صحافت اور گارت

قبائلی اضلاع، پشاور اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگ تو صحافت اور گارت کے رشتے سے واقف ہوں گے لیکن پنجاب، سندھ، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے صحافی اور قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ یہ گارت کس بلا کا نام ہے؟

جب یونیورسٹی میں ہم صحافت پڑھ رہے تھے تو ہمیں اساتذہ بتا رہے تھے کہ سنسنی پھیلانا ییلو جرنلزم یعنی زرد صحافت ہوتی ہے اس لئے اس سے گریز کیا کریں، پبلسٹی اور صحافت میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ جب آپ کچھ خاص لوگوں کا آلہ کار بنو گے تو آپ صحافی نہیں بلکہ ان کے ترجمان کہلاؤ گے۔ اس لئے آپ نے صحافت ہی کرنی ہے نہ کہ ترجمانی اور پبلسٹی،

جب ہم عملی صحافت میں آ گئے تو ہمیں کسی بھی جگہ پر کتابوں والی باتیں نظر نہیں آئی، اکثر صحافی کسی خاص طبقے کے ترجمان نظر آئے، کچھ سنسنی پھیلانے والے تھے، کچھ پبلسٹی کرنے والے اور اکثریت ہر جمعہ کے دن گارت لینے والے صحافیوں کی تھی۔

جی ہاں ضلع خیبر میں طورخم سرحد میں مختلف چیک پوسٹوں پر پولیس اہلکار افغان ٹرک ڈرائیورز سے غیر قانونی بھتہ لیتے ہیں اور پھر یہ پیسے ہر جمعہ کے دن مختلف لوگوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں جس کو گارت کہتے ہیں،

ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت قبائلی اضلاع میں 400 سے زائد صحافی کام کر رہے ہیں اور صحافیوں کی اس تعداد میں اضافے کی واحد وجہ بھی یہی ہفتہ وار گارت ہے جس کی وجہ سے آئے روز مختلف لوگ اس شعبے میں آ رہے ہیں جو صحافت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں،

فاٹا کا خیبر پختون خوا کے ساتھ انضمام سے پہلے گارت کا پورا اختیار ہر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے پاس تھا اور جو صحافی پولیٹیکل ایجنٹ کی گڈ بکس میں ہوا کرتا تھا انہوں نے اس گارت سے لاکھوں اور کروڑوں کمائے ہیں،

جب 3 سال پہلے قبائلی اضلاع کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام ہوا تو وزیر اعظم عمران خان نے اس گارت کا سختی سے نوٹس لیا اور حکم جاری کیا کہ طورخم سرحد سمیت تمام چیک پوسٹوں پر گارت لینا بند کیا جائے کیونکہ اس سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے اور بد عنوانی میں اضافہ ہو رہا ہے،

وزیر اعظم کے حکم کے بعد کچھ عرصہ کے لئے گارت اور بھتہ خوری بند ہوئی جس کی وجہ سے موسمی اور گارت خور صحافی بھی زیر زمین چلے گئے لیکن چند مہینوں بعد انہوں نے نئے طریقوں کے ساتھ پولیس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لی اور آج کل گارت اور صحافت میں ایک مرتبہ پھر مضبوط رشتہ قائم ہو گیا ہے،

اسی گارت نے اگر ایک طرف صحافت کو داغدار کیا ہے تو دوسری طرف پولیس کے جوانوں کو بھی کرپشن کی طرف راغب کر دیا ہے اور ہر اہلکار مختلف طریقوں اور لین دین سے کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنی پوسٹنگ منافع بخش چیک پوسٹ پر کروا لے جس سے نہ صرف ملک کی بدنامی ہو رہی ہے بلکہ کرپشن اور بد عنوانی بھی بڑھ رہی ہے،

کسی صحافی کو گارت لینے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ پولیس کی ہفتہ واری لسٹ میں اپنا نام درج کرے جس کے لئے صحافی سرتوڑ کوشش کرتا ہے کیونکہ جب کسی صحافی کا نام گارت لسٹ میں شامل ہو جائے تو پھر مزے ہی مزے ہوتے ہیں، بس آرام سے گھر بیٹھو اور ہر جمعہ کے دن ہزاروں روپے وصول کرو،

طورخم پولیس کے مطابق پاک افغان سرحد میں اس وقت 7 مختلف ایسے مقامات ہیں جہاں سے صحافیوں کو ہفتہ وار گارت ملتا ہے جو 7 ہزار سے 3 یا 2 ہزار فی چیک پوسٹ ہوتا ہے، اطلاعات کے مطابق کچھ صحافیوں کو 30 ہزار ہفتہ وار گارت ملتا ہے جبکہ کچھ صحافیوں کو 15 سے 20 ہزار گارت ملتا ہے جو ماہانہ 18 اور 19 گریڈ افسر کی تنخواہ کے برابر ہوتا ہے،

پاکستان میں جہاں صحافت کے زوال کی دیگر بہت سی وجوہات ہیں وہاں گارت بھی ایک اہم سبب ہے، اسی گارت نے صحافت کو پبلسٹی اور ترجمانی میں تبدیل کر دیا ہے جس کی وجہ سے غریب قبائلی عوام کی آواز گم ہو گئی ہے اور پاک افغان تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کو ایک مرتبہ پھر اس گارت کا نوٹس لینا چاہیے اور اس بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے تاکہ لفظ گارت کا خاتمہ ہو سکے اور صحافت سے بھی لفظ گارت کی غارت گری ختم ہو سکے ورنہ مستقبل میں گارت کی اتنی پیداوار نمودار ہو گی جسے روایتی میڈیا سمیت سوشل میڈیا کو بھی سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words