سال پہلے مدینہ کا چاند نظر آنے پر تشکیل ریاست مدینہ کا نعرہ بلند ہوا۔ آج تین سال بعد سیاست میں نئی جہت لانے والے کپتان نے ریاست مدینہ کی جانب گامزن قافلے کا رخ ٹی وی ڈراموں اور سوشل میڈیا کی طرف موڑ دیا ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے سوشل ایپ ٹک ٹاک جوائن کر لی جبکہ وزیر اعظم نے ریاست مدینہ کی تشکیل کے لیے کامیاب راستہ ٹی وی ڈراموں کو قرار دے دیا ہے چنانچہ پہلے ترکی ڈرامہ ”ارطغرل“ کو پی ٹی وی پر اردو ترجمہ کے ساتھ پیش کیا گیا اور اب مغل سلطنت کے بانی شہنشاہ ظہیر الدین بابر پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے بالکل اسی طرح نئے انداز کے ساتھ نئے پاکستان کے نئے سپہ سالار اپنے حامیوں اور مخالفین سے بھی خوب نمٹ رہے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ آپ اپنے مخالفین پر غلط سیاسی فیصلوں، کرپشن، اقرباء پروری اور نا اہلیت کی وجہ سے تنقید نہ کریں بلکہ اپنے عمدہ اقدامات، منصوبہ بندی اور سیاسی فیصلوں سے ثابت کریں کہ آپ ایک بہتر حکمران ہیں مگر پاکستانی سیاست میں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ دشمن کو ہر حال میں گرانا ہے، چاہے اس کے لیے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہی کیوں نہ ہو نا پڑے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بات بات پر نبی پاکﷺ اور خلافت راشدہ کا بھاشن دینے والا خود ہر وقت اپنے سیاسی مخالفین اور ان کے خاندان کی دھجیاں بکھیرتا نظر آتا ہے حد یہ ہے کہ مریم صفدر کے ابھی تک کے غیر سیاسی بیٹے جنید صفدر کو بھی اپنے بغض اور غضب کا نشانہ بنا ڈالا۔

اس بچارے کا قصور یہ ہے کہ برطانیہ میں کبھی کبھی بادشاہوں والا کھیل ”پولو“ بھی کھیل لیتا ہے جس پر وزیراعظم کو اعتراض ہے کہ ’پولو ”جیسا بادشاہی کھیل جنید صفدر کیونکر کھیل سکتا ہے چنانچہ بقول وزیراعظم وہ اپنے وسائل بتائے جن کی بنیاد پر وہ یہ کھیل کھیلتا ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں مریم صفدر نے کہا کہ جنید مقامی پولو ٹیم کا کپتان بھی ہے۔ مریم صفدر کے اس انکشاف کے بعد عوام کو عمران خان کی جنید صفدر پر تنقید سمجھ میں آ گئی کہ اصل معاملہ“ کپتانی ”کا ہے۔

جیسا کہ ایک کہاوت کے مطابق“ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی ”اسی طرح پاکستانی سیاست کا کپتان عمران خان اپنے علاوہ کسی اور کو“ کپتان ”ماننے کو تیار نہیں چنانچہ اب یہ معاملہ خالصتاً ذاتیات کا بن گیا ہے۔ دوسری طرف مریم صفدر بھی کہاں ہمت ہارنے والی ہیں وہ ہمیشہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کی بجائے ٹی ٹونٹی کھیلنا پسند کرتی ہیں چنانچہ مریم نے بھی کھل کر شاٹس کھیلی جن کے ردعمل میں جمائما اور مریم کا دنگل ٹویٹر پر لاکھوں شائقین نے دیکھا۔

دوسری جانب عوام کے ابتر حالات کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کارکن انتہائی مایوس ہیں۔ ناقص حکومتی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کپتان ”اکیلا“ ہے ان کے بقول کپتان کے دائیں بائیں کھڑے افراد بھی عمران خان کی ناکامی کے خواہاں ہیں چنانچہ ان حالات میں کپتان کس کس کا اور کہاں کہاں مقابلہ کرے۔ ان کارکنوں کے بقول اگر ایسی صورت حال نہ ہوتی تو کپتان کب کا اپنی قوم کی قسمت بدل چکا ہوتا۔ اگرچہ کافی کارکن دل برداشتہ ہو کر عملی طور پر خاموش بھی ہیں جبکہ دیگر کارکنوں کا حکومتی ناکامیوں کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنی بے بسی پر رونا پیٹنا بھی جاری ہے مگر اب تشویش ناک بات یہ ہے کہ نا امیدی کی وجہ سے کارکنوں کی آواز مدہم پڑتی جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی کی ملک گیر غیر فعال تنظیم اور کارکنوں کی مایوس شکلیں دیکھ کر مجھے کافی سال پہلے کے ایک دلخراش واقعہ کی یاد آ گئی۔ ”مختاراں مائی“ نامی ایک خاتون سے علاقے کے رسہ گیروں اور وڈیروں نے زبردستی زیادتی کر ڈالی۔ مختاراں مائی نے بھرپور طریقے سے اپنا کیس عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کیا چنانچہ اس واقعہ اور احتجاج کی خبر کسی طرح اخبارات میں بھی چھپ گئی۔ زیادتی کرنے والے نامی گرامی افراد تھے مگر چونکہ مختاراں مائی کو جلد ہی مغربی آقاؤں کی آشیر باد بھی مل چکی تھی چنانچہ اس کا بیان ہر اخبار کے پہلے صفحے کی زینت بننے لگا اور جلد ہی پاکستان میں انسانی حقوق کی بحالی کی تحریک کی ایک موثر آواز ”مختاراں مائی“ کی شکل میں سامنے آ گئی۔

ملزم پکڑے گئے اور اپنے انجام کو پہنچے۔ مختاراں مائی کے بیانات ایک عرصے تک اخبارات کی زینت بنتے رہے مگر پھر رفتہ رفتہ وہ پردہ سکرین سے مکمل غائب ہو گئے اور اب شاذ ہی کبھی ان کا بیان کسی اخبار میں نظروں سے گزرتا ہے بالکل اسی طرح پاکستانی سیاست کے نامور پنڈتوں نے الیکشن 2018 ء میں روایتی پیرا شوٹرز بن کر پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کے ساتھ پہلے زیادتی کی اور جب کارکنوں کا شور اٹھا تو کافی عرصے بعد صوبائی اور ضلعی سطح پر غیر موثر کمیٹیاں اور ونگز میں کارکنوں کو عہدے بانٹ کر اشوک شوئی کا سامان بھی کیا گیا تب سادہ لوح کارکن وقتی طور پر راضی ہو گیا مگر جب ان کمیٹیوں اور ونگز کی غیر فعالیت کی حقیقت کھلی تب تک مسلسل رونے پیٹنے اور احتجاج کرنے سے کارکن بھی تھک چکا تھا۔ اب تین سال گزرنے کے بعد ہمیں ملکی سطح پر پی ٹی آئی کے کارکنوں میں نہ وہ اتحاد نظر آتا ہے اور نہ جوش و جذبہ، جو کبھی ان کا خاصہ تھا۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا مختاراں مائی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ایک ہی کہانی تو نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words