کاکا سپاہی اور پونے دو سو کی نوکری
بی اے پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کا ارادہ ترک کرنا پڑا اور اب فیصل آباد ریل بازار پولیس چوکی کے سامنے کوئی پینتالیس مربع فٹ کی چھوٹی سی دکان میں ڈیرہ جمائے چند ماہ ہو چکے تھے۔ آٹو پارٹس کی اس بازار میں بائیس دکانوں میں ”رفیق اینڈ برادرز“ کا بورڈ لگائے یہ نو وارد لئیق احمد نہ صرف سرمایہ بلکہ عمر اور تجربہ میں بھی سب سے چھوٹا تھا۔ انیس سو اکسٹھ کی اس شام دور سے آتے پولیس کے ایک سپاہی پر نظر پڑی۔ بغیر ٹوپی، کاندھے پر پرنا ( چوڑا سا رومال نما کپڑا ) ہاتھ میں چھوٹی سی گٹھری لئے دائیں بائیں متلاشی نظروں سے کچھ ڈھونڈتا، وردی کے لحاظ سے بھی کچھ مختلف یہ بندہ چال کے لحاظ سے کچھ شناسا سا لگنے پر توجہ اس کی طرف ہو گئی۔
اچانک اس کی نظر مجھ پر پڑی، کچھ ٹھٹکا، غور سے دیکھا اور لپکتا ہوا میری طرف بڑھا۔ ”ارے صفدر جٹ، تم“ ۔ میرے منہ سے نکلا اور گورنمنٹ کالج کے یہ کلاس فیلو بغل گیر ہو رہے تھے۔ کالج کی باکسنگ ٹیم کا (شاید ) کپتان، مضبوط جسم اچھے قد رعب دار شخصیت کے ساتھ ایک انتہائی مخصوص اور بالکل مختلف پاٹ دار دیہاتی لہجہ میں بات کرتا یہ جوان خاصا شناسا تھا اور کبھی کبھار فارغ پیریڈ میں کالج لان میں دائرہ بنائے بیٹھے گپ شپ کرتی محفل کا حصہ بھی ہوتا۔
چائے بھی چل رہی تھی تھی اور میرا دماغ کچھ کریدتی نگاہوں کے ساتھ سوچ رہا تھا کہ یہ بی اے پاس اور باکسنگ کا کھلاڑی بظاہر پولیس کے عام سپاہی سے ملتی جلتی وردی میں؟ اس کا بھی ذہن کچھ الجھا لگا۔ وہ خود ہی بول اٹھا۔ یار حیران کیوں ہو۔ پتہ بھی ہوگا مجھے پولیس کی نوکری کا کتنا شوق تھا۔ پاگل پن کی حد تک۔ چھوٹے تھانیدار کی ڈائرکٹ بھرتی میں دو مرتبہ ناکام ہونے کے بعد اب سرکاری ملازمت والی عمر کی حد قریب آتے دیکھ سپاہی کی پوسٹ میں بھرتی ہو آج کل چوہڑ کانہ ٹریننگ سنٹر میں زیر تربیت ہوں۔
ارادہ یہ ہے کہ محکمانہ امتحانات سے گزرتے ایک دن اچھی افسری تک پہنچوں۔ پہنچوں گا ضرور۔ گاؤں میرا زرعی یونیورسٹی سے عقبی طرف کچھ فاصلہ پہ ہے۔ زمیندارہ چھوٹا سہی، بی اے پاس ہوتے سپاہی کی وردی میں گاؤں جاتے شرم آتی ہے۔ ادھر وردی میں ہوتے بس کا کرایہ دینا نہیں پڑتا۔ اب کوئی جگہ ڈھونڈ رہا تھا جہاں کپڑے تبدیل کر سکوں کہ تم نظر آ گئے۔ اور ہاں تم؟ اچھے بھلے لائق تھے آگے نہیں پڑھے؟ اپنی مجبوری عرض کی تو جواب تھا۔
تو یہ ہٹؔی پہ ہی بیٹھنا تھا کوئی نوکری کر لیتے۔ پونے دو سو کی نوکری تو مل ہی جاتی۔ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا۔ بھائی کاروبار ہی پیشۂ آباء ہے۔ والد صاحب کا کلکتہ سے لایا سرمایہ نقصان میں ختم ہوا تو اب پھر خدا تعالی پہ مکمل بھروسا کرتے اس کا فضل مانگتے محنت کا عزم کرتے آ بیٹھا ہوں اور خدا کرے گا وہ دن آئے گا کہ پونے دو سو ماہانہ والے ملازم رکھ سکوں۔ بس میرے لئے تم دعا کرو۔ خدا کرے تم بھی کسی دن کسی اونچے مرتبہ کی وردی پہنے آؤ اور چائے کی محفل چلے۔ دکان کا شٹر نیچے کیا اس نے لباس تبدیل کیا اور اب وہ ٹخنوں سے نیچے زمین تک پہنچتی لٹکتی ڈبوں والی چادر اور کرتا پہنے گاؤں کا کڑیل جوان زمیندار بنا میرے سامنے تھا، اور سپاہی کی وردی گٹھری میں مقید تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ اب وہ صفدر جٹ نہیں صفدر واہلہ تھا۔
