عید الاضحی اک تیرے آنے سے پہلے اک تیرے جانے کے بعد


اس مضمون کا عنوان جناب مضطر خیر آبادی کے شعر کا مصرعۂ ثانی ہے جس نے وہ شہرت پائی ہے کہ جو اپنی نظیر آپ ہے۔ دراصل یہ مصرعہ اپنی ذات میں ایک مکمل پیغام ہے، عمومی مواقع پر برمحل ہوجانا اس کا کمال فن ہے، معنویت کے اعتبار سے قاری کی دلیل کی زبردست معاونت کرتا ہے۔

اک تیرے آنے سے پہلی۔ :

عید الاضحی آئی اور گزر بھی گئی مگر خوشگوار یادوں کے ساتھ ساتھ بہت ساری تکلیف دہ یادیں اور بہت سے غم ناک نقوش بھی چھوڑ گئی جن کو جب بھی یاد کریں گے تو شرم بھی آئے گی اور افسوس بھی ہوگا۔ ہمارے ہاں روایتی طور پر عید قرباں بہت جوش و خروش اور جذبے کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ لوگ والہانہ انداز میں اس کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں، اس عید کا سب سے اہم جز جانور کی قربانی ہوتی ہے جس کے لئے کچھ لوگ سال بھر جانور پالتے ہیں، کچھ لوگ مہینہ پہلے یا پندرہ دن پہلے خرید لاتے ہیں۔

جانور کی خریداری میں جن مسائل و مصائب سے گزرنا پڑتا ہے وہ اپنی جگہ مگر جانور لانے کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ دنیا میں شاید ہی کہیں ہوتا ہوگا۔ کہنے کو تو یہ خالصتاً مذہبی فریضہ ہے مگر میں صرف دنیا داری کی عام سی بات کروں گا ورنہ لوگ اسے مولوی کا بھاشن سمجھ کر نظر انداز کردیں گے۔ جانور لانے کے بعد پڑوسیوں کے حقوق اور آرام کو مطلق بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے کیونکہ جانور قربانی کا ہے لہذا اسے کہیں بھی باندھا جا سکتا ہے، اس کی گندگی بھی صاف کرنا ضروری نہیں ہے آنے جانے کے راستوں پر باندھنا بھی معیوب نہیں، جانور اکثر نئی جگہ اور نئے لوگوں میں آ کر پریشان ہو جاتے ہیں اور غصہ میں لوگوں پر حملہ کرنے لگتے ہیں، اگر جانور مین راستے پر بندھا ہے تو آنے جانے والے خواتین اور بچوں کے لئے مستقل خطرہ بنا رہتا ہے۔

ساتھ ساتھ توقع یہ بھی کی جاتی ہے کہ چونکہ جانور قربانی کا ہے لہذا ہم کچھ بھی کر لیں کسی کو بھی اعتراض کا کوئی حق نہیں اور اگر اعتراض کیا تو گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو جائیں گے۔ اس عید پر یوں تو بہت سے حادثات ہوئے مگر چند دلخراش واقعات ایسے منظر عام پر آئے کہ جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے ایک چھوٹے سے بچے کا ہاتھ گائے کی دم کے بالوں میں الجھ گیا، بدقسمتی سے اس وقت وہاں صرف بچے ہی تھے، جب تک لوگ پہنچے گائے بچے کی جان لے چکی تھی۔

اسی طرح کراچی کے ایک علاقے میں ایک قربانی کا جانور بے قابو ہو گیا اور گلیوں میں بھاگ نکلا، تو محلے بھر کے لوگ ہتھیار نکال کر گلیوں میں اس جانور کے پیچھے پیچھے بھاگتے رہے اور اس پر کھلے عام فائرنگ کرتے رہے، بہت ممکن تھا کہ کوئی انسان اس کی ذد میں آ جاتا۔ اسی طرح ایک اٹھارہ سالہ لڑکا جو اپنے قربانی کے بیل کی بڑی خدمت کیا کرتا تھا اسی بیل کے ہاتھوں جان گنوا بیٹھا۔ ایک خطرناک ٹرینڈ یہ بھی ہے کہ لڑکے جانوروں کو ایک جلوس کی شکل میں لے کر نکلتے ہیں اور ان کی علاقے کی گلیوں میں دوڑ لگواتے ہیں، جانوروں کا ایک بڑا ریوڑ ہوتا ہے جو گلیوں محلوں میں بھاگ رہا ہوتا ہے اور نوجوانوں کا ہجوم ان کے پیچھے شور مچا تا انہیں مزید تیز بھاگنے پر مجبور کر رہا ہوتا ہے۔

یہ بظاہر کھیل تماشا اور عید کی خوشیاں منانے جیسا لگتا ہے مگر اس کے نتیجے میں لوگوں نے کیا کیا دکھ اٹھائے ہیں اپنے کیسے کیسے پیارے گنوائے ہیں وہ تو وہی جانتے ہیں جن پر عید کے دنوں میں یہ قیامت ٹوٹی ہوتی ہے۔ اس ہی طرح بہت سارے حادثات بغیر کسی کی توجہ حاصل کیے ہی گزر جاتے ہیں جن میں مالی نقصان، املاک کا نقصان اور ذہنی و نفسیاتی پریشانی بھی شامل ہے۔

