نئے پارلیمانی ڈاکٹرائن کی ضرورت


آزاد جموں کشمیر کے انتخابات ہو گئے، حسب توقع وہی نتائج سامنے آئے جو جی بی میں بھی آتے رہے ہیں، ان علاقوں کا پاکستان کے وفاق کے ساتھ تعلقات یقینی طور پر مالی و سیاسی طور جڑے رہنا با امر مجبوری بھی ہے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسے جھٹلایا نہیں جاسکتا، پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نوازنے بھی انتخابی جلسے کیے اور توقعات کے مطابق بڑی تعداد میں عوام بھی آئے، لیکن انہیں بھی یقیناً علم تھا کہ وفاق سے مخصوص مفادات کے لئے سیاسی انتخابات کے بدلتے ٹرینڈ ایک ایسا عمل ہے جو ہمیشہ سے چلا آ رہا، اب تمام سیاسی جماعتوں احتجاج تو جمہوری حق ہے کہ الیکشن کے نتائج کو تسلیم کریں یا نہ کریں، لیکن جی بی اور اے جے کے میں حکومت تبدیلی کی لہر کے پی کے کی طرح ہونے میں وقت لگے گا۔

صوبہ خیبر پختونخوا نے سیاسی جماعتوں کو ہر انتخاب میں بدلنے کا عمل کا رجحان تبدیل کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو موقع فراہم کیا کہ وہ اپنا ٹرن اوور اور شارٹ و لاگ ٹرم پالیسیوں کے مکمل عمل درآمد کو یقینی بنا لے، تاہم خیبر پختونخوا، بالخصوص انضمام شدہ قبائلی علاقوں میں سیاسی بے چینی و مایوسی عروج پربھی ہے جو کہ ایک وفاق کے لئے نیک شگون قرار نہیں دیا جا سکتی۔ گلگت بلتستان کے بھی آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات نئے سیاسی منظر نامے کے ساتھ دنیا کے سامنے جلوہ گر ہوئے ہیں، وفاق و آزاد کشمیر کا بیانیہ ایک ہونا چاہیے کیونکہ یہ کشمیر پالیسی کے تحت ناگزیر ہے۔

لیکن افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ ملکی سیاسی جماعتوں نے کشمیر انتخابات کو جس طرح لڑا، اس سے دنیابھر میں مقبوضہ کشمیر کے مقدمے پر نمایاں فرق پڑے گا کیونکہ جس طرح کے الزامات وفاق پر لگائے گئے اور سیاسی جماعتوں کے بیشتر رہنماؤں نے رکیک و انتہائی نازیبا زباں استعمال کی، وہ قابل مذمت ہے۔ جوش خطابت اپنی جگہ، روایتی طور پر مخالفین کے خلاف پروپیگنڈے برصغیر کی سیاست کا سیاہ باب ہے، اسی طرح ہر الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہ کرنا بھی ایک روایت بن چکی ہے۔ اب سروے کچھ بھی رجحان ساز سروے پیش کریں لیکن اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں آزاد جموں کشمیر بھی وفاق سے اپنے مسائل کے حل سمیت متعدد معاملات میں متفقہ پالیسی کے تحت نتھی رہنا ناگزیر سمجھتا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم پر سیاسی ایف آئی آر کے استعمال کے ساتھ جو الزام لگائے گئے تو اس وقت ہی 90 فیصد اندازہ ہو چکا تھا کہ الیکشن کون سی جماعت جیتے گی۔ مریم نواز نے آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے سے جو پارٹی پالیسی بیان دیے، اس سے ضرورت اس امر کی بڑھ جاتی ہے کہ ملک بھر میں صوبوں کے قیام و ان کی خود مختاری کے حوالے سے مشاورت کے دس برس سے رکے عمل کو ازسر نو شروع کیا جائے۔ حکومت سمیت سیاسی جماعتوں کو اس کا ادراک کرنا ہوگا، کہ ریاست کا بیانیہ کسی بھی سطح پر کمزور نہ پڑے۔

