ملک میں بڑھتے تشدد کی نفسیات: چند وجوہات

کچھ عرصہ سے شدید ترین تشدد کے واقعات نے ملک میں تشدد کی بڑھتی نفسیات کی انتہائی تصویر دکھائی ہے۔

یہ اکثریت وہ متشدد افراد ہیں جو مارشل لاء کے دور میں پروان چڑھے یا پیدا ہوئے۔ مارشل لا کا دور سرعام تشدد کی صحافت بھی تھا اور ثقافت بھی۔ بچہ جو دیکھتا ہے سیکھتا ہے پھر اس پہ کبھی نہ کبھی عمل کرتا ہی ہے۔

یہ وہ نسل ہے جن کے والدین براہ راست آرٹ کلچر کے دور سے نکلنے اور پابندیوں کا دور دیکھا۔ تو سمجھ بھی نہیں پائے کہ تربیت کے کون سے امور مسترد ہو رہے ہیں۔ اور کون سے ضروری ہو گئے ہیں۔ کیونکہ جمہوریت کی نفسیات بہرحال حساس ہوتی ہے۔ یہ فطری بات ہے۔ یہ وہ نسل ہے جب متشدد اور خوف ذدہ ادب تخلیق ہوا اور پروان بھی چڑھا۔

یہ وہ نسل ہے۔ جن کے ملی ترانوں میں متشدد کردار ہیرو تھے۔ جن کی کہانیوں میں خون خوف کی نہیں، دکھ کی نہیں، فخر کی نشانی تھا۔ اور اس کا اتنا پرچار ہوا کہ ہر پیدا ہونے والا لڑکا ایسی ہیرو نما لوریاں سن کر پلا۔

والدین نے خود اس کو بچپن سے باور کروایا۔ تم نایاب شے ہو۔ سو نایاب، سرخاب کے چکر میں یوں پڑا کہ پورا سماجی سسٹم اس کا ساتھ دے رہا تھا

یہ وہ نسل ہے جس نے سر عام انسان کو تختہ دار پہ لٹکے بھی دیکھا۔ انسان کو انسان سے پٹتے بھی دیکھا۔ یہ وہ نسل ہے جس کو کھلونوں میں اسلحہ اور اسلحہ نما اوزار ملے پلاسٹ میں بنے ملے۔ جن کو کھیلوں میں ایک دوسرے کو بندوق سے مار کر جیت جانا ملا۔ چوری اور سپاہی ملا۔

ڈرامہ بنا تو ایک مردانہ رعب دار جابر مرد کا کردار ضرور اس میں موجود ہوتا۔ ایک ہی ٹیلی ویژن تھا۔ کوئی مد مقابل سوچ نہیں تھی جو اس اکلوتی جابر سوچ کو چیلنج کرتی۔

فلم عروج پہ تھی تو فلم میں بھی متشدد کردار ہوتا۔ بلکہ ہیرو ہی گنڈاسا، کلاشنکوف، بندوقوں اور اسلحہ سے لیس ایک اینگری ینگ مین ہوتا۔ اور ہیروئن گا گا کر، رقص کر کے بھی اس کا دل جیتنے میں آسانی سے کامیاب نہ ہوتی تھی۔ یہیں سے ہم نے عورت مخالف ثقافت کو جنم دیا۔ عورت کے وقار کو ختم کیا کہ جیسے اس کے کردار کی اہمیت ہیرو صاحب کو کسی بھی صورت قائل و مائل کر لینے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

اور ہیرو کو ہر وقت غصہ کی حالت یا طاقت کے دکھاوے کا بت بنے رہنا ہے۔ ہر وقت لڑنا ہے۔ کبھی ولن سے تو کبھی اس کے ساتھیوں سے۔ تو کبھی پولیس والے سے بھی۔ اینگری ینگ مین ہونا مردانہ فیشن اور فخر ہوا۔

یوں مل ملا کر ہم نے جو پودے برسوں پہلے لگائے چند سال کی جدید ٹیکنالوجی اور معاشی عدم استحکام نے سہارا دے کر آج خونچکاں شہ سرخیوں کی قطار لگا دی ہے۔ اب اس کو روکنا قانون سازی کا تقاضا کر رہا ہے۔ مگر ہم اس حوالے سے قانون سازی نہیں چاہتے۔

