عطا اللہ تارڑ تم واقعی بہادر نکلے!

دیکھنے میں آیا ہے کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت دونوں ہی مسلم لیگ نون کے رہنماء عطا اللہ تارڑ سے تنگ ہوتی نظر آئی ہیں۔ موجودہ حکومت نے جہاں دوسرے لوگوں کو اپنی فسطائیت، ظلم و ستم اور جبر کا نشانہ بنایا ہے وہی پہ مسلم لیگ نون کی قیادت پر مقدمات قائم کر کے انہیں بھی مخالفانہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ پہلی حکومت دیکھنے میں آئی ہے کہ گرفتاری پہلے وجود میں لاتی ہے اور مقدمات کے انبار بعد لاتی ہے۔

نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز شریف کے کیسز کو مدنظر رکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کس طرح اس جعلی حکومت نے انہیں اپنی فسطائیت کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل پر ایل این جی کرپشن کیسز ڈالے گئے لیکن سپریم کورٹ نے ان کی ضمانتوں کے فیصلوں میں نیب کے مقدمات کو برباد کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد احسن اقبال کے نیب کیسز کو دیکھ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ نیب نارووال سپورٹس کمپلیکس میں کرپشن ثابت کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

اس کے بعد مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ پر ہیروئن کا کیس ڈالا گیا تو کوئی بھی شخص اس بات پر یقین رکھنے کو تیار نہیں تھا کہ رانا ثناء اللہ ایسا کام کر سکتا ہے مگر قوم نے دیکھا کہ ”اینٹی نارکوٹکس فورس اور جان اللہ کو دینی ہے والے وزیر“ سر بازار کس طرح ذلالت سمیٹتے ہوئے اس کیس سے راہ فرار اختیار کر گئے۔ اسی طرح خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق، خواجہ محمد آصف، کامران مائیکل، انجینئر قمر الاسلام، حنیف عباسی اور ملک عبد الغفار ڈوگر سمیت جتنے بھی مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کو نیب، پولیس اور اینٹی کرپشن نے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا تو عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں حکومتی اداروں پہ جھوٹا ہونے کی مہر لگا دی۔

اس حکومت نے پہلے دن سے ہی جھوٹ، الزامات کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ وزراء اور مشیران آئے روز میڈیا پر گندی زبان استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس حکومت نے پاکستانی سیاست کو اتنا گندا کر دیا ہے کہ کوئی بھی شخص ان کی گالیوں سے محفوظ نہیں ہے اور یہی سارا منصوبہ بیرونی ایجنٹوں اور پاکستانی اداروں کا ہے کہ پاکستان کی قومی سیاست کو گالی گلوچ سے پروان چڑھا کر اس کی فضاء کو آلودہ کیا جا سکے۔

حال ہی میں آزاد کشمیر الیکشن کے دوران مسلم لیگ نون کے رہنماء عطا اللہ تارڑ کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ عطا اللہ تارڑ اپنی ٹیم کے ہمراہ گجرانوالہ میں موجود تھے تو ان تک یہ خبر پہنچی کہ ڈپٹی کمشنر گجرانوالہ پولنگ عملے پر دباؤ ڈال کر پی ٹی آئی کے ووٹ ڈلوا رہا ہے اور مسلم لیگ نون کے پولنگ ایجنٹ کو دھکے دے کر باہر نکال دیا ہے۔ جب ان تمام چیزوں کا علم مسلم لیگ نون کی قیادت کو ہوا تو انہوں نے آر او کے آفس میں درخواست دی کہ ڈپٹی کمشنر الیکشن پر اپنا ناجائز اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے، آر او نے مسلم لیگ نون کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر پر پابندی عائد کر دی۔

اب جب ڈپٹی کمشنر کو اس فیصلے کا پتہ چلا تو اس نے نون لیگ کے کارکنان کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں اور متعدد کارکنان کو علی پور چٹھہ تھانے میں بند کر دیا۔ مسلم لیگ نون کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے تھانے کے اندر دھرنا دے دیا اور کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا، بات ہاتھا پائی سے ہوتی ہوئی آگے جا نکلی۔ عطا اللہ تارڑ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری نے مقامی پولیس کو دباؤ میں لاکر میرے سمیت دیگر لیگی قیادت پر ایف آئی آر درج کروائی اور حوالات میں بند کر دیا، ان کے بیانات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری کا داماد سیالکوٹ میں ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہا ہے تو وہ مجھے اٹھائیس جولائی تک جیل میں بند رکھنا چاہتے تھے لیکن اگلے روز جب ان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے تمام لیگی رہنماؤں کی ضمانتوں کو منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا۔

اس سے پہلے بھی یہ حکومت عطا اللہ تارڑ کو وزیر آباد اور ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کے دوران گرفتار کر چکی ہے اور مختلف مقدمات میں ملوث بھی کر چکی ہے لیکن عدالت نے ان ظالمانہ سلوک کو مسترد کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ کی رہائی کو یقینی بناتی رہی ہے۔ یہ حکومت عطا اللہ تارڑ کو اپنے خلاف ایک ڈراؤنا خواب سمجھتی ہے کیونکہ پنجاب میں جتنے بھی ضمنی انتخابات منعقد ہوئے ہیں تو ان انتخابات میں کامیابی مسلم لیگ نون عطا اللہ تارڑ کی کامیاب الیکشن کمپین کی صورت میں سمیٹتی رہی ہے۔ عطا اللہ تارڑ کو اللہ تعالٰی نے ہر خوبی سے نوازا ہے، اگر آپ ٹی وی ٹاک شوز میں دیکھیں تو وہاں پر بھی یہ حکومت کے پرخچے اڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عطا اللہ تارڑ واقع ہی بہت بہادر نکلے ہیں کہ جس طرح حکومت ان سے خفا ہوتی نظر آتی ہے اور ان کو سیاسی ظلم و ستم کا نشانہ بناتی نظر آتی ہے۔

اس حکومت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنی پڑے گی کیونکہ جھوٹے کیسز، جیل، ہتھکڑی سیاستدان کے بیانیے کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرنے آتی ہیں اور اس حکومت کا پاکستان کی اندرونی و بیرونی سطح پر امیج اتنا خراب ہو گیا ہے کہ اگلے الیکشن میں کوئی کمزور امیدوار بھی تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی ہمت نہیں کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words