ہندو لڑکے کو بھگوان کو گالیاں دینے پر مجبور کرنے والے عبدالسلام نے گرفتاری کے بعد معافی مانگ لی
عبدالسلام ابو داؤد: ”کسی مذہب پر میں نے نفرت آمیز بات نہیں کی۔ کیونکہ میں خود بہت احترام کرتا ہوں۔ کسی مذہب کو لے کر میں نے کبھی کوئی نفرت انگیز بات نہیں کی۔ وہ صرف ایک واقعہ ہوا اس پر میں معافی چاہتا ہوں۔“
رپورٹر: آپ کی دوسری ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں آپ گالیاں دے رہے ہیں رام اور سیتا کو۔
عبدالسلام ابو داؤد: ”نہیں وہ میں نہیں ہوں“
رپورٹر: وہ ویڈیو پڑی ہے ہمارے پاس۔
عبدالسلام ابو داؤد: ”نہ میں نے پہلے کبھی مار پیٹ کی نہ کبھی کرتا۔ ایسا آج تک اللہ کا شکر ہے کبھی نہیں ہوا۔ میں نو مہینے سے تھر کول میں ڈرائیور کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ کمپنی کی گاڑی تھی۔“
عبدالسلام ابو داؤد: ”بس اس وقت وہ ایکسیڈنٹلی اس طرح ہو گیا تھا ورنہ میرا تو اس طرح کا ارادہ بھی نہیں تھا اور نہ میں نے پہلے کبھی اس طرح کیا ہے۔ بہرحال میں دوبارہ معافی چاہتا ہوں اس چیز کی۔ کیونکہ سب سے بڑی بات یہ کہ میرے دین میں اس چیز کی تعلیمات نہیں ہیں کہ میں کسی کو دکھ دوں تکلیف دوں۔ میں دوبارہ معافی مانگتا ہوں۔“
عبدالسلام ابو داؤد: ”مجھے اس چیز کا نہیں پتہ کہ یہ ویڈیو کس نے بنائی تھی اور پھر وائرل کس طرح ہوئی۔ یہ میں نے نہیں بنائی۔“
رپورٹر: آپ ہاتھ میں موبائل لے کر بلا رہے ہیں نا۔ اور کوئی تھا ہی نہیں وہاں۔
عبدالسلام ابو داؤد: ”میں کیوں بناؤں گا اس طرح۔ کیوں پاگل پن کروں گا؟ مجھے اس چیز کا علم نہیں کہ ویڈیو کہاں سے آئی۔“
رپورٹر: ویڈیو آپ کی ہے یا کوئی دوسرے بندے بھی پولیس پکڑ کر لائی ہے؟ وہ تو آپ ہی ہو نا؟
عبدالسلام ابو داؤد: ”ہاں وہ تو میں ہی ہوں۔ میرا کوئی ارادہ نہیں تھا اس چیز کا، ایہ ایکسیڈنٹلی ہوا۔ “
رپورٹر: آپ معافی ہندو بھائیوں سے مانگیں نا۔
عبدالسلام ابو داؤد: ”میں سپیشل انہی سے معافی مانگ رہا ہوں۔ اس سے پہلے بھی کبھی ایسے نہیں ہوا اور دوبارہ بھی نہیں ہو گا۔ وہ تو اتفاق سے ایسا ہوا۔ اصل میں اس لڑکے نے پہلے گالی دی تھی مجھے۔“
رپورٹر: بھگوان نے کیا قصور کیا تھا؟ تم نے تو بھگوان کو گالیاں دی ہیں۔ کیا اس (لڑکے ) کا نام تو بھگوان نہیں تھا؟
عبدالسلام ابو داؤد: ”بس اسی لیے تو میں معافی مانگ رہا ہوں۔ میں بتا رہا ہوں نا کہ بھگوان یا رام ہیں تو اللہ محمد کے ہی، یعنی وہ اللہ کو ہی بولتے ہیں وہ بھی۔ لیکن اس وقت وہ جذبات میں آ کے یہ ہو گیا تھا میں دوبارہ اس پہ معافی مانگتا ہوں۔“
عبدالسلام ابو داؤد: ”میں بتا رہا ہوں نا کہ بھگوان یا رام ہیں تو اللہ محمد کے ہی، یعنی وہ اللہ کو ہی بولتے ہیں وہ بھی۔ لیکن اس وقت وہ جذبات میں آ کے یہ ہو گیا تھا میں دوبارہ اس پہ معافی مانگتا ہوں“



Comments are closed.