کارل پوپر کی سالگرہ: سائنس اور غیر سائنس میں امتیاز کا مسئلہ


Prof. Sajid Ali

(آج کارل پوپر کی ایک سو انیسویں سالگرہ ہے۔ اس موقع پر اس کے فلسفہ سائنس کا مختصر سا تعارف پیش کر رہا ہوں۔)

بیسویں صدی کے فلسفہ سائنس میں یہ مسئلہ بہت نزاع کا باعث رہا ہے کہ سائنس اور دیگر علوم بالخصوص ما بعد الطبیعیات میں کیا فرق و امتیاز ہے۔ منطقی اثباتیت کے فلسفیانہ دبستان نے ما بعد الطبیعیات کو رد کرنے کی خاطر ایک ایسی زبان کی تشکیل کا بیڑہ اٹھایا جس کی مدد سے سائنس کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ ان کے نزدیک ما بعد الطبیعیات لغو اور بے معنی گفتگو کے سوا اور کچھ نہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ سائنس اور غیر سائنس میں امتیاز کے سوال کی کیا اہمیت ہے۔ صورت واقعہ یہ ہے کہ طبیعی علوم کی حیرت انگیز ترقی اور کامیابی سے متاثر ہو کر دیگر علوم کے ماہرین نے بھی اپنے اپنے شعبۂ علم کو سائنس کہنا شروع کر دیا تھا۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ جس علم کے ساتھ سائنس یا سائنسی کا سابقہ یا لاحقہ لگا ہو گا اس کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو جائے گا۔ نتیجتاً سماجی علوم کے ماہرین ہی نہیں بلکہ نجومیوں اور دست شناسوں نے بھی اپنے مضامین کو سائنس کا نام دینا شروع کر دیا۔

طبیعی علوم کی ترقی کا سبب ان کے مخصوص منہاج کو قرار دیا گیا۔ یعنی طبیعی علوم کے پاس کوئی ایسا منہاج ہے کہ اگر اسے دیانتداری سے استعمال کیا جائے تو ہمیں لازماً حتمی اور یقینی نتائج حاصل ہوں گے۔ چنانچہ سماجی علوم کے ماہرین نے بھی اسی مزعومہ سائنسی منہاج کا استعمال شروع کر دیا۔ ان کے خیال میں جس علم میں ریاضی کا جتنا زیادہ استعمال ہو گا وہ اتنا ہی سائنسی ہو گا۔

پوپر نے سائنس کے متعلق تمام مقبول عام تصورات کو رد کر دیا۔ اس کے نزدیک سائنس کا آغاز نہ تو مشاہدے سے ہوتا ہے اور نہ سائنس کا منہاج استقرائی ہے۔ سائنس اور شاعری کا ماخذ ایک ہی جذبہ ہے : اس کائنات کو اور اس میں انسان کے مقام کو سمجھنے کی خواہش۔ اس اعتبار سے سائنس اور شاعری دونوں کی جڑیں اساطیر میں پیوست ہیں۔ شاعری کی مانند سائنس بھی انسان کے تخیل اور وجدان کی پیداوار ہے۔ لیکن سائنس کو شاعری اور اساطیر سے ممیز کرنے والا وصف عقلی تنقید ہے۔ سائنسی نظریات ( theories) قابل تنقید اور تنقید کی روشنی میں لائق ترمیم و اصلاح ہوتے ہیں۔ البتہ ان کی کامل تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔ اگرچہ شاعری پر بھی تنقیدی بحث ہو سکتی ہے لیکن شاعری اور سائنس میں تنقید کا وظیفہ مختلف ہوتا ہے۔ شعری تنقید میں بنیادی قدر جمالیاتی ہے جبکہ سائنسی تنقید کی بنیادی قدر صداقت کی تلاش ہے۔

