گلوبل وارمنگ اور پاکستان

گلوبل وارمنگ کا مسئلہ آہستہ آہستہ گلوبل بوائلنگ بنتا جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ملک کو 200 ملین امریکی ڈالرز کی ضرورت ہے۔ امریکی مشن ان پاکستان اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ یعنی ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے اسلام آباد میں ہونے والے دو روزہ کانفرنس میں ماہرین نے اس خطرناک صورتحال سے آگاہی دی جس میں میڈیا سمیت مختلف

Read more

ہم سب کا پاکستان

قبائلی اضلاع کے لوگ کمال لوگ ہیں، گھر میں بجلی نہیں لیکن گھر کے چھت پر پاکستان کا جھنڈا لہرایا ہے، اسپتال میں جان بچانے والی ادویات اور سہولیات میسر نہیں لیکن سینے پر قومی جھنڈا پیوستہ کیا ہے، سڑک کھنڈرات ہیں لیکن موٹرسائیکل اور گاڑیوں پر جھنڈا مارچ کرتے ہیں، انڈسٹری اور ترقی کا نام و نشان نہیں لیکن ملک کے لئے جان ہتھیلی پر رکھتے ہیں، نوکری اور روزگار میسر نہیں لیکن آزادی کا جشن عروج پر ہے، اسکول خراب، پانی نہیں، فنڈز نہیں، دفاتر میں ذلیل، احتجاجی مظاہروں پر خوار، انسانی حقوق کی پامالی اور کوئی ریلیف اور سہولت مہیا نہیں لیکن ہر دکان، ہر بازار، ہر چوک، ہر گاڑی، ہر حجرے اور ہر سینے پر قومی جھنڈا نظر آتا ہے اور آزادی کا جشن جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے،

Read more

صحافت اور گارت

قبائلی اضلاع، پشاور اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگ تو صحافت اور گارت کے رشتے سے واقف ہوں گے لیکن پنجاب، سندھ، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے صحافی اور قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ یہ گارت کس بلا کا نام ہے؟ جب یونیورسٹی میں ہم صحافت پڑھ رہے تھے تو ہمیں اساتذہ بتا رہے تھے کہ سنسنی پھیلانا ییلو جرنلزم یعنی زرد صحافت ہوتی ہے اس لئے اس سے گریز کیا کریں، پبلسٹی اور

Read more

کورونا، لاک ڈاؤن اور حق حقدار تک

پوری دنیا سمیت پاکستان بھی آج کل کورونا وائرس کے لپیٹ میں ہے اور اس وبا نے اگر ایک طرف بہت انسانوں کی زندگیاں چھین لی ہے تو دوسری طرف کورونا وائرس نے پوری دنیا کو بند کر دیا ہے۔ معیشت رک گئی۔ کارخانے بند ہوئے، پہیہ رک گیا۔ مارکیٹیں اور دکانیں بھی بند اور حتی کے بین الصوبائی اور بین الاقوامی تجارت بھی رک گئی ہے۔ ہر ملک، ہر صوبے اور ہر شہر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ گھروں تک محدود ہوگئے ہیں۔ اس ساری صورتحال نے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا ہے لیکن کورونا وائرس نے سب سے زیادہ غریبوں کو خراب کیا ہے کہ ان کے پاس پیسے اور اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

Read more

قبائلی صحافی اور سرکاری افسر کا مکالمہ

قبائلی صحافی: سر اتنی کم تنخواہ میں سرکاری افسران امیر کیسے بن جاتے ہیں؟ سرکاری افسر: آپ کے قبیلے کے جائیداد تنازعہ کا کیس ہماری عدالت میں ہیں اور سماعت جاری ہے۔ قبائلی صحافی: قبائلی علاقہ جات میں جونیئر سرکاری اہلکار سینئراہلکاروں سے زیادہ طاقت ور کیوں ہیں؟ سرکاری افسر: کار سرکار میں مداخلت کرنا جرم ہے جس کی سزا جیل بھی ہو سکتی ہے۔ قبائلی صحافی: سرکاری دفاتر اور کینٹ میں بجلی ہوتی ہے جبکہ باقی علاقوں میں تاریکی

Read more