EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

فاٹا آپریشن کے دوران صحافت کی کچھ یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

داناوں کا قول ہے کہ جب آپ کا شوق اور مشغلہ آپ کا ذریعہ معاش بن جائے تو زندگی کا مزہ آ جاتا ہے۔ اور خاص کر جب پیشہ صحافت جیسا دلچسپ مگر پر خطر ہوں جو پیشہ کم اور مشغلہ زیادہ ہے۔ تو یہ مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ صحافت ایک شوق ہے ایک مشغلہ ہے ایک جنون ہے۔ مگر جو لوگ صحافت کو شوق کی بجائے صرف پیشے کے طور پر اپناتے ہیں وہ صحافت نہیں مزدوری کرتے ہیں۔ اور مزدوری بہت اچھی بات ہے مگر اس میں زندگی کا مزہ نہیں آتا ہے۔ صحافت کے ساتھ پچیس سالہ طویل رفاقت کئی ایک کٹی میٹھی یادوں پر مشتمل ہے۔ جس پر کالم تو کیا، کتاب بھی لکھی جا سکتی ہے مگر میری کوشش ہوگی کہ قارئین کی دلچسپی کی چند یادیں ایک دو کالموں میں سمیٹ سکوں۔ خاص کر دو ہزار سات سے تیرہ کے دوران جب فاٹا سمیت پختونخوا میں طالبان کا طوطی بولتا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ وار زون میں صحافت پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے۔ یہاں پر متحارب فریقین کی نظر جنگ پر کم اور میڈیا پر زیادہ ہوتی ہے۔ کسی کی خبر پر جانبداری کا شبہ بھی ہوا تو بس ایک دھمکی اور پھر گولی۔ ہم فاٹا اور پختونخوا کے صحافی دو ہزار سات سے پندرہ تک اسی پل صراط پر چلتے رہے ہیں۔ اور ہمارے درجن بھر ساتھی اسی پل صراط سے پھسل کر ہم سے جدا ہوئے ہیں۔ دو ہزار ساتھ آٹھ میں مولوی عمر تحریک طالبان پاکستان کے پہلے ترجمان تھے وہ ہمارے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوتے تھے۔

مگر جب دو ہزار آٹھ میں فوج نے طالبان کے خلاف باجوڑ میں بھرپور آپریشن شروع کیا۔ تو ان سے تمام رابطے منقطع ہو گئے۔ ہماری کوشش کے باوجود ہمیں طالبان کا موقف نہیں مل رہا تھا۔ آپریشن کے تیسرے روز وائس آف امریکہ کے پشتو سروس ڈیوہ ریڈیو نے مجھ سے رابطہ کر کے آپریشن کی صورتحال پر بات کرنے کی درخواست کی۔ میں نے قبول کرلی۔ نیوز بولیٹن سے پہلے میں نے عسکری ذرائع اور مقامی صحافی دوستوں سے جو معلومات لی وہی میں نے ریڈیو نیوز میں لائیو بیان کردی۔

جونہی وی او اے سے میری بات چیت ختم ہوئی ابھی میں ٹیلی فون بند کر کے اس کمرے سے باہر نہیں نکلا تھا کہ مجھے مولوی عمر کی کال آئی۔ اور پہلے کی طرح دوستانہ کی بجائے دھمکی آمیز لہجے میں کہا، شمس صاحب یہ آپ کب سے فوج کے ترجمان بن گئے۔ جو وہ دعوی کر رہے ہیں آپ نے وہی بیان کر دیا۔ میں نے کہا جناب جب آپ کا موقف جاننے کے لئے آپ سے رابطہ ممکن نہ ہو۔ تو ظاہر ہے کہ یا فوجی ذرائع رہتے ہیں یا مقامی صحافی۔ اور میں نے انہی دونوں پر انحصار کیا۔

مگر انھوں نے آئندہ کے لئے خبردار کرتے ہوئے فون بند کر دیا۔ اسی آپریشن کے اختتام پر فوجی حکام میڈیا کی ایک ٹیم کو باجوڑ کا دورہ کرانے لے گیا جس میں راقم بھی شامل تھا۔ بریفنگ کے بعد وہ ہمیں اپنی مرضی کی جگہیں دکھا رہے تھے۔ کہ کس طرح فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے اور ان کا سدباب کیا۔ اور ہمیں ہدایت تھی کہ رستے میں کہیں بھی گاڑی روکنا نہیں، سیکیورٹی کی گاڑیاں ہمارے آگے پیچھے جا رہی تھی ہم نے سڑک کنارے کئی ایک مسمار گھر دیکھے تو گاڑی روک کر ویڈیو بنانا شروع کی۔

