بیماری رحمت ھے
بیماری کے متعلق انسانوں کے ہر دور میں مختلف تصورات رہے ہیں، کبھی سمجھتے تھے کہ فلاں گناہ کی وجہ سی بیمار ہوا ہے، اور کبھی بد روحوں نے جسم پر قبضہ کیا ہے اور جو شخص بیمار ہوتا تو اس کو گناہ گار سمجھا جاتا تھا، جو نیک روح والا ہوتا تو کہتے بد روحوں نے تسلط اختیار کر لیا ہے ان پر لیکن انبیائی کرام علیھم السلام نے جو بھی ہدایات (بیماری، تصور علاج) لائے اس میں مکمل رہنمائی تھی۔ وقت کے گزر نے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے ان ہدایات کو تحریف کر دیا جس کی وجہ سے خرافات شروع ہوئیں۔
عیسائیوں کی کلیسائیوں نے سائنسی علوم کو جرم قرار دیا، تقدیر کے خلاف قرار دیا، تدابیر کرنا گناہ سمجھ لیا گیا لیکن حضرت عیسی علیہ السلام نے انہیں یہ تعلیم نہیں دی یہ ان کے خود ساختہ اطوار تھے پھر اسلام کے عروج کا دور شروع ہوا، اسلام اپنے ماننے والوں کو بہت ہی مدلل انداز سے ہدایات دیتا ہے۔
زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق دین اسلام نے رہنمائی فراہم کی ہے۔ اسی طرح ”بیماری“ کے متعلق بھی فرمایا کہ اس میں صبر کرو اللہ تعالی پر توکل رکھو اور علاج کرو۔
بیماری میں صبر و شکر کرو گے تو تمھارے گناہ معاف اور جو عیادت کرے، بیمار کی خدمت کرے اس کے بھی گناہ معاف، سبحان اللہ!
اب دیکھتے ہیں کہ قرآن حکیم کیا کہتا ہے،
و اذا مرضۡت فہو یشۡفیۡن ﴿۪ۙ80﴾
اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔
(سورہ 26 آیت 80 )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ادب ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے بیمار ہونے کی نسبت تو اپنی طرف فرمائی، اور شفا دینے کو اللہ تعالیٰ کا عمل قرار دیا، اس میں یہ اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ بیماری انسان کی کسی اپنی غلطی کے سبب آتی ہے اور شفا براہ راست اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔
اس سے یہ بات سمجھ آئی کہ بیماری انسان کی غفلت سے بھی ہوتی ہے اور قدرت کی طرف سے آزمائش کہ طور پر بھی آتی ہے اور موسمی تبدیلی سی بھی۔
ایک اور جلیل القدر نبی کی مختصر اور جامع دعا جو بہت ہی صبر کہ بعد مانگی،
و ایوۡب اذۡ نادٰی ربہۤ انیۡ مسنی الضر و انۡت ارۡحم الرٰحمیۡن﴿ 83﴾ۚ ۖ
اور ایوب ( علیہ السلام کا قصہ یاد کریں ) جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف چھو رہی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر مہربان ہے
( 21 : سورة الانبیاء 83 )
پتا چلا کہ بیماری کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو صبر و شکر، اللہ تعالی پر پکا بھروسا رکھ کر ہی نجات ملتی ہے۔
قرآن حکیم خود کہتا ہے کہ مجھ میں شفا ہے جسمانی، روحانی بیماری دونوں کا علاج،
یٰۤایہا الناس قدۡ جآءتۡکمۡ موۡعظۃٌ منۡ ربکمۡ و شفآءٌ لما فی الصدوۡر ۬ ۙ و ہدًی و رحۡمۃٌ للۡمؤۡمنیۡن ﴿57﴾
اے لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور ان ( بیماریوں ) کی شفاء آ گئی ہے جو سینوں میں ( پوشیدہ ) ہیں اور ہدایت اور اہل ایمان کے لئے رحمت ( بھی )
( 10 : سورة یونس 57 )
اور مزید وضاحت کے لئے
سید الکونین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث مبارکہ سے استفادہ
حاصل کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اللہ پاک جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے تکلیف میں مبتلا کرتا ہے
(ص بخاری : 5645 )
ایک اور مقام پر،
سید الکونین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
مسلمان کو جو رنج، دکھ، فکر اور غم پہنچتا ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کانٹا بھی لگتا ہے تو وہ تکلیف گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے
(ص بخاری: 5640، ص مسلم: 2571 )
نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ پاک مسافر اور مریض کو ان کے عمل کے برابر اجر دیتا ہے جو وہ گھر میں تندرستی کی حالت میں کیا کرتا تھا
(ص بخاری: 2996 )
ان احادیث مبارکہ سے واضح ہوا کہ مسلمان کو جو بھی تکلیف ملتی ہے اس میں اجر و نجات دونوں جہانوں کے لئے۔
اور اب کچھ شیطان، گناہ اور بیماری کے متعلق جانتے ہیں
انیسویں صدی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ بیماری، گناہ پر شیطان کا تسلط ہے لیکن اسلام نے بتایا کہ انسان پر شیطان کا اثر وسوسے اور برائی کے مشورے سے آ گے نہیں بڑھتا، اس کی مثال سورہ الناس میں ہے،
”اے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کہو کہ میں لوگوں کے رب
کی پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی۔ شیطان و سو سے ڈالنے
والے کی برائی سے جو اللہ کا نام سن کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ خواہ
وہ جنات سے ہوں یا انسانوں میں سے ”
۔ جنات اور انسانوں کے وسوسوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
کیونکہ دونوں سے پیدا ہونے والے وساوس شر کی طرف لے جاتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ گناہ اور بیماری شیطان کے اختیار میں نہیں صرف گناہ کی طرف مائل کر سکتا ہے اور وساوس ڈالتا ہے دلوں میں۔
اگر مختصر بیان کیا جائے تو بیماری انسان کے لیے رحمت ہے اگر غور و فکر کرے تو انسان رجوع الی اللہ ہوجاتا ہے، دوسرے انسانوں کو کم تر نہیں سمجھتا، بیماری کے ساتھ ساتھ اپنی بھی اصلاح کرتا رہتا ہے۔
بیماری اس قید خانے کے خط کی طرح ہے جس میں امید، نجات، دائمی راحت و سکون منتظر ہے صرف قید کے دن صبر و شکر سے گزارو!
جدید سائنس جو علاج بتاتی ہے وہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں تفصیلاً یا اشارتا موجود ہے لیکن ہمیں اس پر تحقیقی کام کرنا پڑے گا کہ دنیا پھر ہم سے طب کا علم سیکھے!


