انڈین وزیر خارجہ کی ”جعلی“ فون کال، واڈکا اور خروشیف


سابق بھارتی وزیرخارجہ پرناب مکھر جی کی سابق صدر زرداری کو دھمکی آمیز کال کا ذکر کرنے سے پہلے ہم ذرا ماضی کے ایک دو ایسے ہی واقعات پر نظر ڈالتے ہیں جب تیسری عالمی جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی تھی۔ یہ دسمبر 1996 کا ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ اس وقت روس کے صدر بورس یلسن نے امریکی صدر بل کلنٹن کو نشے کی حالت میں ٹیلی فون کر کے دھمکی دی کہ

”وہ روس میں“ واڈکا ”( روس میں بے تحاشا پی جانے والی شراب) کی فیکٹری کھول دیں ورنہ وہ حملہ کر کے امریکہ کو تباہ کردیں گے“

ایک امریکی جریدے نے وائٹ ہاؤس کے ایک اعلی ترین عہدے دار کے حوالے سے یہ انکشاف کیا کہ دسمبر 1996 کی ایک رات کو وائٹ ہاؤس کے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی تو دوسری طرف لائن پر روس کے صدر بورس یلسن تھے۔ وہ نشے کی حالت میں تھے، انہوں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی اور کمزور سی انگریزی میں بل کلنٹن کو دھمکی دی کہ روسی ”واڈکا“ کے بغیر مر رہے ہیں اور اگر شراب کی فیکٹریاں ماسکو میں نہ چلائی گئیں تو وہ امریکہ کو بموں کے حملے سے برباد کر کے رکھ دیں گے، بورس یلسن کی اس دھمکی آمیز ٹیلی فون کال سے وائٹ ہاؤس میں بھونچال آ گیا، تاہم تھوڑی ہی دیر بعد روس کے ایک اعلی ترین حکومتی عہدیدار نے ٹیلی فون کر کے معافی مانگی اور یہ وضاحت بھی کی کہ صدر بورس یلسن شدید نشے کی حالت میں تھے اس لیے انہیں اندازہ نہ ہوسکا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کسے کہہ رہے ہیں؟ اس وضاحت کے بعد وائٹ ہاؤس کے مکینوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ایک بار روس کے ایک وزیراعظم خروشیف نے 1960 میں امریکی صدر کینڈی کو نشے کی حالت میں فون کر کے کیوبا بارے دھمکی دی تھی، اس وقت بھی عالمی امن زبردست خطرے میں پڑ گیا تھا اور دیکھا جائے تو انڈین وزیرخارجہ پرناب مکھر جی کے صدر زرداری کو دھمکی آمیز فون کے بعد بھی صورت حال کافی سنگین اور خوفناک سی ہو گئی تھی کیونکہ اس فون کال کے بعد پاکستان نے نہ صرف اپنی ائرفورس کو ہائی الرٹ کر دیا تھا بلکہ نیوی اور آرمی کے علاوہ دیگر فورسز بھی منہ توڑ جواب دینے کو بالکل تیار ہو چکی تھیں اور یہ بھی سنا گیا تھا کہ پاکستان نیوی کی کچھ جدید ترین آبدوزیں اس پلاننگ کے تحت گہرے سمندروں میں اتار دی گئی تھیں کہ جنگ کی صورت میں بھارت کی تیل کی سپلائی لائن کو منقطع کیا جاسکے اور ساتھ ہی امریکہ اور نیٹو کے حکام کو واضح طور پر یہ پیغام دے دیا گیا کہ

” اگر بھارت نے حملہ کیا تو مجبوراً پاکستان کو ڈیورنڈ لائن کی طرف سے اپنی ڈیڑھ لاکھ فوج کو ہٹا کر انڈین بارڈر کی طرف لانا پڑ جائے گا کیونکہ پاکستان اپنی افواج کو دو جنگوں میں مصروف رکھنے کے قابل نہیں رہ سکے گا“

اس کے ساتھ ہی جو سب سے خطرناک، معنی خیز اور استادی گر والا ”پیغام“ پاک فوج نے پاکستانی میڈیا کے اہم اور با اثر ترین لوگوں کو ایک بریفنگ کے ذریعے دنیا کو دیا وہ یہ تھا کہ ”بیت اللہ محسود اور ملا فضل اللہ محب وطن ہیں“

ظاہر ہے یہ کوئی معمولی نوعیت کا پیغام نہیں تھا، اس لیے فی الفور امریکہ، برطانیہ اور دوسری طاقتیں سرگرم ہو گئیں اور بھارت کو شدید دباؤ میں آ کر یہ کہنا پڑ گیا کہ
”ہم نے پاکستان کو دھمکی آمیز کال نہیں کی ہے“

حالانکہ اس وقت کی وزیر اطاعات شیری رحمن کھلے عام کہہ چکی تھیں کہ ”کال ہندوستانی وزارت خارجہ سے آئی تھی اور یہ بات کنفرم ہو چکی ہے“ بہرحال یہ تین ٹیلی فون کالز دنیا میں تیسری بڑی جنگ کا باعث بنتے بنتے رہ گئی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words