مگر اچانک سامنے کی پہاڑی سے ہم پر فائرنگ شروع ہو گئی۔ ہم نے گاڑیوں میں چھلانگ لگائی اور جلدی سے روانہ ہو گئے۔ جب اگلے دن رپورٹ میں، میں نے کرفیو جیسی صورتحال، مسمار گھروں اور فائرنگ کا ذکر کیا تو اس وقت کے ایف سی ترجمان نے کال کر کے نہ صرف شدید ناراضگی کا اظہار کیا بلکہ میرے سینئر سے میری شکایت کی اور آئندہ کے لئے مجھے کسی بھی ویزٹ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ سنایا۔

دو ہزار سات میں طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود نے متعدد مسلح گروہوں کو ایک کر کے تحریک طالبان پاکستان کے نام سے تنظیم بنائی۔ ستائیس دسمبر کو بے نظیر بھٹو شہید ہوئی، مشرف نے دعوی کیا کہ اس قتل کے پیچھے بیت اللہ محسود کا ہاتھ ہے۔ چند ماہ بعد امریکہ نے بیت اللہ محسود کے سر کی قیمت مقرر کر کے اس کو دنیا کا طاقتور ترین اور خطرناک دہشت گرد قرار دیا۔ میں ان دنوں نیوز چینل سماء کے ساتھ منسلک تھا۔ پختونخوا کے ہر صحافی کی خواہش تھی۔

کہ وہ امریکہ جیسے سپر پاور کو چیلینج کرنے والے اس طاقتور ترین شخص کا انٹرویو کرے۔ غالباً یہ مارچ دو ہزار آٹھ تھا جب سینئر صحافی مرحوم سیلاب محسود کی وساطت سے پشاور اور اسلام آباد کے چند گنے چنے صحافیوں کو پیغام ملا کہ بیت اللہ محسود آپ لوگوں سے ملنا اور بات کرنا چاہتے ہیں۔ مقررہ وقت پر ہم تمام ساتھی شمالی وزیرستان کے تحصیل میر علی کے قریب ایک پٹرول پمپ پر جمع ہو گئے۔ جہاں سے طالبان کمانڈر لطف اللہ نے ہمیں اپنی گاڑیوں میں منتقل کیا۔

اور ہم امید اور خوف کے سائے اور ان کی معیت اور سیکیورٹی میں جنوبی وزیرستان کی جانب روانہ ہوئے۔ ہم میر علی، رزمک، مکین، کوٹکئی سے ہوتے ہوئے سرہ روغہ پہنچے۔ مکین سے سرہ روغہ تک ہر طرف تباہی و بربادی کے آثار تھے مکانات اور دکانات کی جگہ ملبے کے ڈھیر نظر آتے تھے۔ رات کو حکیم اللہ محسود ہمارے میزبان تھے۔ ہر طرف بڑی داڑیاں لمبے بال قسما قسم کی آٹو میٹک رائفلیں اور اوپر ڈرونز کی مسلسل پروازیں۔ ہم میں سے کچھ ساتھی ایسے بھی تھے جو جمعہ اور عیدین پڑھنے سے بھی کنی کتراتے تھے مگر وہاں چاروں طرف موت کے سائے دیکھ کر شدید ٹھنڈ میں وضو کر کے نماز باجماعت کا حصہ بن گئے۔

قصہ مختصر کہ دوسرے دن دو پہر کو ہائی سکول سرا روغہ میں (جو اس وقت طالبان کے قبضے میں تھا جبکہ سامنے پہاڑی پر فوجی جوان مورچہ زن نظر آتے تھے۔ ) امریکہ سمیت دنیا بھر کو مطلوب خطرناک ترین انسان بیت اللہ محسود سے ملاقات اور بات چیت ہوئی۔ انھوں نے دنبے ذبح کر کے ہماری مہمان نوازی کی۔ بات چیت سے پہلے فیصلہ ہوا کہ ہم ان کی نہ تصویر بنائیں گے نہ سامنے سے ویڈیو۔ کیونکہ وہ خطرات کی وجہ سے اپنی شناخت ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے۔

انھوں نے ہمارے تمام سوالوں کے جوابات دیے مگر جب ہم واپس روانہ ہونے لگے، تو ان کے سیکنڈ ان کمان حکیم اللہ محسود نے تمام کیمرہ مینوں کو بلا کر کہا۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ میں سے بعض ساتھیوں نے امیر محترم کی تصویر لے لی ہے۔ میں ابھی کچھ نہیں کہتا ہوں مگر یاد رکھیں اگر امیر صاحب کی زندگی میں ہماری اجازت کے بغیر یہ تصویر شائع یا نشر ہوئی۔ تو اگلے دن ایک خودکش بمبار آپ کے دروازے پر ہوگا۔ اب آپ لوگ جا سکتے ہیں۔ اس دھمکی کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ بیت اللہ محسود کی زندگی میں تو اس تصویر کو شائع کرنے کا کسی نے سوچا تک نہیں، مگر جب امریکن ڈرون میں ان کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی تو وہ تصویر نشر اور شائع ہوئی اس کے باوجود ادارے نے اس کیمرہ مین کو طویل چھٹی پر بھیج دیا۔ تاکہ کسی ناخوشگوار واقع سے بچا جاسکے۔

دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات فاٹا سمیت پورے پختونخوا میں انتہائی خوف کے سائے اور بم دھماکوں کی گونج میں منعقد ہوئے تھے۔ ضلع چارسدہ کے تحصیل شبقدر دوآبہ کے ایک گاؤں میں کارنر میٹنگ کے دوران اے این پی رہنماء افراسیاب خٹک پر خود کش حملہ ہوا۔ ایک چھوٹے سے حجرے میں ہونے والے اس دھماکے میں اگرچہ افراسیاب خٹک تو زندہ بچ گئے مگر کئی افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ جب ہم کوریج کے لئے جائے وقوعہ پر پہنچے تو انسانی لوتھڑے ابھی دیواروں سے چپکے ہوئے تھے۔

اور زمین پر خون ہی خون اور انسانی گوشت کے ٹکڑے نظر آرہے تھے ایک مقامی شخص نے ایک شاپر میرے سامنے الٹا کیا۔ کہا یہ خودکش بمبار کی کھوپڑی ہے۔ میں نے منہ پھیر کر کہا یار یہ مجھے کیوں دکھا رہے ہو۔ اسے شاپر میں ڈال کر پولیس کے حوالے کرو۔ یعنی ہم میں سے ہر ایک انتہائی غمزدہ تھا اور ہم ایک غیر انسانی ماحول میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ میں ہم صحافی دوست کام سے فارغ ہوئے۔ تو اسی گاؤں کا ایک مقامی شخص ہمیں چائے پلانے اپنے حجرے میں لے گیا۔

وہاں گپ شپ شروع ہوئی، کسی نے سگریٹ لگایا، کسی نے لطیفہ کہا تھوڑی ہی دیر میں ماحول مکمل طور پر تبدیل ہو گیا اور بعض ساتھیوں کے باقاعدہ قہقہے سننے کو ملے۔ میں نے دوستوں کی توجہ مبذول کی کہ یار یہ ہم انسانیت کے کس درجے پر پہنچ گئے ہیں کہ ابھی پانچ منٹ پہلے ہم انسانی لوتھڑوں اور خون پر چل پھر رہے تھے ماحول انتہائی غمزدہ تھا، مگر پانچ منٹ میں ہم وہ سب بھول کر ہنسی مذاق میں مشغول ہو گئے۔ میں نے کہا ایک دور تھا۔ کہ جب گاؤں میں کوئی فوتگی ہوتی تھی تو پورے گاؤں میں تین دن تک کوئی ریڈیو اور ٹیلی ویژن آن نہیں کرتا تھا۔ شادی بیاہ کو مہینوں تک ملتوی کیا جاتا تھا۔ انسانی خون اور زخم دیکھ کر غم اور دکھ سے لوگ کھانا کھانا چھوڑ دیتے تھے مگر آج آئے روز دھماکوں اور مسلسل دہشت گردی نے ہمیں تہذیب اور انسانیت سے جدا کر کے حیوانیت کے صف میں کھڑا کر دیا ہے۔ ہمارے دل انتہائی سخت ہو گئے اور اہم انسانی خون کے عادی ہو گئے۔

جولائی دو ہزار ساتھ میں مشرف حکومت نے اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کیا جس میں خواتین سمیت درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے چند دن بعد ہی مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان کمانڈر عبدالولی نے تحصیل صافی میں موجود حاجی صاحب ترنگزئی کے خوبصورت مزار اور مسجد پر قبضہ کر کے اس کو لال مسجد کا نام دیا۔ یہ وہی عبدالولی تھے جنھوں نے بعد میں عمر خالد خراسانی کے نام سے شہرت پائی اور تحریک طالبان پاکستان کے امیر تک بن گئے۔