اک تیرے جانے کے بعد :

عید الاضحی کو گزرے محض دو دن ہوئے ہیں اور پورے ملک کو گندگی اور بدبو نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے خاطر خواہ صفائی کا انتظام موجود نہیں ہے تو ہم خود بھی کون سا بڑے تیس مار خان اور تہذیب یافتہ ہیں، اس کی بڑی وجہ حکومتی اداروں کی نا اہلی کے ساتھ ساتھ عوام کا غیر ذمہ دارانہ اور خود غرضانہ طرز عمل بھی ہے۔ جہاں دل چاہتا ہے جانور ذبح کرنا شروع کر دیتے ہیں سب سے مناسب جگہ راستے کا درمیان ہے۔

بیچ روڈ پر قربانی کرنا جیسے قربانی کے واجبات میں شامل ہو گیا ہے اور اگر کہیں اونٹ وغیرہ کی قربانی ہے تب تو راستے کا ایک بڑا حصہ بہت دیر تک عام لوگوں کے لئے بند رہ سکتا ہے۔ قربانی کے بعد باری آتی ہے آلائش اور خون وغیرہ کے ٹھکانے لگانے کی جو عموماً وہیں چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں جانور ذبح ہوا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر میونسپلٹی والے نہ آئیں تو آلائشیں کئی کئی دن تک وہیں سڑتی رہتی ہیں، رہی سہی کسر چربی جمع کرنے والے پوری کر دیتے ہیں جو ان پیٹوں کی وہیں چیرپھاڑ کر کے آلائش وہیں طری طرح بکھیر کر چلے جاتے ہیں۔ قریب میں رہائش پذیر لوگوں کی زندگی تعفن کی وجہ سے اجیرن ہوئی رہتی ہے۔ کبھی کبھی تعفن اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ سانس لینا دوبھر ہوجاتا ہے مگر جنہوں نے فریضۂ قربانی ادا کیا ہوتا ہے وہ تو کب کے جا چکے ہوتے ہیں اور انہیں یہ خیال بھی نہیں آتا کہ وہ خلق خدا کی زندگی کس آزار میں مبتلا کر کے چلے گئے ہیں۔

عید کے دوسرے دن سے آپ ذرا شہر کا ایک چکر لگا کر دیکھیں، جا بجا آلائشوں کے ڈھیر لگے ہوں گے اور لوگ ان آلائشوں کی چیر پھاڑ کر رہے ہوں گے، اس پر لگی چربی اتارنے کی خاطر وہ اس میں بھرے گند کو چار اطراف پھیلا دیتے ہیں جو بد ترین تعفن پھیلانے اور عام انسان کے لئے نہایت تکلیف کا سبب بنتا ہے، شہر بھر میں جگہ جگہ بے شمار ٹھیلوں پر یہی چربی خریدنے والے بھی کھڑے ہوئے ملیں گے جو الگ تعفن پھیلانے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔ یہی چربی بعد میں نقلی گھی اور تیل کی تیاری کے کام آتی ہے اور عوام الناس کو کھلائی جاتی ہے۔

اگر ہم سب مل کر اپنی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں نبھائیں تو عید کے اس عظیم تہوار کو حقیقتاً پرمسرت اور خوشیوں سے بھر پور بنا سکتے ہیں۔ جیسے نوعمر بچوں کو جانوروں کے قریب ہرگز نہ جانے دیں۔ اگر دکھانا بھی ہے تو اپنی نگرانی میں لے کر جائیں اور فاصلے سے دکھائیں، اکیلے بالکل نہ جانے دیں۔

جانوروں کو کسی مناسب جگہ پر باندھا جائے اور ان کی گندگی کی باقاعدگی سے صفائی کی جانی چاہیے، جہاں انہیں باندھنا ہے وہ عام گزر گاہ نہ ہو، تاکہ ہمسایوں کے لئے تکلیف کا سبب نہ ہو۔ بلا وجہ جانوروں کو گلیوں محلوں میں نہ بھگائیں۔ صرف بڑے اور سنبھالنے کے قابل افراد ہی جانوروں کو کھولیں اور ٹہلائیں بچوں کے ہاتھ میں ہرگز نہ دیں۔ قربانی راستوں میں نہ کریں، قربانی کی آلائشیں قریبی مقرر کردہ مقامات تک تو خود ہی پہنچا دیں، قربانی کے بعد قربانی کی جگہ کی صفائی بھی فوراً ہی کردیں اور ہو سکے تو وہاں چونا ڈال دیں۔

ہماری ذرا سی توجہ، ذرا سا ایثار اور ذرا سی ذمہ داری ہمارے اردگرد کے سب ہی لوگوں کو ایک خوبصورت اور واقعی خوشیوں سے بھرپور عید عطا کر سکتی ہے۔

Facebook Comments HS