اولاد تو آپ ہی کی ہے


میں اس مضمون کے آغاز میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ مضمون نگار کا قارئین سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آج سے سینکڑوں برس قبل جزیرہ نما عرب میں دستور تھا کہ جب کسی کے یہاں لڑکی کی پیدائش ہوتی تو والدین اسے اپنی ذلت کا سبب جانتے ہوئے شرم سے پانی پانی ہو جاتے اور اس کوشش میں لگ جاتے کہ اس مزعومہ داغ کو کس طرح دھویا جائے۔ بعض ظالم والدین اپنی اس چھوٹی سے معصوم بچی کو غیرت کے نام پر زندہ زمین میں گاڑ کر چھٹکارا حاصل کر کے بظاہر اس نام نہاد ذلت کا داغ دھو ڈالتے۔

خدا تعالیٰ کی جو نعمتیں انسان کو میسر ہیں ان میں ایک بہت بڑا انعام اچھی صحت مند اور نارمل اولاد ہے اور ہر جوڑا خواہش کرتا ہے کہ اس کے یہاں مکمل، نارمل اور صحت مند اولاد پیدا ہو اور جب اولاد پیدا ہوتی ہے تو والدین اس کی بہتری کے لیے تگ و دو کرتے ہیں اور بعض اوقات تو اپنی اولاد کو سکھ پہنچانے کے لیے دوسروں کے حقوق تک غصب کرلیتے ہیں۔ بعض اوقات قانون قدرت اس طرح بھی کام کرتا ہے کہ اولاد میں کوئی جسمانی یا ذہنی نقص نکل آتا ہے۔

مثلاً ایک بچہ نابینا پیدا ہوا یا شنوائی اور سماعت کی حسیات پوری طرح نشوونما نہ پا سکیں جس کے نتیجے میں چونکہ اسے کوئی آواز سنائی ہی نہیں دیتی اس لیے بولنے کی صلاحیت سے بھی محروم رہ کر گونگا اور بہرہ ٹھہرتا ہے یا ذہنی طور پر پوری طرح نشوونما نہ پانے کی وجہ سے خود کو سنبھال نہیں سکتا۔ بعض بچے ڈاوٴن سنڈروم کے شکار ہوتے ہیں اور والدین کو انہیں سنبھالنا پڑتا ہے۔ اسی طرح بے شمار ایسی کمزوریاں ہیں جو بعض نومولودوں میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ایسے بچے سپیشل بچے کہلاتے ہیں اور ان کی پیدائش والدین کے لیے ایک ایسے جذباتی دکھ کا باعث بن جاتی ہیں جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

ایسے بچوں کے والدین کے لیے یہ صورت حال بہت تکلیف دہ ہوجاتی ہے اور وہ ان کی دیکھ بھال زیادہ توجہ اور محنت سے کرتے ہیں اور ان کی پرورش میں دن رات ایک کر دیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں اگر کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جس کے جنسی اعضا مکمل نشوونما نہ پانے کی وجہ سے اپنا کام نہ کر سکیں اور اس کی جنس متنازع بن جائے جسے ہماری زبان میں ہیجڑا یا خواجہ سرا کہا جاتا ہے تو والدین بجائے ایسے بچے سے ہمدردی اور محبت کرنے کے اس کی پیدائش کو اپنی ذلت سمجھنے لگتے ہیں اور اسے یوں اپنے سے جدا کر دیتے ہیں جیسے وہ ایک زہریلا ناسور ہو۔

چنانچہ پھر جیسا کہ ہم بڑے شہروں میں مختلف چوکوں اور اڈوں پر دیکھتے ہیں یہ بے چارے یا تو بھیک مانگتے نظر آتے ہیں یا جنسی ہوس کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ اور چونکہ ان کے خاندان والے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں تو ان کی ایسی تنظیمیں بنی ہوئی ہیں جو ان بچوں کو اپنے حصار میں لے کر ان سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان میں ایک پوری تنظیمی لڑی ہوتی ہے جن میں ان کے لیڈر ”گرو“ کہلاتے ہیں اور یہ سب ایک علیحدہ کمیونٹی کی شکل میں مل جل کر رہتے ہیں۔ اس طرح یہ تنظیمیں خصوصاً اپنے فوائد کے حصول کے لیے ان سے کئی قسم کے ناجائز کام کرواتی ہیں۔

حالانکہ یہ کسی کی اولاد تو ہیں اور ان کے والدین نہ جانے کیوں اتنے سخت دل اور بے رحم ہو جاتے ہیں کہ اپنی اس مجبور اولاد کو گھر سے بیدخل کر دیتے ہیں۔ خدارا انہیں نارمل انسان سمجھیں اور جیسے دیگر کسی جسمانی یا ذہنی کمزوری کے حامل لوگوں سے ہمدردی اور محبت کا سلوک کیا جاتا ہے ۔ ان سے بھی کریں۔ سوائے اس ایک کمزوری کے ان میں بڑی بڑی ذہنی صلاحیتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ذہنی طور پر یہ افراد بالغ اور ذہین ہوتے ہیں۔

ان کی دیگر تمام صلاحیتیں اوسط انسان سے بہتر بھی ہو سکتی ہیں۔ اور اگر ان کی صحیح تعلیم و تربیت کی جائے تو یہ باقی افراد کی طرح معاشرے کا ایک مفید حصہ بن سکتے ہیں پھر کیوں ہم انہیں اپنے گھروں سے بیدخل کر کے ایسے ماحول میں بھیج دیتے ہیں جہاں سوائے طعن و تشنیع اور تمسخر اور استہزاء کے یہ معاشرے سے کچھ حاصل نہیں کرتے۔

میں نے جو گزارش کی ہے وہ ان افراد کے حوالہ سے ہے جن کے جنسی اعضاء پوری طرح نشوونما نہیں پا سکتے البتہ بعض ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو اپنی آزاد مرضی سے خود کو عورت نما یا ہجڑا قرار دے کر جنسی بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ ایک الگ بحث ہے اور آج کل مغربی دنیا میں بھی اس قسم کی ایک تحریک زور پکڑ رہی ہے جسے پان سیکشؤلزم کہا جاتا ہے جس سے مراد یہ کہ جنسی طور پر کوئی فرد اگر مکمل مردانہ اعضاء رکھتا بھی ہو لیکن اگر وہ نفسیاتی طور پہ خود کو عورت سمجھے تو معاشرے کو اسے اسی حیثیت میں قبول کرلینا چاہیے جو حیثیت وہ خود اپنے لیے متعین کرتا ہے۔ اس مضمون کا تعلق ایسی نفسیاتی الجھنوں سے نہیں ہے بلکہ ان افراد سے خاص ہے جو واقعتاً اپنے اعضاء کے حوالہ سے سپیشل ہوتے ہیں۔

اس مسئلہ کو الجھانے کے لیے بعض اوقات فقہ کے مسائل مثلاً وراثت وغیرہ کے معاملات اٹھا دیے جاتے ہیں حالانکہ اس بات کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ ایسے افراد کے والدین انہیں اپنے گھروں سے بیدخل کر دیں۔

خدارا اپنے بچوں کی توقیر کیجئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words