تیسرے دن ہم ان کا انٹرویو کرنے لکڑو پہنچ گئے۔ ان کے معاونین نے ہمیں بتایا کہ وہ کسی ملاقات کے لئے پہاڑوں پر گئے ہیں اور تین گھنٹے تک آ جایئں گے۔ وہ آئے، انٹرویو کے وقت مشین گنوں سے لیس دو نقاب پوش ان کے دائیں بائیں بیٹھ گئے انھوں نے ہم سے بات چیت کی، مگر ان دنوں ڈان نیوز کی نشریات انگریزی میں ہوتی تھی۔ اس وقت ڈان کے رپورٹر شوکت خٹک نے ان سے انگریزی میں بات کرنے کی درخواست کی۔ مگر عبدالولی نے کہا کہ مجھے انگریزی نہیں آتی ہے، ان کے دائیں طرف بیٹھے نقاب پوش نے میرے کان میں کہا کہ اگر امیر صاحب اجازت دے تو میں انگریزی میں بات کر سکتا ہوں۔

میں نے امیر صاحب سے کہہ کر اجازت دلا دی۔ ہمارا خیال تھا کہ وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بات کر کے ساٹ کی ضروریات پوری کرے گا۔ مگر جب انھوں نے سوال کا جواب دینا شروع کیا۔ تو میں اور شوکت خٹک ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ اتنی شستہ انگریزی اور اتنی روانی سے، گویا وہ کسی اکیڈمی سے پڑھ کے آیا ہو۔ انھوں نے کسی ماہر تجزیہ کار کی طرح تمام صورتحال پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ اور اگر امیر صاحب اس کو بس کرنے کا اشارہ نہ کرتے تو شاید وہ مزید بھی بہت کچھ کہتے۔ واپسی پر ہم یہی سوچتے اور ڈسکس کرتے رہے کہ آخر ایسے لوگ طالبان میں کہاں سے آئے۔ اور باقی درجنوں طالبان کے برعکس صرف ان دو افراد نے میڈیا کی موجودگی میں نقاب کیوں کیا تھا۔

جانی نقصان کا موازنہ رہنے دیجیے کیونکہ ہماری جانوں کی کوئی قیمت نہیں۔ مالی نقصانات کا موازنہ کیجئے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کو بیس سالہ افغان جنگ کی وجہ سے دو ٹریلین یعنی دو ہزار ارب ڈالر سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا۔ جس میں افغانستان کی آباد کاری اور پاکستان کو امداد کی شکل میں دینے والی رقم بھی شامل ہے۔ اگرچہ پاکستان کو ملنے والی بیس ارب ڈالر کے مقابلے میں پاکستان پانچ سو ارب ڈالر کے نقصانات کا تخمینہ لگاتا ہے۔ اگر یہ دونوں اعداد و شمار درست مان لئے جائے تو امریکہ کو پاکستان سے چار گنا زیادہ مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر امریکی مضبوط معیشت پر دو ٹریلین کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ پاکستانی معیشت زوال کے آخری حدوں کو چھو رہا ہے جبکہ ہمارا دعوی ہے کہ ہم کامیاب اور امریکہ ناکام ہوا ہے۔

چلو ہم درجہ بالا تمام حقائق کو نظر انداز کر کے مان لیتے ہیں کہ ہماری تیس سالہ پالیسی کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔ اگر ایسا ہے تو ایک مرتبہ پھر پورے خطے پر بد امنی خوف اور ڈر کے سائے کیوں منڈلا رہے ہیں؟ سابقہ فاٹا یعنی قبائلی اضلاع سمیت پورے افغانستان میں بے یقینی اور افراتفری کا عالم کیوں ہے؟ وزیر اعظم عمران بار بار دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کیوں کر رہا ہے کہ افغانستان خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عالمی ادارے ایک مرتبہ پھر افغان مہاجرین کی آمد کے پیش نظر تیاریوں میں کیوں مصروف ہیں؟

یا تو یہ تسلیم کر کے ہمیں کہنے دیجیے کہ افغانستان میں ہماری تیس سالہ پالیسی جدوجہد اور قربانیاں دائرے میں سفر کے سوا کچھ نہیں کیونکہ امریکی انخلاء کے بعد پورا افغانستان ایک مرتبہ پھر انیس سو چھیانوے ستانوے کی طرح بد امنی اور خانہ جنگی کے خوف میں مبتلاء ہے غیر یقینی صورتحال نے دو ہزار ٹریلین ڈالر کی امریکی سرمایہ کاری، پانچ سو ارب ڈالر کی پاکستانی سرمایہ کاری اور تین لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی شہادتوں کو زیرو میں ضرب دے دی ہے۔ دنیا کے سپر پاورز سمیت افغانستان کے پڑوسی ممالک اپنی نئی صف بندیوں اور ہوم ورک میں مصروف ہیں۔ مگر پاکستان میں رہنے والی پشتون قوم کے ہر حساس اور محب وطن شہری کی زبان پر ایک ہی سوال ہے کیا، ہمیں ایک مرتبہ پھر پرائے جنگ سے بچانے والا کوئی نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “فاٹا آپریشن کے دوران صحافت کی کچھ یادیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے