فاٹا آپریشن کے دوران صحافت کی کچھ یادیں (2)

اس سے پہلے کالم فاٹا آپریشن کے دوران صحافت کی کچھ یادیں (1) میں میں نے اپنے پچیس سالہ کیرئیر میں سے طالبان دور کے صرف چار واقعات کا ذکر کیا تھا۔ قارئین کی بے انتہا پسندیدگی اور مزید لکھنے کی پرزور فرمائش پر مزید کچھ یادیں قلم بند کر رہا ہوں۔ کیونکہ اس قسم کی تحریریں غیر ارادی طور پر تاریخ بن جاتی ہے۔ اور جتنا عرصہ گزرتا ہے ان کی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

یہ دو ہزار نو کی بات ہے جب باڑہ میں آپریشن درغلم کی وجہ سے لشکر اسلام کی قیادت تیراہ منتقل ہو گئی۔ ایک دن ہم سات آٹھ صحافیوں نے جس میں ایک دو کے علاوہ سب خیبر ایجنسی کے مقامی دوست تھے۔ وقت مقرر کر کے منگل باغ کا انٹرویو کرنے تیراہ جانے کا فیصلہ کیا۔ اس دورے کا مقصد انٹرویو کے ساتھ ساتھ اپنے صحافی دوست نصر اللہ آفریدی کی صفائی پیش کرنا بھی تھا کیونکہ ان دنوں منگل باغ نے نصر اللہ کی کسی خبر سے ناراض ہو کر اس کو قتل کرنے کا فتوی جاری کر دیا تھا یہ وہی نصر اللہ آفریدی ہے جو بعد میں خیبر سپر مارکیٹ دھماکے میں شہید کر دیے گئے۔

تیراہ میدان سے آگے تنگ پہاڑی رستے پر ایک جگہ ہماری گاڑی تنگ سڑک سے نیچے سرک گئی۔ لیکن اللہ تعالی نے ہمیں بڑے حادثے سے بچا لیا۔ رات کو منگل باغ نے ہمارے سامنے ایک چھوٹے سے صندوق پر مشتمل سامان سے اپنے ریڈیو سے تقریر کی۔ یاد رہے کہ یہ ایف ایم ریڈیو خیبر ایجنسی کے زیادہ تر علاقوں میں سنی جاتی تھی اور ہر خاص و عام تک ان کی پیغام رسانی کا بہترین ذریعہ تھی۔ اسی کے ذریعے وہ لوگوں کے نام لے لے کر لوگوں سے چندے وصول کرتا تھا ہم نے ان کا انٹرویو کیا۔

نصر اللہ آفریدی کے متعلق ہماری درخواست کو جزوی طور پر قبول کرتے ہوئے کہا کہ موت کا فتوی واپس لے لوں گا۔ مگر انہیں کہو کہ آپ خیبر میں نہیں آئیں گے نہ ہی ہمارے معاملات کی خبر دیں گے۔ مرتا کیا نہ کرتا ہم نے مجبوراً قبول کر لیا کیونکہ اس سے زیادہ ہم کر بھی کیا سکتے تھے۔ اگلے دن واپسی پر جب ہم باڑہ کے قریب پہنچ گئے تو ہم نے پیچھے سے دو فوجی گاڑیاں تیزی سے آتے ہوئے دیکھ لی۔ ہم سمجھ گئے کہ ہمارا پیچھا کیا جا رہا ہے۔

ہم تین گاڑیوں میں سوار تھے ہم نے فوراً مین سڑک کو چھوڑ کر گاڑیوں کو گاؤں کے اندر ڈال دیا۔ ہم سب ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ کوئی ایک گلی سے نکلا کسی نے دوسری سڑک لے لی۔ ہمارا مقصد ریکارڈ کیے گئے انٹرویو سمیت پشاور پہنچنا تھا۔ ہمیں معلوم تھا کہ فوجی حکام ہمیں اور کچھ کہیں یا نہ کہیں وہ اس انٹرویو کے کیسٹ ہم سے چھین لیں گے کیونکہ اس واقعہ سے چند دن قبل ہمارے ساتھیوں کے ساتھ اورکزئی میں حکیم اللہ محسود کی انٹرویو کے بعد کوہاٹ میں اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ان کو کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد تب چھوڑا تھا جب ان سے تمام ریکارڈڈ مواد لے لیا گیا۔ لیکن ہماری بروقت منصوبہ بندی کی وجہ سے ہم بخیر و عافیت پشاور پہنچ گئے۔

دو ہزار دس میں جب خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں فوجی آپریشن بیا درغلم کے خاتمے کا ابھی اعلان نہیں ہوا تھا ایک طرف باڑہ بازار میں اب تک کرفیو نافذ تھا ساتھ ہی بازار کے آس پاس علاقوں میں لشکر اسلام کے مسلح افراد کی کارروائیاں بھی جاری تھی۔ مگر منگل باغ اس علاقے میں اس قسم کی کارروائیوں کا برملا اعتراف نہیں کرتا تھا تاکہ حکومت یا فوج کو غصہ دلائے بغیر اپنا کام جاری رکھ سکے۔ میں کیمرہ مین سمیت باڑہ بازار میں کوریج میں مصروف تھا مجھے اطلاع ملی کہ بازار کے قریب لشکر اسلام کے فلاں کمانڈر (مذکورہ کمانڈر اس وقت لشکر اسلام میں دوسرے یا تیسرے طاقتور کمانڈر سمجھے جاتے تھے ) نے چھاپہ مار کر مخالف فریق کے کئی لوگوں کو اغوا کیا اور ابھی وہاں موجود ہے۔

میں فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ دعا سلام اور تعارف کے بعد ڈرتے ڈرتے کمانڈر سے بات چیت شروع اور ان کو کوریج کی اجازت دینے پر راضی کیا۔ انھوں نے مغویوں اور قبضہ کیے گئے گھروں کی ویڈیو بنانے کی اجازت دے دی۔ ہم نے جلدی جلدی کام نمٹایا۔ پھر میں نے کمانڈر سے درخواست کی کہ ٓاپ لوگوں نے اتنا بڑا کام کیا ہے مجھے انٹرویو دے دیں تاکہ اس کا کریڈیٹ کوئی اور نہ لے جا سکے۔ اس نے کہا امیر صاحب کی اجازت ضروری ہے۔

میں نے کہا اگر ممکن ہے تو اجازت لے لو۔ انھوں نے اپنے طریقہ کار کے مطابق منگل باغ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن فوری رابطہ نہ ہو سکا۔ میں نے کہا مجھے نیوز بلیٹن کے لئے اس سٹوری کو بھیجنا ہے۔ اگر رابطہ نہیں ہوتا ہے تو میں چلا جاتا ہے۔ بندہ نسبتاً میڈیا اور شہرت کا شوقین تھا۔ کہا کوئی بات نہیں آپ انٹرویو لے لیں، میں بعد میں امیر صاحب سے پوچھ لوں گا۔ ہم نے کیمرہ لگایا اور ان کا تہلکہ خیز انٹرویو ریکارڈ کر لیا۔

جس میں انھوں نے نہ صرف مخالفین کے نام لے کر ان کو اغوا کرنے کا اعتراف کیا بلکہ یہاں تک کہا کہ فوجی آپریشن نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا ہے اور ہم اس علاقے میں اسی طرح اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ میں نے ہیڈ آفس کو اطلاع دے دی کہ اس طرح کا ایکسلوزو انٹرویو کر لیا ہے۔ انٹرویو کے بعد ہم تیزی سے وہاں سے نکلے اور جونہی خطرے کی حدود سے نکل آئے۔ ہم نے ڈی ایس این جی (سیٹیلائٹ والی گاڑی) کھڑی کر کے فوری طور پر انٹرویو اور مغویوں کی ویڈیوز ہیڈ آفس بھیج دی۔

اور وہاں سے فوری طور پر نشر ہو گئی۔ مجھے لائیو لیا اور میں نے پوری تفصیلات بتا دی۔ بلیٹن کے بعد ہم نے جلدی جلدی گاڑی اور کیمرہ پیک کر کے آفس کا رخ کیا۔ جب میں آفس پہنچا۔ تو مجھے دوبارہ کال موصول ہوئی کہ نشر ہونے والی انٹرویو سے لشکر اسلام میں بھونچال آ گیا۔ اور منگل باغ نے قواعد کی خلاف ورزی پر نہ صرف کمانڈر موصوف کو برطرف کر دیا بلکہ ان کو گرفتار کر کے تیراہ منتقل کر دیا۔ مجھے کہا گیا کہ چونکہ اس انٹرویو کی وجہ سے علاقے میں جاری آپریشن کی کامیابی پر سوالات اٹھ گئے اور لشکر اسلام کے لئے بھی مزید مشکلات پیدا ہو گئی لہذا احتیاط کریں کیونکہ آپ اور آپ کا چینل بھی ٹارگٹ ہیں۔ میں نے مجبوراً کافی عرصے تک اس قسم کے لوگوں سے رابطے کم کر کے اس علاقے میں جانا چھوڑ دیا۔

صحافت میں ابتدائی خبر کا ملنا اگر ایک مشکل ہے تو اس خبر کی تصدیق دوسرا مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ خاص کر ایسے علاقے سے جہاں کمیونیکیشن نہ ہونے کے برابر ہو۔ یا جب بعض لوگ یا ادارے اخبار نویسوں کے ذریعے غلط خبریں نشر کرنے کے درپے ہو۔ ایسا ہی ایک واقعہ ہمارے ساتھ بھی پیش آیا تھا، میرے دوست احباب جانتے ہیں کہ مہمند ایجنسی کے مایہ ناز صحافی شہید مکرم خان عاطف کے ساتھ میرا تعلق بھائیوں سے بڑھ کر تھا۔ ابتدائی خبریں اکثر انہی کو ملتی تھی کیونکہ ان کے لوکل سورسز بہت زیادہ تھے۔

اس کے بعد اکثر خبروں کی تصدیق کے لئے ہم مل کر کوششیں کرتے تھے سرکاری اداروں یا انتظامیہ کی جانب سے حقائق معلوم کرنا یا خبر کی تصدیق کرنا زیادہ تر میرے ذمے ہوتا تھا۔ یہ دو ہزار دس کی بات ہے۔ جب مہمند ایجنسی سمیت زیادہ تر قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز جاری تھے۔ ایک دن سرشام سے اطلاعات آ رہی تھی کہ مہمند ایجنسی میں طالبان کے خلاف بہت بڑا آپریشن جاری ہے۔ جس کے لئے ایجنسی ہیڈ کوارٹر سے نہ صرف مزید فوجی دستے روانہ کیے گئے بلکہ ہیڈکوارٹر غلنئی ہی سے توپ خانے کا بھی بے دریغ استعمال جاری ہے۔

باقی صحافیوں کی طرح ہماری نظریں بھی آپریشن پر مرکوز تھی۔ تھوڑی دیر بعد ابتدائی اطلاعات ملی کہ آپریشن میں انتہائی اہم طالبان کمانڈر عبدالولی (عمر خالد خراسانی) کے مارے جانے کی غیر مصدقہ اطلاع ہے۔ یہ اتنی بڑی خبر تھی کہ نہ اس کو اگل سکتے تھے نہ نگل سکتے تھے۔ یعنی نہ اس کو نظر انداز کر سکتے تھے نہ مکمل تصدیق کے بغیر اس کو چلا سکتے تھے۔ نہ صرف میں اور مکرم خان مسلسل رابطے میں تھے۔ ہر سورس کو بار بار استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ جس جس صحافی کو یہ خبر ملی، ہر ایک اس کی تصدیق کے پیچھے لگا ہوا تھا۔