منطقی اثباتیوں نے سائنس کو ما بعد الطبیعیات سے ممیز کرنے کے لئے زبان کا سہارا لیا اور ما بعد الطبیعیات کو منطقی بنیادوں پر رد کر دیا۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر انھوں نے ایک مخصوص نظریہ معنی وضع کیا۔ ان کا نظریہ تھا کہ صرف دو قسم کے جملے بامعنی ہوتے ہیں جنھیں وہ تحلیلی اور ترکیبی قضایا کا نام دیتے ہیں۔ تحلیلی قضایا منطق اور ریاضی میں استعمال ہوتے ہیں اور وہ اپنی ساخت کے اعتبار سے صدق و کذب کے حامل ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ قضیہ کہ ”کل بارش ہو گی یا کل بارش نہیں ہو گی“ اپنی نحوی ساخت کی بنا پر صادق ہے۔ کوئی ایسی ممکنہ صورت حال نہیں ہو سکتی جس میں یہ جملہ کاذب ہو۔ جملے میں بیان کیے گئے دونوں متبادلات میں سے کوئی ایک بھی واقع ہو جائے تو جملہ سچ ثابت ہو جائے گا۔ اس کی صداقت جاننے کے لئے ہمیں کسی تجربے اور مشاہدے کی ضرورت نہیں۔ اس کے برعکس یہ جملہ کہ ”یہ میز سیاہ ہے اور یہ میز سیاہ نہیں ہے“ ہر حال میں کاذب ہو گا کیونکہ یہ متناقض ہے۔ ان دونوں اقسام کے جملے چونکہ اپنی نحوی ساخت کی بنا پر صادق یا کاذب ہوتے ہیں اس لیے وہ ہمیں کائنات کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے نہ ہمارے علم میں کسی قسم کا اضافہ کرتے ہیں۔

دوسری قسم ترکیبی جملوں کی ہے جو ہمیں کائنات کے بارے میں کوئی خبر دیتے ہیں۔ مثلاً ”زمین گول ہے“ ؛ ”سیارہ زحل کے نو چاند ہیں“ وغیرہ وغیرہ۔ منطقی اثباتیوں کا کہنا ہے کہ ان جملوں کے صدق و کذب کو جاننے کا معیار حسی تجربہ ہے۔ اگر کوئی حسی تجربہ ان کی تائید کرے گا تو وہ صادق ہوں گے بصورت دیگر کاذب۔ اسے انھوں نے ”اصول تصدیق پذیری“ (verifiability principle) کا نام دیا تھا۔ ان کے خیال میں وہی جملہ با معنی ہو گا جس کی تصدیق کرنے والا کوئی تجربہ موجود ہو۔ مابعدالطبیعیاتی جملے اس بنا پر بے معنی ہوتے ہیں کہ ان کی تصدیق کسی حسی تجربے سے نہیں کی جا سکتی۔

پوپر کا اصول تصدیق پذیری پر اعتراض یہ تھا کہ یہ نہ تو جامع ہے اور نہ مانع۔ یعنی یہ اصول نہ صرف مابعد الطبیعیات کو رد کرنے میں ناکام ہے بلکہ اس کے نتیجے میں سائنس رد ہو جاتی ہے۔ مابعد الطبیعیاتی جملے لازم نہیں کہ بے معنی ہی ہوں۔ یہ درست ہے کہ بہت سے فلسفیوں، بالخصوص ہیگل اور اس کے متبعین کی گفتگو زیادہ تر بے معنی ہے لیکن بے معنی گفتگو کرنا فلسفیوں کا ہی خاصہ نہیں۔ کسی نظریے کے حق میں تصدیقی شواہد تلاش کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ ہر نجومی اور دست شناس اپنے نظریات کے حق میں بہت سے تصدیقی شواہد پیش کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ اسی طرح خالص مابعدالطبیعیاتی جملوں کو منطقی اثباتیوں کی طبیعی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس وہ جملے جو قوانین فطرت کو بیان کرتے ہیں ان کی نہ تو مکمل تصدیق ممکن ہوتی ہے اور نہ انھیں حسی مدرکات کی صورت بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس مشکل سے بچنے کے لئے منطقی اثباتیوں نے قوانین فطرت کو بیان کرنے والے قضایا کو بے معنی قرار دے کر سائنس کے دائرے سے خارج کر دیا تھا۔ اب اگر قوانین فطرت کو بیان کرنے والے قضایا بے معنی قرار پائیں گے تو پوری کی پوری سائنس ہی بے معنی ہو جائے گی۔