انسان کے اندر طاقت کی عمر تک ایک جانور زندہ ہوتا ہے۔ اس کو مارنا صرف فنون لطیفہ اور تربیت کی نرمی میں پوشیدہ ہے۔ کھیلوں کے میدان اس جانور کی جارحیت کو ختم کرتے ہیں۔ سینما ہاؤس اس کا کتھارسس کرتے ہیں۔ ایک بار ہم نے ایوب خاور صاحب سے پوچھا سر فلم کیا ہے؟ تو انہوں نے اس کی تعریف کچھ یوں کی ”جو کام ہم زندگی میں نہیں کر سکتے۔ سنیما کی سکرین پہ وہ ہوتے دیکھنا فلم ہے۔ زندگی کا ناممکن سنیما سکرین کا ممکن ہے۔ جب آپ پیسے دے کر فلم دیکھنے جاتے ہیں، آپ جب باہر نکلیں تو وہ آپ کا ناممکن ممکن کر چکی ہو۔ فلم یہ ہے۔ فلم یہ ہے کہ سلطان راہی کو گولی لگ جائے اور وہ اسی حال میں سب دشمنوں کو مار دے ”
گویا آپ سنیما سے نکلیں تو آپ کی جارحیت کرداروں کی گولی سے مر چکی ہو۔

ایکشن مووی کا دور آیا۔ تاحال پسند کی جاتی ہیں۔ اب تو ایکشن کارٹون کا دور بھی آ چکا ہے۔ اب جس طاقت کو ہم تخیل سے متحرک کر چکے ہیں۔ اس کے اخراج کے در بند کر دینے سے تشدد جنم لینا فطری امر ہے۔ اور تشدد عموماً پانی کی طرح سفر کرتا کمزور کو نشانہ بناتا ہے۔ نشیب کو سفر کرتا برابری پہ آتا ہے۔ اور اب کافی حد تک آ گیا ہے۔ اب ہاتھوں کی جنگ ہے یا صحرا کے اونٹ متحرک ہو گئے ہیں۔

رقص کو ہم معیوب سمجھتے ہیں۔ یہ رقص متشدد رویوں کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔

حالات اتنے متشدد ہو چکے ہیں کہ اس نے موسیقی کو بھی متشدد رنگ دے دیا ہے شاعری شور میں دم توڑ چکی ہے۔ جبکہ شاعری اور موسیقی مل کر انسان کے اس متشدد جانور کو باہر نکالنے میں جادو کا سا کام کرتے ہیں۔

آرٹ گیلری عجائب خانہ کے مترادف ہو گئی ہے۔ ڈرامہ کاروبار بن گیا ہے۔ اشتہار بنیادی طور پہ کاروبار ہے۔ اس سب میں ہم حساسیت کی پنیری کیسے لگائیں؟

یہ سب آمرانہ نفسیات کے کرشمے ہیں کہ انہوں نے برسوں ایک طاقت کو جبر سے روکا ہے۔ اب جب وہ نکلے گی تو جبر جتنی طاقت سے نکلے گی۔ سو نکل رہی ہے۔

یہ وہ ایڈونچرز ہیں۔ جن کو کسی میدان، سنیما ہاؤس، آرٹ گیلری، ناول، ڈرامے میں ہی نکل جانا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ سب پہ پابندی نے اس جبر کے پتھر کو نسل در نسل منتقل کیا۔ تو اس نسل نے اس کا سفاک رستہ یہ نکالا جس کا چرچا ہے۔ اور لگام نہیں ہے۔

یہ طاقت بیج کی طرح ہوتی ہے۔ جسے ذرا سی نمی درکار ہوتی ہے۔ یہ پودے سے درخت اور پھر پیڑ میں بدل سکتی ہے۔ ایٹم کو دفن کر دینا فنون لطیفہ ہے۔ اسے اسلحہ بنا لینا طاقت کا دکھاوا تھا۔ کاروبار تھا۔ ہم نے پہلی راہ کا حسن نسلوں سے کئی دہائیاں لگا کر چھین لیا۔ جبکہ دوسری طاقت کی بد صورتی کو حسن کے مقابل لا کھڑا کیا۔

لہذا یہ اینگری ینگ مین آج اتنا بڑا ہیرو ہے کہ یہ آپ کو سچ بھی نہیں بولنے دے رہا۔ اس نے پورا نظام اپنے اختیار میں کر لیا ہے۔ اور ہم پاور کنٹرول کی ناقابل برداشت فلم دیکھنے پہ مجبور کر دیے گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words