نور مقدم قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت: قاتل ظاہر جعفر کے ذہنی مریض ہونے کے ثبوت نہیں ملے

وفاقی دارالحکومت میں سابق سفیر کی بیٹی کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع کے مطابق پولیس نے مقتولہ نور مقدم کے والدین اور قاتل کے والد کے بیانات بھی قلم بند کرلیے اور پولیس کو قاتل ظاہر کے ذہنی مریض ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ انہوں نے بتایا کہ ملزم ہماری تحویل میں ہے جس کا ریمانڈ بھی جاری ہے، لڑکی کے قتل کے ملزم ظاہر کو موقع واردات سے گرفتار کیا گیا۔

ملزم ظاہر ظاہر جعفر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ میں زخمی ہونے والے امجد کی حالت تشویش ناک ہے جس کی وجہ سے تاحال اس کا بیان ریکارڈ نہیں ہوسکا۔نور مقدم کے قتل کے فوری بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی اور واقعہ کے دوران کوئی عینی شاہد موجود نہیں تھا، فارنزک ٹیم نے تمام شواہد موقع سے اکھٹے کرلیے ہیں۔

جائے وقوعہ سے مقتولہ، زخمی امجد اور ملزم کے سیمپل فرانزک کے لئے بھجوا دیے گئے ہیں اور ملزم کے گھر ایف سیون میں دو سکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی قلم بند کر لئے گئے۔

جائے وقوعہ سے آلہ قتل برآمد کیا گیا اور اب قاتل اور مقتولہ کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سابق سفیر کی بیٹی کے قتل سے متعلق ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے کہا ہے کہ گرفتاری کے وقت ملزم نشے میں نہیں تھا جب ملزم کو گرفتار کیا وہ ہوش و حواس میں تھا۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن عطاالرحمٰن کا کہنا تھا کہ نور مقدم دو دن سے گھر پر نہیں تھی۔ ملزم کو جب پولیس نے گرفتار کیا اس وقت وہ نشے میں نہیں تھا، ملزم گرفتار کے وقت بالکل ہوش و حواس میں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم کے گھر سے پستول برآمد ہوا جس میں گولی پھنسی ہوئی تھی، ملزم سے پسٹل برآمد ہوا ہے، تفتیش میں فائرنگ سامنے نہیں آئی، گولی پھسنے کی وجہ سے پسٹل نہیں چلا، گرفتار ملزم پر ماضی میں کسی کیس کی تفصیل ہمارے پاس نہیں ہے۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے کہا کہ ملزم بحالی سینٹر میں رہا یا نہیں، ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ ملزم کے ساتھ گھر کےملازموں سے بھی تفتیش کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ دو روز قبل ‏اسلام آباد میں تھانہ کہسار کے علاقے سیکٹر ایف سیون فور میں نوجوان خاتون کو لرزہ خیز انداز میں قتل کردیا گیا تھا۔ خاتون کو تیز دھار آلے سے بہیمانہ انداز میں قتل کیا گیا۔ لڑکی کا گلا کاٹنے کے بعد سر کاٹ کر جسم سے الگ کر دیا گیا تھا۔ واقعے کی اطلاع موصول ہوتے ہی سینئر افسران اور متعلقہ ایس ایچ او موقع واردات پر پہنچے اور قتل میں ملوث ظاہر جعفر نامی شخص کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کردیا گیا اور وقوعہ کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ظاہر جعفر معروف بزنس مین ذاکر جعفر کا بیٹا ہے اور مقتولہ نور مقدم کا دوست تھا۔ مقتولہ کے والد شوکت علی مقدم جنوبی کوریا اور قازقستان میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words