پارلیمنٹ کو بار بار مچھلی بازار بنانے کے بجائے سیاسی ڈاکٹرائن کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، ہم نے یہ بہت کم دیکھا ہے کہ پارلیمانی ڈاکٹرائن کے قیام کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل کیا گیا ہو۔ ملکی سیاست کے نت نئے پیچ و خم متقاضی ہیں کہ نئے صوبوں کے قیام کو اتفاق رائے سے ممکن بنانے کے لئے ان وعدوں کی تکمیل پر توجہ دی جائے جس کا ہر الیکشن میں سیاسی جماعتیں وعدہ کرتی رہی ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد عوام سے کیے وعدوں کو فراموش کر دیتی ہیں اور جب بھی انتخابات آتے ہیں، وہ مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے لئے صوبائیت کا سہارا لیتے ہیں۔

صوبائیت کی اس روش سے وفاق مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔ ایک ہی جماعت کی تمام وفاق سمیت تمام صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر سمیت گلگت بلتستان سمیت حکومت میں ہونا بادی النظر بہت مشکل نظر آتا ہے، لیکن نئی اکائیاں بنا کر ان سیاسی تحفظات کو دور کیا جاسکتا ہے جس سے صوبائی خود مختاری میں اختیارات کے محور کا درست استعمال ہو سکے۔

سرائیکی یا جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا عمل کا وعدہ ہو، یا پھر ملک کے تمام حصوں میں انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹ بنانا، راقم کے خیال میں اسمبلی اخراجات سمیت این ایف سی کی تقسیم جیسے مالی انتظامات کا حل نکالنے کا واحد راستہ نئے و ازسر نو انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔ پاکستان دھرتی ماں ہے، اس حوالے سے صوبائیت میں لسانیت یا عصبیت کا رنگ ہمیں مسلسل نئی منفی راہ پر لے جا رہا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں بعض وفاقی وزراء کا قول و فعل افسوس ناک رہا، عدم برداشت نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ ملکی انتخابات کا شفاف نہ ہونا، بہت بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ اس امر کا امکان موجود ہے کہ اگر نئے انتظامی یونٹس کو بنانے کا عمل پنجاب سے شروع کر دیا جائے تو یہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پہلا قطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

نئے انتظامی یونٹس میں قیام کے سلسلے میں دو باتوں خیال رکھے جانا ضروری ہے کہ یہ کام سبھی سیاسی قوتوں کے اتفاق رائے سے ہونا چاہیے اور دوسرا یہ کہ یہ تقسیم انتظامی لحاظ سے ہونی چاہیے اسے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بنانے سے ملکی مفاد میں گریز کرنا ہوگا۔ یہ کہنا زیادہ صائب ہوگا کہ انتظامی حوالوں سے صوبوں کی تقسیم کی ضرورت دوچند ہے، اس میں کسی کی جیت یا کسی کی ہار والا معاملہ نہیں ہے، نہ ایسی کوئی بات کی جانے چاہیے انتخابات اپنے منشور کے مطابق لڑیں، لیکن اسے پورا بھی کریں، اہداف کو عوام کے سامنے رکھیں، عوام میں شعور و آگاہی کو بڑھائیں، عدم برداشت میں الزامات اور رہنماؤں کو برے القابات سے پکارنے کے عمل کو ختم کر دینا چاہیے، ماضی میں بھی سیاسی اختلافات ہوا کرتے تھے، لیکن ایسا کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ عالمی تنازع کے شکار علاقوں کو عدم برداشت و نئے تبدیلی کلچر سے شکار کیا جائے۔

ضرورت اس امر کی ہے سیاسی جماعتیں عوام کو وعدوں کی نئی زنجیر میں جکڑنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ ان وعدوں پر پیش رفت و مسائل سے عوام کو اعتماد میں لیں جس سے ان کا اعتماد ملکی نظام پر بحال ہو، وعدے ایفا کرنے کی ایک نئی روایت ڈالنے کی لئے تمام سیاسی جماعتوں کو منطقی قوم اٹھانا ہوگا۔ امید کر سکتے ہیں سیاسی تناؤ کی کیفیت کو ختم کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں اپنے طرز سیاست کو تبدیل کریں گی، کیونکہ یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔

Facebook Comments HS