چنانچہ پوپر نے اصول تصدیق پذیری کے مقابلے پر تغلیط پذیری ( falsifiability) کا اصول پیش کیا۔ اس کے نزدیک معنی کو بنیاد بنا کر سائنس اور غیر سائنس میں فرق کرنا غلط ہے کیونکہ غیر سائنسی جملے بھی بامعنی ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ سائنس اور غیر سائنس میں اصل امتیاز یہ ہے کہ سائنسی بیانات کی تغلیط ممکن ہوتی ہے جب کہ مابعدالطبیعیاتی بیانات کی تغلیط ممکن نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ”گلی نمبر 42 کا مکان نمبر 10 آسیب زدہ ہے، تو وہ اس بات کے حق میں متعدد تصدیقی شواہد پیش کر سکتا ہے لیکن یہ بیان ایسا ہے کہ کوئی ممکنہ تجربہ اس کو غلط ثابت نہیں کر سکتا۔ اب اگر کوئی جملہ کسی بھی حال میں غلط ثابت نہ ہو سکتا ہو تو وہ جملہ غیر سائنسی ہو گا۔ گویا وہی قضایا سائنس کے دائرے میں ہوں گے جو قابل آزمائش ہوں، جنہیں تجربے کی کسوٹی پر جانچا جا سکتا ہو۔ تجربے کا مقصد کسی قضیے کی تردید کرنا، اسے غلط ثابت کرنا ہوتا ہے۔ سائنسدان جب کوئی نظریہ پیش کرتا ہے تو اسے یہ بتانا پڑے گا کہ وہ کسی قسم کے نتائج کو تردیدی قرار دے گا۔ اگر کوئی ممکنہ تجربہ ایسا نہ ہو جو نظریہ کو غلط ثابت کر سکتا ہو تو وہ نظریہ سائنس کے دائرے سے خارج ہو گا۔ پوپر کے نزدیک وہ تمام نظریات جو اپنے حق میں تصدیقی شواہد تو پیش کرتے ہیں لیکن تردیدی شواہد کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں یا ان کی ایسی توجیہ کرتے ہیں جو ان کی تائید میں ہو وہ جعلی سائنسی نظریات ہوتے ہیں۔ مارکس کا نظریہ تاریخ، فرائیڈ کا نظریہ تحلیل نفسی اور ایڈلر کا نظریہ احساس کمتری اس نوع کی جعلی سائنس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ سائنس کو غیر سائنس سے ممیز کرنے والا کوئی خاص منہاج نہیں بلکہ ان نظریات کا قابل آزمائش اور قابل تغلیط ہونا ہے۔

اس مقام پر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ سائنسی منہاج کیا ہے؟ اگر کوئی ایسا منہاج موجود ہے تو کیا فی الواقع اس سے حاصل کردہ نتائج حتمی اور یقینی ہوں گے؟

بیکن کے زمانے سے بیسویں صدی تک تمام فلسفیوں کا اس بات پر تقریباً اجماع ہے کہ سائنس کا منہاج استقرائی ہے۔ بیکن نے استخراجی منطق کو اس بنا پر رد کر دیا تھا کہ وہ نئے حقائق کے انکشاف اور اکتشاف میں ممد و معاون نہیں ہوتی۔ فطرت کا علم حاصل کرنے کی خاطر ہمیں خود فطرت سے رجوع کرنا پڑے گا اور وہ ہمیں کبھی فریب نہیں دی گی۔ فطرت ایک کھلی کتاب کی مانند ہے اور جو کوئی کھلی آنکھوں اور بے تعصب ذہن سے اس کا مطالعہ کرے گا وہ لازماً درست نتائج اخذ کرے گا۔ استقرا کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ ہم مشاہدے سے آغاز کریں، جب کافی تعداد میں مشاہدات جمع ہو جائیں، تو ان کی بنیاد پر ایک مفروضہ وضع کریں، پھر مفروضہ کی آزمائش کریں، اگر تجربے کے نتائج مفروضہ کی تائید اور تصدیق کریں تو اس کو ہم قانون کا درجہ دے سکتے ہیں۔

ڈیوڈ ہیوم نے استقرا پر اعتراض اٹھایا کہ یہ منطقی اعتبار سے نادرست ہے۔ منطقی استدلال کے درست ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ اس میں نتیجہ مقدمات سے کمزور ہوتا ہے۔ درست منطقی استدلال کا نتیجہ کسی ایسی بات پر مشتمل نہیں ہو سکتا جو قبل ازیں مقدمات میں مذکور نہ ہو۔ اگر نتیجہ مقدمات سے زیادہ کسی بات کا دعوی کرتا ہے تو وہ استدلال منطقی صحت سے عاری ہو گا۔

استقرائی نتیجہ کے متعلق یہ واضح ہے کہ وہ مقدمات میں پیش کیے گئے شواہد سے زیادہ جامع ہوتا ہے۔ مثلاً
الف ایک کوا ہے اور سیاہ ہے
ب ایک کوا ہے اور سیاہ ہے
ج ایک کوا ہے اور سیاہ ہے
د ایک کوا ہے اور سیاہ ہے۔ وعلی ہذا القیاس
اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ تمام کوے سیاہ ہیں

