بلوچ عورت، مرد اور مصنوعی غیرت کے علمبردار

چند دن پہلے فیس بک پر ایک گروپ میں کسی نے سنج بلوچ نام کی لڑکی کی وڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ ماسک پہنے ولاگ بنا رہی ہے۔ جس میں یقیناً ناپختگی صاف دکھائی دیتی ہے۔ لیکن بیچاری مردوں کو تنقید کا دعوت دیتی بھی دکھائی دیتی ہے۔ اس بات سے انجان کہ اس کی وڈیوز کے بعد بلوچ غیرت ناگاساکی اور ہیروشیمائی بربادی کی تصویر بن جائی گی۔

نیچے کمنٹس میں گالیوں کے پھول برسانے کے ساتھ ساتھ سنج کے قومی بھائی ندامت سے شرمسار نظر آتے رہے۔

چند دن بعد پھر یہی طوفان بدتمیزی اور تمسخرانہ انداز عظمیٰ حیا جو ایک باصلاحیت گلوکارہ ہے، کے لئے اپنائی گئی۔ ایک دو سال پیشتر ایک لائیو شو میں ایک لڑکی نے ایک بلوچی گانا گایا تھی اس کے ساتھ بھی یہی کچھ اس انداز تک ہوا کہ ہر خاص و عام کی زبان پر اس کے لئے گالی تھی۔

کسی لڑکی کا فیس بک اور یوٹیوب پہ آنا اور اس کے بعد مردوں کا غیرت غیرت کا راگ الاپنا ایک نفسیاتی بے بسی کی علامت ہے۔ آپ یوٹیوب پہ سینکڑوں ایسے بلوچ لڑکوں کے وڈیو دیکھ سکتے ہیں جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر لیکن چوں کہ ان کے بنانے والے مرد ہیں تو یہ ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ الٹا واہ واہ کی تھپکی دی جاتی ہے۔ اگر اتفاقاً لڑکا خوبصورت نکلا تو مزید واہ لیکن یہی عمل لڑکی کے لئے بے شرمی کا موجب گردانا جاتا ہے۔ حالانکہ آج علم و ہنر اور ہر میدان میں لڑکی مرد کے شانہ بشانہ کڑی ہے۔

تنقید حق ہے لیکن گالی نہیں، ہر انسان کی آزادی دوسرے کی ناک تک ہے۔ آپ بھلے لڑکیوں، عورتوں پہ بھی تنقید کریں لیکن تنقید برائے تعمیر کے غرض سے نہ کہ گالی سے۔

حیرانی اس بات سے ہوتی ہے کہ بے غیرتی کے سرٹیفکٹ بانٹنے والے وہ ہیں جو اپنی گھر کی عورتوں کے علاوہ کسی کو غیرت مند مانتے نہیں، لڑکیوں سے عشق بازی، ان سے زیر جامہ باتیں، دوستوں سے چسکے لے لے کر اپنی فتوحات کے قصے لیکن یہاں ان کو غیرت یاد آتی ہے نہ اسلام مگر یہی شخص جب کسی کو یوٹیوب اور فیس بک پہ بلوچی کپڑوں میں دیکھتی ہے تو غیرت کا لاوا جاگ اٹھ کے گالیوں کی شکل میں دل آزاری بانٹتا ہے۔

اصل میں مرد اپنی اجارہ دارانہ اور جاگیردارانہ سرحدوں کو ٹوٹتے دیکھ کر بوکھلا گیا ہے۔ بقول منٹو جب مرد کے پاس الفاظ ختم ہوجائیں وہ چومنے لگتا ہے، لیکن جب مرد کے پاس دلائل ختم ہوجائیں وہ گالیاں دینے لگتا ہے۔ خود بھلے دنیا جہاں کے خرافات کرے لیکن دن ڈھلتے ہی خود کو ڈرائی کلین کر کے رحمت اللہ علیہ کی کھونٹی پہ ٹانگتا ہے۔ لیکن عورت کہ جس کے بطن سے جنم لیا ہے اس کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیوں کہ کہیں نہ کہیں یہ بات ذہن کے پردوں میں بٹھائی گئی ہے کہ عورت شیطان کی چیلی ہے۔

حالانکہ آج اگر بلوچ معاشرے میں تھوڈی بہت مزاحمت ہے، تو زبان بندی کے ان زنجیروں کو توڑنے والوں میں عورت ہی ہے جو مرد کو لیڈ کر رہی ہے۔ شعور و آگاہی کا یہ دور پدری حاکمیت کے علم برداروں کو جھٹکے دیتا رہے گا۔ عورت غیرت کے نام پہ اس حاکمیت کو تہ تیغ کرے گی۔ کیوں اب وہ مزید صنف نازک رہی نہ آدھی مخلوق۔

آخر میں شعیب کیانی کی نظم کا ایک ٹکڑا جو اس سوچ کو بیان کرتی ہے۔
”بے حیا“
ہمیں تو ہیں جو یہ طے کریں گے
یہ کس صحیفے کی کون سی آیتیں پڑھیں گی
یہ کون ہوتی ہیں
اپنی مرضی کا رنگ پہنیں
سکول جائیں، ہمیں پڑھائیں
ہمیں بتائیں
کہ ان کا رب بھی وہی ہے جس نے ہمیں بنایا
برابری کے سبق سکھائیں
یہ لونڈیاں ہیں یہ جوتیاں ہیں
یہ کون ہوتی ہیں اپنی مرضی سے جینے والی؟
بتانے والے ہمیں یہی تو بتا گئے ہیں
جو حکمرانوں کی بات ٹالیں
جو اپنے بھائی سے حصہ مانگیں
جو شوہروں کو خدا نہ سمجھیں
جو قدرے مشکل سوال پوچھیں
جو اپنی محنت کا بدلہ مانگیں
جو آجروں سے زباں لڑائیں
جو اپنے جسموں پہ حق جتائیں
وہ بے حیا ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words