جب تک ٹریننگ جاری رہی صفدر گاؤں سے جاتے یا چوہڑ کانہ سے واپس آتے میری دکان پر کپڑے بدلنے کے بہانے آ جاتا اور گپ شپ ہو جاتی۔ ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد ڈیوٹی دور لگی تو کبھی کبھار آتا۔ اس کے سینے پہ پٹیاں اور کندھے کے نشان بدلنے شروع ہو گئے۔ کئی سال گزر گئے۔ میری دکان پر محض تختوں کی الماریاں شیشے والی الماریوں میں بدلیں، بلب ٹیوب ہو گئے۔ فون لگ گیا۔ اور اس کے سینے کے بدلتے نشانوں کے ساتھ میری دکان کا رقبہ عقبی دکان شامل کرکے ایک سو پینتیس مربع فٹ کی ہو گئی اور ساٹھ ستر روپے ماہوار کا ملازم بھی رکھ لیا گیا۔ اور ستر کی دہائی شروع ہونے سے پہلے صفدر واہلہ اپنے اے ایس آئی ہو جانے کی خبر سناتے یہ بھی بتا رہا تھا کہ اب وردی میں ہی گاؤں چلا جانے میں زیادہ عزت ملتی اور رعب پڑتا ہے۔ دور دراز پوسٹنگ کی وجہ سے کبھی کبھار ہی آنا ہوتا ہے۔
سال گزرتے گئے۔ صفدر واہلہ سے ملاقات نہ ہوئی البتہ کبھی کبھی اخبار میں اس کے گجرات یا میانوالی کی اطراف کے نواحی اضلاع کے شہروں قصبوں میں کسی مجرم پکڑنے، کسی مقدمہ میں ملوث ہونے، نام کے ساتھ سب انسپکٹر لگے ہونے، جرات مندانہ پولیس مقابلے میں انعام کا حق دار قرار دیے جانے، جعلی پولیس مقابلہ کا مقدمہ قائم ہونے، کبھی تنزلی ہو جانے اور پھر بحال ہو جانے، انسپکٹر پولیس کی حیثیت سے جعلی مقابلہ کے الزام میں گرفتار تک ہو کر با عزت بری ہوتے کہیں اور تعیناتی کی خبریں پڑھنا اور اس کے ایک دبنگ پولیس افسر ہونے کی شہرت سننا ہی یادوں کو تازہ رکھنے کا سبب رہا
اب یہ انیس سو ستانوے کا اوائل تھا میں سرگودھا روڈ جنرل بس سٹینڈ کے بالکل سامنے شیشوں لگے چار دروازوں والی اپنی ملکیت، رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑی اور ریڈی ایٹر کے بزنس میں ملک گیر تعارف رکھنے والی دو منزلہ دکان کے کاؤنٹر کے پیچھے اپنی کرسی پہ بیٹھا مصروف تھا کہ سامنے ایک پولیس جیپ رکی اس کے ساتھ ہی پیچھے پولیس پک اپ آ ٹھیہری۔ جیپ سے اتر پولیس افسر نے اشارہ کیا اور میں افسر کے پیچھے تیزی سے آتے پولیس کے آٹھ دس جوانوں کو اسلحہ پکڑے اپنی دکان کی طرف بڑھتے دیکھ یا اللہ خیر کہتے حواس گم کرنے کو تھا کہ نزدیک آتے ڈی ایس پی کی وردی میں ملبوس صفدر واہلہ کو باہیں پھیلائے دیکھ خوف خوشی اور مسکراہٹ لئے گلے ملنے کے رنگ میں ڈھل گیا۔ بھیگی پلکوں کے ساتھ ابھی گرم جوش معانقہ جاری تھا کہ کہنے لگے میرے اور اپنے لئے چائے اور میرے جوانوں کے لئے ڈر نکس منگواؤ۔ ہاں چلو پہلے تمہاری پینتالیس مربع فٹ کی دکان کا معائنہ کر لوں۔ چکر لگا واپس آتے ایک سیلز مین سے کہا کہ جاؤ اب ان جوانوں کو دکھا آؤ۔