کیونکہ آپریشن پاک افغان سرحدی علاقے میں ہوا تھا وہاں تک کسی کی رسائی نہیں تھی۔ ظاہر ہے کہ ہمیں ایجنسی انتظامیہ، انٹیلی جنس اداروں، مقامی افراد، طالبان ترجمان اور سکیورٹی ذرائع سے ہی معلومات حاصل کرنی تھی۔ ان میں سے طالبان ترجمان کے ساتھ رابطہ نہیں ہو رہا تھا اور باقی سب مہمل بات کرتے تھے، مثلاً آپریشن طالبان کی ہائی کمان کے خلاف تھا۔ آپریشن سو فیصد کامیاب ہوا ہے۔ سیکیورٹی اہلکار کامیاب آپریشن کے بعد واپس ہیڈ کوارٹر آ رہے ہیں۔ خوشیاں منائی جا رہی ہیں وغیرہ۔

شام پانچ بجے سے رات بارہ بج گئے۔ اپنے اپنے نشریاتی اداروں کی جانب سے الگ دباؤ تھا کہ بھائی تصدیق کروں یا تردید، مگر کچھ تو بتاؤ، کیونکہ بعض چینلز نے ذرائع کے حوالے سے خبر نشر کر دی۔ میں نے اور مکرم خان نے فیصلہ کیا، کہ ابھی نہیں جب تک کوئی سرکاری فرد تصدیق نہ کر لے۔ میں نے اس وقت کے پولیٹیکل ایجنٹ سے تیسری مرتبہ رابطہ کیا۔ اور ان سے درخواست کی کہ خدا کے لئے تصدیق یا تردید کریں، عبدالولی مر گیا ہے یا زندہ ہے، انھوں نے کہا، آپریشن کامیاب ہوا ہے، آپریشن میں حصہ لینے والے دستے واپس غلنئی پہنچ گئے ہیں اور وہ خوشی سے شدید فائرنگ کر رہے ہیں، اطلاعات یہی ہے جو مجھ سے پہلے آپ کے پاس پہنچ چکی ہے۔

اس سے زیادہ میں کیا بتاؤں؟ ہر بندہ اطلاع یہی دے رہا تھا مگر ہر ایک کا اصرار ہوتا کہ ان کا نام نہیں آنا چاہیے۔ میں نے مکرم خان کو یہ سب اسی طرح بتا دیا، اور پھر ہم نے تمام موصولہ اطلاعات اور صورتحال کو مد نظر رکھ کر انتہائی مشکل فیصلہ کر لیا۔ ہم نے ایک ساتھ اپنے اپنے اداروں کو کہا کہ عمر خالد خراسانی کی موت کی خبر چلا دیں۔ رات کے ایک بجے ہمارے لئے اس سے زیادہ تصدیق ممکن نہیں۔ اور صبح تک کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔

خبر چلی اور خوب چلی، یہ بہت بڑی بریکنگ نیوز تھی۔ بارہ گھنٹے تک خبر چلتا رہا، اگلے روز رات گئے شائع ہونے والے اخبارات میں بھی موت کی خبر شائع ہوئی تھی۔ مگر ہمارے ہاتھ پاؤں اس وقت پھول گئے جب دوسرے دن شام کے وقت طالبان ترجمان نے رابطہ کر کے کہا، کہ کم از کم آپ سے اور مکرم خان سے پلانٹڈ خبر نشر کرنے کی امید نہ تھی۔ انھوں نے کہا خبر بالکل غلط ہے اور عمر خالد خراسانی زندہ ہے۔ دو چار دن بعد ہمیں بھی احساس ہوا کہ تمام تر تعلقات اعتماد اور احتیاط کے باوجود ہم نادانستہ طور پر استعمال ہوئے تھے۔ لیکن سبق ہم نے یہ سیکھا کہ جب تک آزاد ذرائع کسی خبر کی تصدیق نہ کر لے۔ خبر کو مصدقہ کہہ کر شائع یا نشر نہیں کرنا چاہیے۔

اگلی قسط سوات آپریشن اور خاص کر متاثرین کی واپسی اور وہاں آنکھوں دیکھے حال پر مشتمل ہو گی جو یقیناً دلچسپ ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words