کیا ابھی بھی ڈومیسٹک وائلنس بل 2021 کی ضرورت نہیں؟

ابھی پچھلے دنوں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں گھریلو تشدد کا بل پیش کیا گیا جو کہ اپنی نوعیت کا پہلا بل تھا جس پر بہت لے دے ہوئی اور مخالفت کی گئی جس کے بعد اسے اسلامی نظریاتی کونسل میں نظرثانی کے لیے بھیج دیا گیا۔ یہ ایک نہایت جامع بل تھا جس میں گھریلو تشدد کی وضاحت کی گئی اور سزائیں بھی مقرر کی گئیں۔ اگر یہ بل منظور ہو کر لا گو ہو جاتا تو کسی حد تک اس قسم کے واقعات میں کمی کی ایک امید پیدا ہو جاتی لیکن چونکہ یہ تو ہمارے ہاں ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے اور اس کی شدید مخالفت کی گئی اور ٹویٹر تک پر ٹرینڈ چلائے گئے جو کہ ہمارے ہاں اکثریت کی ترجیحات اور ذہنیت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ جن باتوں کو بنیاد بنا کر اس بل کی مخالفت کی گئی ان میں اسے ہر گھر کا ذاتی معاملہ قرار دینا، ہمارے معاشرے اور اقدار کے منافی ہونا اور مغربی سازش شامل ہیں۔

اب ہم گزشتہ کچھ روز میں پیش آنے والے چند واقعات پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا یہ بل اس وقت کی ضرورت ہے یا کوئی مغربی سازش۔

سب سے پہلے ایک با اثر شخص عثمان مرزا کی ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ گیسٹ ہاؤس کے کمرے میں کئی لوگوں کے ساتھ زبردستی داخل ہوا، وہاں موجود لڑکی کو نا صرف برہنہ کیا بلکہ ظلم کی انتہا کرتے ہوئے ان کی سر عام ویڈیو بنائی، ہراساں کیا، ان کو خود بھی ایک دوسرے کے ساتھ بعد فعلی پر مجبور کیا، زیادتی بھی کی، بعد میں بھتہ بھی لیتا رہا اور بلیک میل کرتا رہا۔ ان سب کا جواز یہ پیش کیا کہ وہ میاں بیوی نہیں تھے یعنی اسے اس بات سے ان پر یہ ظلم کرنے کا حق حاصل ہو گیا۔

دوسرے واقعے میں حیدرآباد میں 32 سالہ قرۃ العین جو کہ چار بچوں کی ماں بھی تھیں، ان کو ان کے شوہر کی طرف سے وحشیانہ تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق ان کے جسم کی کئی ہڈیاں بشمول ناک، جبڑا، آنکھ ٹوٹی ہوئی تھیں اور دفنانے سے پہلے بھی ان کے ناک سے خون جاری رہا۔ بچوں کے بیان کے مطابق ان کا باپ پہلے بھی یہ تشدد کرتا رہتا تھا۔ ایک جملہ جو ہمارے ہاں بہت ساری شادیوں سے پہلے کہا جاتا ہے کہ ڈولی پر جا رہی ہو کندھے پر آنا، شاید اسی وجہ سے خواتین کی بڑی تعداد ہمارے ملک میں مار کھا کھا کر سسرال میں زندگی گزارتی ہے کیوں کہ طلاق تو ویسی بھی ہمارے ہاں ناپسندیدہ چیز ہے اور اسے لڑکی کے کردار سے جوڑا جاتا ہے۔ لڑکیوں کے ہوش سنبھالتے ہی ان کی شادی کر دی جاتی ہے اور کوئی تعلیم یا ہنر سکھایا نہیں جاتا جس کی وجہ سے وہ ساری زندگی مرد پر ہی منحصر رہتی ہیں۔

جب کہ ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ تب پیش آیا جب 27 سالہ نور مقدم جو کہ سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی تھیں، ان کو ظاہر جعفر جو خود ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھتا ہے، کی طرف سے اپنے گھر بلا نے کے بعد بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سر دھڑ سے الگ کر دیا گیا۔

ایک اور واقعہ جو پارا چنار میں پیش آیا جس میں ایک پولیس کانسٹیبل نے اپنی بیوی کو گولیاں مار کر قتل کر دیا اور بیٹی پر بھی جو کہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹ ہے پر بھی گولی چلا دی۔

یہ ایک مہینے میں پیش آنے والے واقعات میں سے چند ایک ہیں اور ان سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان خواتین کے لیے چھٹا خطرناک ترین ملک کیوں ہے اور جب ان کے حقوق کے لیے عورت مارچ کی جائے، کوئی این جی او مدد کے لیے آئے یا کوئی بل پیش کیا جائے تو اسے بے حیائی اور اپنی اقدار کے منافی قرار دیتے ہیں، اس کے خلاف ٹرینڈ چلائے جاتے ہیں اور عوام کے ساتھ ساتھ علماء بھی میدان میں آ جاتے ہیں۔ ہماری سارا انا اور عزت عورت سے ہی مربوط ہے جس کی وجہ سے ایسے واقعات کبھی بھی نہیں کم ہو سکتے۔ ابھی بھی آپ سروے کر لیں تو معلوم ہو گا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں بچے کسی نا کسی قسم کے گھریلو تشدد کے واقعات اپنے گھروں میں بھی دیکھتے دیکھتے بڑے ہوئے ہیں۔ ایک اور بات جو کہی گئی کہ یہ بل ہمارے خاندانی نظام کو خراب کر دے گا، سوال یہ ہے کہ ان سب واقعات کے بعد کیا ان چار خاندانوں کے لوگ نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہوں گے؟ یا ابھی بھی ہمیں اس بل کو پاس کرنے کے لیے مزید وجوہات کی ضرورت ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words