حال احوال کے بعد کہنے لگے تھوڑا عرصہ پہلے ہی جناح کالونی تھانہ سرکل میں تعیناتی ہوئی تو ایک روز تمہاری دکان کی طرف گیا مگر نہ ملی تو پوچھنے پہ پتہ ملا۔ پرسوں گزرتے دیکھا تو فیصلہ کیا کہ یوں نہیں۔ عملہ سمیت۔ تو اب خصوصی ان کو ساتھ لایا ہوں۔ ہاں اب ان کو وہ کہانی سناؤ جب ایک دن ایک کاکا سپاہی تمہاری دکان میں کپڑے بدلنے آیا تھا۔ اور تمہیں پونے دو سو کی نوکری کر لینے کا مشورہ دیا تھا۔ سارے جوان اور میرے چھ سات سیلز مین اور کارندے پاس کھڑے ان چند سالوں کی صفدر کی ثابت قدمی اور آگے بڑھنے کی لگن اور میری جدوجہد اور نا مساعد حالات اور کئی حادثات بھی ہمت نہ ہارنے کی کہانی سن رہے تھے۔
اور میں اتنی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس کی چال ڈھال اور ہونٹوں کی ایک مختلف سی حرکت کے ساتھ منہ سے نکلتے الفاظ، اسی پاٹ دار آواز، ایک بالکل وکھرے دیہاتی لہجہ میں ذرہ بھر تبدیلی نہ آنے کو ہی محسوس کر رہا تھا، جو صرف اسی کو ودیعت تھا۔ کوئی دو گھنٹے گپ شپ اور آخری ملاقات کے بعد کے برسوں کی کہانی بیان کرتے سنتے یہ محفل برخواست ہوئی اور اس کے بعد کئی گھنٹے نہیں کئی روز تک مجھے اپنی مارکیٹ کے دکانداروں اور دوستوں کو یہ یقین دلانے میں صرف ہوئے کہ یہ پولیس کا چھاپہ نہ تھا بلکہ عرصہ بعد دو دوستوں کی ملاقات تھی۔
اگلے ایک ڈیڑھ سال میں صفدر واہلہ گزرتے کئی بار میرے پاس رکا مگر وقت نہ ہونے باعث لمبی گپ شپ نہ ہوئی۔ تین چار بار اس کے دفتر جا ملاقات ہوئی اور ایک دن اچانک یہ سن دل دھک سے رہ گیا صفدر واہلہ چند روز قبل اچانک ہارٹ اٹیک سے خدا کے حضور حاضر ہو چکے۔ کبھی گھر گرہستی کی بات ہوئی ہی نہ تھی۔ کوشش کرتے ایک دکاندار لیاقت واہلہ نے پتہ کر کے بتایا کہ صرف ایک بیٹی ہی تھی جو ایم اے کر چکی تھی۔ باقی اعزاء تدفین و رسوم کے بعد جا چکے تھے۔ گھر کا ٹیلیفون نمبر مل گیا تو مرحوم کی بیٹی سے تعزیت کے بعد دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔
اس دوران بگڑتے امن وامان، بچوں کی جان تک کے خوف، فرقہ وارانہ عصبیت اور دیگر مسائل کی بنا معہ اہل و عیال سب کچھ بیچ بچا، چھوڑ چھاڑ ہم کینیڈا کا رخ کر چکے۔
دو دہائیاں اور گزر چکیں۔ کل بیٹے کے فون کی گھنٹی بجی اور ساتھ کال کرنے والے کا نام جوگندر سنگھ واہلہ لکھا نظر آیا تو مخصوص لہجے پاٹ دار آواز والے صفدر واہلہ کا ہیولا تصویر بن سامنے آ کھڑا ہوا اور چند لمحے کے لئے میں ساٹھ سال قبل والا پینتالیس مربع فٹ کی دکان پہ کھڑا منحنی جسم والا، مضبوط رعب دار شخصیت والے کاکا سپاہی سے گلے ملتا لئیق احمد بن چکا تھا۔ اور پھر ڈی ایس پی کی وردی میں ملبوس اسی کاکا سپاہی کی اپنے ساتھ بیٹھے چائے کی چسکیاں لینے کے تصور کے ساتھ اپنی دکان کے سائن بورڈ پر لکھے یہ الفاظ آواز بن میرے کانوں میں گونج اٹھے۔ اوپر درمیان میں ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ“ اور کونے میں ”ہمارا ماٹو۔ حمد اور عزم“ ۔ فالحمد للہ علی ’ذالک۔

