آزاد کشمیر میں الیکشن کا دنگل

بہت سے خدشوں، مخمصوں اور اندیشوں کے سائے میں بالآخر آزاد جموں کشمیر کے عام انتخابات انعقاد پذیر ہو رہے ہیں۔ خاکسار نے مختلف پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا ہے۔ اکثر سٹیشنوں پر ماحول پر امن اور حالات بہت سازگار ہیں تاہم فائرنگ، لڑائی جھگڑے کے کچھ واقعات بھی رونما ہوئے جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین قیمتی جانیں بھی چلی گئی ہیں۔

کشمیر الیکشن اس لحاظ سے قابل ذکر ہوتے ہیں کہ یہاں ہمیشہ وہی پارٹی جیتی ہے جو پاکستان میں بر سر اقتدار ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار نون لیگ، مسلم کانفرنس، جے کے پی پی او دوسری جماعتوں کے الیکٹیبلز مقتدر حلقوں کی فرمائش پر جوق در جوق پی ٹی آئی میں شامل کروائے گئے ہیں۔

یوں تو پیسہ اور الیکشن لازم و ملزوم ہیں مگر جس طرح حکمران پارٹی نے حالیہ الیکشن میں کالے دھن کا بے دریغ استعمال کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یار لوگ یہ پھبتی کستے ہیں کہ اس بار Kashmeer (کشمیر) Cash Meer کا روپ اختیار کر چکا ہے۔ یقین نہیں آتا کہ کشمیر الیکشن میں منڈیاں اس پارٹی نے قائم کیں جس کا سربراہ چند ماہ پہلے سینیٹ الیکشن میں پیسے کے استعمال پر دہائی دے رہا تھا۔ اس یو ٹرنر نے اس بار کشمیر میں اپنی اے ٹی ایم مشین اور وزارت عظمیٰ کے ”خریدار“ تنویر الیاس کے ذریعے وہ انت مچائی کہ شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کا ادنٰی سا تاثر بھی قائم نہ رہ سکا۔

اور تو اور ظالموں نے سیاست میں مذہب کا چورن بیچنے والی ”مقدس“ پارٹی جماعت اسلامی کے سابق امیر کو بھی نہیں بخشا اور اس کی بائیس سالا ”امارت“ پر کروڑوں روپے کا شب خون مار کر اسے آخری عمر میں رسوا کر دیا۔ دوسری طرف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈئیر ندیم پی ٹی آئی کے حق میں الیکشن فکس کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اور اپنے عہدے سے بر طرف کر دیے گئے۔ موصوف اس سے قبل گلگت بلتستان کے الیکشن میں ”شفافیت“ کا ہاتھ دکھا چکے ہیں۔

علی امین گنڈا پور الیکشن کمشن کے واضح احکامات کے باوجود آخری وقت تک کشمیر میں اصلی اور زبانی فائرنگ کرتے رہے۔ وزیراعظم پاکستان بھی جلسوں سے خطاب کر کے ”اداروں“ کے تقدس کی تبلیغ کرتے رہے اور ہمارا ”آزاد“ الیکشن کمیشن ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی مثال پیش کر کے اپنی تابع فرمانی کا اعلان کرتا رہا۔ مریم نواز کے جلسوں اور نون لیگیوں کی پر جوش الیکشن مہم کو دیکھا جائے تو نون لیگ بھاری اکثریت سے جیت رہی ہے۔ ووٹرز کا رجحان بھی نون لیگ کی طرف ہے مگر اس کے باوجود بہت سے مقامات آہ و فغاں ابھی باقی ہیں۔ کشمیر میں ساون کی جھڑی لگ چکی ہے۔ لہٰذا ”دھند“ چھانے کا پورا امکان موجود ہے۔ آر ٹی ایس بھی بیٹھ سکتا ہے اور اس حقیقت سے بھی کون انکار کر سکتا ہے کہ پاکستان میں ووٹ ڈالنے والے نہیں ووٹ گننے والے اہم ہوتے ہیں۔

ن لیگ کی فتح کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ حکمران جماعت کے اس قدر کھلے ہتھکنڈوں کے باوجود وہ جیت کے حوالے سے متذبذب اور مضطرب ہے۔ ذرا نہیں پورا سوچیے کہ اگر حکمران پارٹی اپنے ”مربیوں“ اور ”سرپرستوں“ کو ایک طرف رکھ کر صرف سیاسی میدان میں نون لیگ کا مقابلہ کرے تو شاید ضمانتیں بھی ضبط کروا بیٹھے۔ جو حال ہائبرڈ حکومت نے نئے پاکستان کا بنا ڈالا ہے اسے دیکھتے ہوئے غیور اور عقلمند کشمیری ”نئے کشمیر“ کے تصور ہی سے دہل جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words