خواتین پر پابندیاں لگا چکے، اب لڑکوں کی تربیت شروع کریں

گزشتہ دو ہفتوں میں پاکستان میں ایسے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جس کو دیکھ کر روح کانپ اٹھی ہے ویسے تو روح کانپ اٹھنے کا سلسلہ کافی پرانا ہے اور اب تلک جاری ہے۔ ظلم و بربریت کی عجیب و غریب داستانیں سن کر دل و دماغ پر لرزہ طاری ہو گیا ہے۔

ظلم کی یہ داستانیں کوئی نئی نہیں ہے اور بدقسمتی کے ساتھ نہ یہ آخری بار ہے۔ آخر کب تک باتیں ہوتی رہیں گی اور گھریلو تشدد اور خواتین کو جان سے مار ڈالنے کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ یہ تمام واقعات پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں پیش آئے جس میں صرف دو واقعات اسلام آباد میں پیش آئے۔

ہمارے سماج میں ایک بات بولی جاتی ہے کہ محرم مرد کے ساتھ عورت محفوظ ہیں لیکن اگر محرم مرد ہی اپنی محرم عورت کو تشدد کر کے مار ڈالے تو؟ یہ بھی بولا جاتا ہے کہ لڑکی اگر گھر سے باہر نکلیں گہ تو نشانہ بنے گی مگر ایک فلیٹ میں گھس کر اس کی عزت اچھالی جائے تو؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جاہل مرد عورت پر تشدد کرتا ہے لیکن اگر یہ کام اعلی تعلیم یافتہ شخص انجام دیں تو؟

یہ بھی کہا جاتا ہے غربت کی وجہ سے اکثر مرد غصے میں عورت کو مارتے ہیں لیکن اگر یہ کام معاشی طور پر مستحکم مرد کریں تو؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چست کپڑوں کی وجہ سے زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں لیکن اگر کفن میں لپٹی خاتون یا 6 ماہ کی بچی کی ساتھ یہ عمل ہو تو؟

یہ گزرے ہوئے چند دن بہت اذیت ناک تھے کبھی اسلام آباد سے خبر ملی کہ ایک لڑکی کا گلا کاٹ کر اسے مار دیا گیا۔ حیدرآباد سے خبر ملی کہ شوہر نے بیوی کو وحشت ناک طریقے سے مارا اور پھر جان سے بھی مار ڈالا، جو کہ اس کے بچوں کی ماں بھی تھی۔ اوکاڑہ سے خبر ملی کے نند اور شوہر نے بیوی کو جلا دیا۔ پھر پنڈی سے خبر ملتی ہے کہ ایک ظالم مرد خاتون اور بچہ پر تیز دھار آلے سے حملہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں 14 ماہ کا بچہ پہلے اور پھر ماں جان سے چلی جاتی ہے۔ تو کبھی خوشبو کے شہر پشاور سے خبر ملتی ہے کہ ایک نشئی شوہر پہلے بیوی کو قتل کرتا ہے اور پھر اس کی بچی بھی زخمی ہوجاتی ہے۔ یہ چند کیسز ہیں جو سامنے آ جاتے ہیں اور سوشل میڈیا کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ہاتھ پاؤں مارتے ہیں۔

لیکن یہ کیسز جو سامنے آتے ہیں وہ تو آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ کیونکہ یہ بڑے شہروں کے کیسز ہیں اس وجہ سے یہ سامنے آ جاتے ہیں ورنہ کیسز کی تعداد ہزاروں میں ہیں، کیونکہ عزت کی خاطر ظلم سہنے والی خواتین خاموشی کا رستہ ہی چنتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ظلم ہوتا ہے، احتجاج ہوتا ہے، شور و غوغا ہوتا ہے، سوشل میڈیا ٹرینڈنگ چلتی ہے، بہت اچھا ہوتا ہے۔ لیکن خاموش ظلم سہنے والی خواتین کے لئے ہمارے اقدامات کیا ہونے چاہیے؟ آخر ان کو کون آواز دے گا؟ ان کو کون الفاظ دے گا؟

ہمارا معاشرہ خواتین پر پابندی تو لگاتا ہے۔ یہ ہی معاشرہ خواتین کی تربیت کرنے کے لئے بھرپور جتن کرتا ہے، ان کو باؤنڈریز تو بتاتا ہے، لیکن یہ ہی معاشرہ لڑکوں کی تربیت کرنا بھول جاتا ہے، یہ ہی معاشرہ انھیں ظلم اور مظلوم میں فرق سکھانا بھول جاتا ہے، یہ ہی معاشرہ عورتوں کا احترام سکھانا بھول جاتا ہے، یہ ہی معاشرہ مردوں کو اپنی بیوی کے حقوق حفظ کرانا بھول جاتا ہے۔

جتنا دھیان خواتین کی تربیت پر صرف ہوتا ہے اس سے نصف بھی اگر مردوں کی تربیت پر ہو جائے تو معاشرے میں سدھار آ جائے اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد میں کمی واقع ہو جائے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوگا کیونکہ معاشرے میں ایک غلط فکر رائج ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے ”وہ عورتوں کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ مرد روبوٹ نہیں ہیں“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words