نور مقدم قتل، غور و فکر کے اہم پہلو


نور مقدم قتل کے علاوہ گزشتہ دو مہینوں میں پے درپے دو اور واقعات بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ہی میں رونما ہوچکے ہیں۔ ان تینوں واقعات کو غور سے پڑھ کر اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کرنے کی درخواست ہے۔

اسلام آباد میں سرکاری افسر نے 20 سالہ لڑکی کو نوکری دلوانے کے لئے بلا کر این سی آر سی کے ریسٹ ہاؤس لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے گریڈ 17 کے افسر رانا سہیل اختر کو گرفتار کر لیا۔ بتایا گیا ہے کہ رانا سہیل اختر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں بطور سیکشن افسر تعینات ہے۔

اسلام آباد میں عثمان مرزا نامی شخص نے ساتھیوں سمیت فلیٹ میں گھس کر جوان لڑکا، لڑکی کو ہراساں کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی۔ اسلام پولیس نے ویڈیو میں تشدد کرنے والے ملزم عثمان مرزا سمیت دیگر دو ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے اصرار کے باوجود ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے کئی دن بعد یہ بیان دیا گیا کہ لڑکا، لڑکی دونوں منگیتر تھے۔ آثار یہی ہیں کہ دونوں بغیر رشتے اور نکاح کے ایک دوست کی پلیٹ میں وقت گزارنے کے لئے آئے تھے۔

اسلام آباد تھانہ کوہسار کے علاقے میں سابق سفارت کار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو گلا کاٹ کر قتل دیا گیا۔ ایف سیون فور میں ہونے والے اس واقعے میں مرد نے عورت کو گولی ماری، پھر اس کا سر قلم کیا۔ اخلاقی زوال کے اس نوحے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مقتولہ اور قاتل کے درمیان کئی برسوں سے ”ڈیٹنگ“ ہو رہی تھی۔

کسی کو ہراساں کرنا، اسے تشدد کا نشانہ بنانا، بلیک میل کرنا بھی بڑی بے شرمی ہے اور کسی خاتون کی عفت و عزت کو تار تار کرنا اس سے بھی بڑی بے غیرتی ہے لیکن اگے بڑھ کر کسی کو اذیت ناک موت دینا تو حد درجہ سفاکیت، حیوانیت اور وحشیت کی انتہا ہے جو قابل تشویش بھی ہے، قابل افسوس اور قابل مذمت بھی لیکن قابل غور بھی۔ درندوں کی درندگی اپنی جگہ قابل غور ہے کہ اس مکروہ سوچ اور قبیح اعمال کی روک تھام کیسے ہوں؟

بہتر قانون اور موثر عمل درآمد تاکہ مجرمین کو عبرتناک سزائیں مل جائے کہ وہ دوسروں کے لئے نشان عبرت بن جائے اور ساتھ دیگر اسباب کو بھی تلاش کر کے اصلاح احوال کے لئے انفرادی اور اجتماعی کاوشیں کرنا وقت کی اولین ضرورت ہے۔ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری اپنی جگہ لیکن خود نوجوانوں اور والدین کو بھی بہت ہی سنجیدگی اور احساس ذمہ داری کے ساتھ غور کرنا چاہیے کہ اس طرح کی واقعات میں ان کی کہاں کہاں غلطیاں شامل ہیں۔

کیا یہ نظر انداز کرنے والی بات ہے کہ ایک نوجوان لڑکی کیسے اکیلے گھر سے نکلتی ہے اور دو قدم آگے بڑھ کر نامحرموں پر اعتماد کرنا، دوستیاں بنانا اور باقاعدہ ساتھ وقت گزارنا کہاں کی عقلمندی ہے؟

نوجوان لڑکیوں میں یہ اتنا اعتماد، بے باکی اور آزادی کی طلب اور اس کا بے دھڑک استعمال آخر آیا کہاں سے اور اس کا انجام آخر کیا ہو سکتا ہے؟

یہ جامع تبصرہ حقیقت میں قابل غور ہے کہ
”عقل حیران ہے کہ لال بیگ اور چھپکلی سے ڈرنے والی حساس لڑکیاں کسی مرد سے اکیلے میں ملنے سے کیوں نہیں ڈرتیں جبکہ لال بیگ اور چھپکلی کوئی نقصان نہیں پہنچاتے مگر ایک غیر مرد تمہارا جسم، تمہاری روح، تمہاری پاک دامنی، تمہاری عزت، تمہارے خاندان کا نام اور یہاں تک کہ تمہاری آخرت کو ہمیشہ کے لئے خراب کر سکتا ہے“

اس ضمن میں والدین کی چشم پوشی، غفلت اور لاپرواہی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرنا، ان کی راہ نمائی کرنا، ان پہ نظر رکھنا، ان کی محافل اور تعلقات سے آگاہ رہنا، ان کی اوقات کو ترتیب دینا اور جب جب بھی کہیں ان سے غلطیوں کا صدور ہوں تو بروقت اس کی تدارک، سدباب اور اصلاح احوال کی جانب متوجہ ہونا۔ یہ لازم ہے کہ یہ سارا عمل حکمت، محبت، نرمی، شفقت اور خیر خواہی ہی کے ساتھ ہو لیکن مناسب تادیب بھی تعلیم و تربیت اور نظم و ضبط کا ایک جز ضرور ہے۔ اصل چیز والدین کی حساسیت اور احساس ذمہ داری ہے۔ بچوں کو آزادی اور خودمختاری دینے اور اعتماد کرنے کی نام پر اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنا اور دراصل اس سے جان چھڑانا اور بھاگنا گھاٹے کا سودا ہے۔

