وہ ہمسفر

یادداشت میں بچپن سے لے کر ڈھلتی عمر تک کئی ہستیاں کچھ ایسی بس چکی ہیں جن کا ذکر کیے بغیر آگے بڑھنا دشوار سا محسوس ہوگا۔ دوسروں کو سننے کی عادت کہیں پیچھے چھوڑ آئے اور اب جیسے دیکھی سنیں، سنانے میں گزار رہے ہیں حالانکہ مجھ جیسے وہ نہیں جن کا گزر بسر ایسا کرنے سے وابستہ ہو۔
ماں باپ کا ساتھ پہلا اور کسی حد تک روحانی حوالوں سے آخر تک چلتا ہے صرف سمجھنے اور محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ سفر کے تقاضے اور اس میں درپیش مشکلات سے مکمل آگاہی دیتے ہیں والدین کے ہمراہ گزرا وقت کسی بھی بندے کا سرمایہ حیات ہوتا ہے بعض اوقات اپنے علم اور مشاہدے کے زعم یا مصروفیت میں انہیں نظر انداز کر جاتے ہیں۔ لیکن یہی وہ دوست ہیں جنہوں نے آنے والے دنوں کے ساتھیوں اور ہم سفروں کی پہچان سکھائی ہوتی ہے۔ گلی محلے سکول میں نئے ہم سفر ملتے ہیں کوئی ہاتھ پکڑنے والا تو کسی کو مطلب اور عارضی سہارا درکار ہوتا ہے۔ یہ ساتھ کچھ دور جاکر چھوٹ جاتے ہیں۔ چند ایک کئی برس یا مرنے تک نبھائے جاتے ہیں۔
مرد اور عورت کا سفر جسے کائنات بنانے والے نے حقیقی تعلق پر مبنی قرار دیا اس کی پائیداری، مضبوطی اعتماد اور بھروسے پر ہوتی ہے۔ دونوں قدم ملا کر چلنے اور مشکل میں ساتھ نبھانے کے عہد و پیمان کرتے ہیں۔ یہ سفر چونکہ طویل ہوتا ہے ہمراہی کبھی جلد ڈگمگانے لگتی ہے صرف باہمی اعتبار کی کمی اس سفر میں رکاوٹیں ڈالنے کا باعث بنتی ہے۔
کچھ سفر زندگی کے تیسرے یا آخری دور میں ہوتے ہیں کوئی ریٹائرمنٹ پر کتابوں کو اپنا ساتھی بنا لیتا ہے کیونکہ ان لمحات میں کبھی کبھی انسان وقت نہیں دے پاتا ہے یا پھر دوسرے تنہا چھوڑ جاتے ہیں۔ جسے پڑھنے سے شغف نہ ہو اس کے لئے پریشانی بڑھ جاتی ہے وہ کبھی کبھار دین یا روحانیت کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتا ہے یہاں اسے کچھ اطمینان ملتا ہے پھر وہ اسے ہی غنیمت جان کر چلتا رہتا ہے۔
سفر کیوں کرنا پڑتا ہے کیا تقاضے ہیں کئی بار معلوم بھی نہیں پڑتا۔ بس ہم چلتے جا رہے ہوتے ہیں کبھی کبھی سوچ کا سفر بھی تھکا دیتا ہے حالانکہ اس میں اچھے اور طاقتور سہارے ملتے ہیں لیکن زیادہ عارضی ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں انسان کچھ دور جاکر اکیلا تنہائی محسوس کرتا ہے۔
جدید دور کے سوشل میڈیا کے سفر میں کئی ساتھی اور ہمراز بن جاتے کئیوں سے ماضی کی باتیں کر کے اس قدر راحت ملتی ہے کہ جیسے ساری زندگی کی اکتاہٹ رفع ہو گئی ہو۔ اپنے کئی پرانے رابطے بحال ہو جاتے ہیں کچھ دوست جیسے بھیڑ میں سے نکل کر سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر جیسے کئی سفر اور انجان راہوں پر نئے ہمسفروں کی سنگت نصیب ہوتی ہے
یہاں بھی وہی کچھ دہرایا جاتا ہے اور اعتبار بھروسا ڈگمگانے کی دیر نہیں سوچ نظریے کا اختلاف فوری ہاتھ چھڑانے پر مجبور کر دیتا ہے جلد ہی یہ سفر بھی مایوسی دکھ اور تکلیف کی کیفیت میں چھوڑ جاتا ہے۔
لیکن انسان کا نصیب اس کے لئے سفر لکھا کر لاتا ہے وہ اسے ہر صورت کرنا ہے۔ چاہے اس میں تھک جائے یا ہمت ہارے۔
مرنے تک تعلق رشتوں دوستی کا سفر جاری رکھنا ہے فیصلہ اس پر ہے اس سفر کو اچھا بنانا ہے یا تکلیف دہ۔

