پانامہ لیکس سے بڑی خبر قتل ہو گئی…

پاکستان میں سیاست کے ہنگام میں ایسی خبریں جن کا کوئی طاقتور سپانسر نہ ہو اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود اخبار کے یک یا دو کالمی کوڑے دان یا پھر خبرناموں کے آخری لمحات کے ڈمپ اسٹیشن میں دفن ہو جاتی ہیں۔

ایسی ہی ایک خبر پگاسس لیکس بھی ہے جس کا ابھی تک پاکستانی اکثریت نے نام تک نہیں سنا لیکن پاکستانی اور عالمی سطح پر اس خبر کو اپنی تمام تر ہنگامہ خیزی کے باوجود قتل کیا گیا ہے وہ بجائے خود ایک خبر ہے۔ دنیا کے بیس سے زائد سربراہان ریاست بشمول وزیراعظم عمران احمد خان نیازی کے موبائل فون تک رسائی اور اس کے مواد کی جاسوسی کی کوشش ایسی غیر اہم خبر تو نہ تھی کہ لمحہ بہ لمحہ چنگھاڑتی بریکنگ نیوز اس پر خاموش رہتیں اور چپ سادھ لی جاتی لیکن جب دنیا بھر میں اس واردات پر خاموشی ہے تو پاکستانی ناتواں میڈیا سے کیسا شکوہ؟

پیگاسس اسرائیلی سائبر آرمز بنانے والی نجی فرم این ایس او کی تخلیق ایک جاسوسی سافٹ ویئر (سپائی ویئر) ہے۔ جو موبائل فونز میں بغیر کسی انتباہ کے انسٹال ہو جاتا ہے اور پھر یہ دوران کار موبائل پر اپنی موجودگی کی کوئی نشاندہی نہیں کرتا۔ پیگاسس صرف اینڈرائیڈ ہی نہیں انتہائی محفوظ خیال کیے جانے والے ایپل (آئی او ایس) میں بھی جاسوسی کر سکتا ہے۔ پیگاسس صارف کی رضامندی کے بغیر نہ صرف اس کی موبائل دستاویزات تک رسائی حاصل کرتا ہے بلکہ موبائل کے کیمرے مائیکروفون اس کے جی پی ایس گلوناس پر دسترس حاصل کر کے موبائل فون سے صارف کی رضامندی کے بغیر تصاویر گفتگو اور موقع تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔

اگرچہ کمپنی دعوی کے مطابق یہ سافٹ وئیر صرف حکومتوں کو جرائم کی روک تھام اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے مہیا کیا جاتا ہے۔ لیکن حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں اب تک اس کا استعمال نہ تو حکومتوں تک محدود ہے اور نہ ہی یہ صرف جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ بلکہ یہ انسانی حقوق کی لیے کوشاں رضاکاروں اور صحافیوں کی جاسوسی حتی کہ قتل کے لیے ایک خونی آلہ بن چکا ہے۔ جس کی بدولت اب بات مخالف ریاستوں کے سربراہان پر سائبر حملوں تک پہنچ چکی ہے۔

مشرق وسطی کی سیاست میں بھونچال لانے والے جمال خشوگی اور ان کے اہل خانہ اسی خونی جاسوسی سافٹ ویئر کی بھینٹ چڑھے۔ اسی طرح میکسیکن منشیات کے عالمی سرغنہ اس سافٹ وئیر کو منشیات کے خلاف کام کرنے والے صحافیوں کی معلومات تک رسائی کے لیے استعمال کرتے رہے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل میں محبتوں کی پینگوں کی پیچھے بھی اس سافٹ وئیر کے حصول کی خواہش بھی ایک اہم وجہ تھی اور ظاہر ہے متحدہ عرب امارات کی شاہی آمریت کو کسی بھی انسانی حقوق یا صحافت کی پہنچ سے دور ہونا انتہائی لازم ہے۔

عالمی سطح پر اب پیگاسس کا استعمال اس قدر بے دھڑک ہو چکا ہے کہ اس کے متاثرین کی فہرست میں بیس سربراہان مملکت بھی آ چکے ہیں جن میں فرانسیسی صدر عمانوئل میکرون، جنوبی افریقہ کے سرل رامافوسا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، عالمی کھرب پتی جیف بیزوس اور ہمارے وزیر اعظم عمران خان بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اٹھارہ ریاستیں اور پچاس ہزار سے زائد ایسے آئی فونز اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں جو اس سافٹ وئیر کی رسائی میں تھے۔ ایک ایسا سافٹ وئیر جو موبائل میں ایک خودکار جاسوس کی طرح مکمل جانکاری کے حصول تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے سافٹ وئیر وٹس ایب کی گفتگو بھی اس سافٹ وئیر کے استعمال سے دسترس میں لائی جا چکی ہے۔ اب دوسرے مرحلے میں یہ موبائل کو ناکارہ یا صارف کی دسترس سے باہر بھی کر سکتا ہے۔

ایسے وقت میں جب ریاست پاکستان کے سربراہ عمران خان کے موبائل فون پر بھی اس سپائی وئیر سے حملہ کیا جا چکا ہے تو پھر کیا اس انسانی حق تحفظ نجی زندگی پر براہ راست حملہ اور اس سافٹ وئیر بارے خاموشی مجرمانہ غفلت نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پانامہ لیکس سے بھی کہیں بڑی خبر پر ایسی خاموشی کیوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words