”ڈان نیوز سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی مبشر زیدی نے مذکورہ واقعہ پر اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ میں تمام والدین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں (چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی) کو کسی دوسرے کے گھر رات بسر کرنے کی اجازت نہ دیں کیوں کہ بہت سے ظالم گھر سے باہر موجود ہیں“

”زیدی صاحب ایک سیکولر اور لبرل سوچ کے مالک ہیں لیکن اس کے باوجود لبرلز کے ہی ایک طبقہ نے غلط طور پر ان کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے یہ کہنا شروع کر دیا کہ زیدی صاحب وکٹم بلیمنگ (مظلوم کو ہی ذمہ دار ٹھہرانا) کر رہے ہیں حالاں کہ انہوں نے جو بات کی اس کا مقصد یہ تھا کہ جو ظلم ایک بیٹی کے ساتھ ہوا وہ کسی دوسری بیٹی کے ساتھ نہ ہو۔“

یہی وہ پہلو ہے جس پر غور و فکر کی دعوت شدت سے اس طرح کی واقعات پکار پکار کر دے رہی ہے۔

ایک خاص طبقہ کیوں نوجوان نسل کو دینی و معاشرتی اقدار سے بغاوت کرانے پر تلا ہوا ہے۔ آزادی اور خودمختاری کے نام پر گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کی کلچر کو عام کرنا دینی و اخلاقی اقدار ہی کیا معاشرتی اور خاندانی نظام کی تباہی کا بھی بڑا سبب ہے۔ ہمارا دین اور معاشرتی اقدار ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا کہ نوجوان لڑکی کسی غیر محرم کے ساتھ تعلقات رکھے اور باقاعدہ ساتھ بھی رہا کریں۔ اسی باغیانہ روش نے تو مغربی معاشروں کو تباہی سے دوچار کیا ہوا ہے۔ خاندانی نظام بکھرا ہوا ہے اور مقدس رشتے ہواوں میں تحلیل ہوچکے ہیں۔ وقتی لذت اور فرحت نے ان سے سکون کی دولت چھین لی ہے۔ اب انفرادی ہی کیا اجتماعی خودکشیوں کی رجحان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں ”گھریلو تشدد بل“ کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ جس میں بچے مکمل آزاد اور والدین کے ہاتھ مضبوطی کے ساتھ باندھ لئے گئے ہیں۔

بل میں مذکورہ ”جذباتی، نفسیاتی، زبانی اور معاشی تشدد“ کا یہی مطلب ہے کہ نوجوان بیٹا، بیٹی اپنی آزادی اور خودمختاری کی طاقت استعمال کر کے بالکل آزادانہ تعلقات رکھتے ہیں، جہاں چاہیے، جس طرح چاہے، جب چاہے اور جس وقت بھی چاہے کسی بھی کے ساتھ کہی چلے جائے، تعلقات استوار کرے، ساتھ رہے اور حتی کے جسمانی تعلقات ہی کیوں نہ رکھے، والدین بیچاروں کو سرے سے یہ حق حاصل ہے ہی نہیں کہ وہ پوچھنے تک کی جسارت اور حماقت کر لے۔

اگر اس طرح کی کسی کوشش کو اولاد اپنی تحقیر جانے اور اپنی آزادی و خودمختاری میں مداخلت تصور کر لے تو والدین کو ان کی شکایت پر جیل میں ڈالا جاسکتا اور انھیں باقاعدہ کڑا پہنایا جاسکے گا کہ یہ پہچان کرنے میں آسانی ہو کہ ”یہی وہ مجرم ہے جس نے اپنے خون پسینے سے پالی ہوئی اپنی ہی اولاد کی ناجائز تعلقات رکھنے پر ان سے پوچھنے کی حماقت کر کے ان کی شان میں گستاخی کرلی ہیں“

بچوں کو یہ سمجھانا لازمی ہے کہ
”محبتوں سے کہی زیادہ اہم اپنی عفت، عصمت، عزت، حیا اور اس کی تحفظ کی فکر اور احساس ہے“

خلاصہ یہ رہا کہ اس طرح کی واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ قانون سازی ہے، قانون کی عملداری ہے، تادیب، تعزیر اور مطلوبہ سزائیں ہیں، نظام کی اصلاح ہے اور سب سے بڑھ کر مکمل اور جامع تعلیم، تربیت، معرفت، آگہی اور تطہیر و تعمیر کا منصوبہ اور اقدامات ہیں۔

ہمارا ویلیو سسٹم جو پاکیزگی، حیا، عزت، غیرت، وقار، اطاعت، نگرانی، تربیت، جوابدہی، اخلاق اور نظم و ضبط سے عبارت ہے اور جو ہمیں مغرب سے ممتاز کرتا ہے اس کا ہمیں بحیثیت معاشرہ، بحیثیت والدین اور بحیثیت اولاد ہر حال میں دفاع کرنا ہے ورنہ سب کچھ بگڑ جائے گا اور معاشرہ بکھر کر تباہی سے دوچار ہوگا۔

الہی تعلیمات اور ہدایات کے مطابق تعمیر شدہ معاشرہ ہی خوبصورت کہلانے کا مستحق ہے جہاں تحفظ کا حقیقی احساس ہوگا اور اصل معنوں میں خوشحالی، فرحت، سکینت اور تحفظ کا ماحول ہوگا اور ہر کوئی مضبوط حصار میں مامون و محفوظ رہا کرے گا۔

Facebook Comments HS