یہ استدلال اس بنا پر نادرست ہے کہ اس کے نتیجے میں کیا جانے والا دعوی مقدمات سے قوی تر اور زیادہ جامع ہے کیونکہ مقدمات کی صداقت نتیجے کے صادق ہونے کی ضمانت نہیں دیتی۔

استقرائی استدلال سے مراد ہے، ان وقوعات سے، جو بتکرار ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں، ان وقوعات کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا جو ابھی ہمارے مشاہدے میں نہیں آئے۔ ہم بہت سے ایسے واقعات کا مشاہدہ کرتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہوتے ہیں اور ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سورج ہمیشہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے، آگ ہمیشہ جلاتی ہے۔ ہیوم کا کہنا تھا کہ ہمارے تجربے کی یکسانی اس امر کی ضمانت فراہم نہیں کرتی کہ مستقبل میں بھی لازماً ایسا ہی ہوتا رہے گا۔

ہیوم نے استقرا کو منطقی طور پر غلط ثابت کرنے کے باوجود اسے ایک امر واقعہ قرار دیا۔ اس کے خیال میں انسان ہی نہیں بلکہ حیوان بھی استقرا سے کام لیتے ہیں۔ استقرا ہماری نفسیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ حیاتیاتی اعتبار سے بھی ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر ہمارا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ ہر معقول شخص کو یہ توقع ہی نہیں بلکہ یقین ہوتا ہے کہ جن وقوعات کا ابھی اس نے مشاہدہ نہیں کیا وہ ان وقوعات کے مطابق ہوں گے جن کا وہ مشاہدہ کر چکا ہے۔ ہیوم اس کا سبب عادت اور رواج کو قرار دیتا ہے۔ وقوعات کا تسلسل ہمارے اندر اس امید کو جنم دیتا ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا۔

ہیوم ایک آزاد خیال فلسفی تھا۔ وہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ خدا، روح، فرشتوں اور حیات بعد الموت کے بارے میں مذاہب کے دعاوی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس نے اپنے نظریہ علم کی بنا پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ دعاوی دائرہ علم سے خارج ہیں۔ اس کے نظریہ علم کی رو سے علم صرف حسی مدرکات اور ان کی یادداشت تک محدود ہے۔ جب ہم کسی بات کے علم کا دعوی کرتے ہیں تو ہمیں ثابت کرنا ہو گا کہ یہ دعوی کسی حسی ادراک یا اس کی یادداشت پر مبنی ہے۔ مذہبی معاملات اس بنا پر دائرہ علم سے خارج ہیں کہ ہمیں ان کا کوئی براہ راست حسی تجربہ نہیں ہوتا۔ لیکن ہیوم کو اس حیرت انگیز صورت حال کا سامنا کرنا پڑا کہ قوانین فطرت کو بھی حسی مدرکات کی صورت میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ حسی مدرکات کا تعلق انفرادی واقعات سے ہوتا ہے اور انفرادی واقعات سے عالمگیر قانون اخذ کرنے کا کوئی منطقی طریقہ موجود نہیں۔ ہیوم چونکہ ایک جرات مند مفکر تھا اس لیے اس نے اپنے نظریہ علم کے مضمرات کو تسلیم کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ استقرا منطقی اعتبار سے غلط لیکن نفسیاتی اعتبار سے ناگزیر ہے۔ گویا استقرا کا عمل غیر عقلی ہے۔ اب سائنس چونکہ استقرا پر مبنی ہے اس لیے سائنس بھی غیر عقلی ہے۔

ہیوم کے اس نتیجہ فکر نے فلسفے میں ایک زلزلہ برپا کر دیا کیونکہ سائنس کو عقلی علم کی معراج سمجھا جاتا تھا۔ اگر سائنس ہی غیر عقلی ہے تو کسی دوسرے علم کے عقلی ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ کانٹ سے لے کر منطقی اثباتیوں تک سبھی فلسفی اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مصروف رہے ہیں کہ آیا تجربی فلسفے کی حدود میں رہتے ہوئے اس ناگوار صورتحال سے عہدہ برا ہونے کی کوئی صورت ہو سکتی ہے۔

پوپر نے اس مسئلہ کا حل بیان کرتے ہوئے سائنس کے متعلق مقبول عام دونوں تصورات کو رد کر دیا کہ سائنس کا منہاج استقرائی ہے اور یہ کہ سائنس یقینی اور حتمی علم کا نام ہے۔

پوپر نے بتکرار اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ سائنس کا آغاز مشاہدے سے نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر مشاہدہ کسی نظریے کی روشنی میں ہی ممکن ہوتا ہے۔ ہر انفرادی واقعہ کسی کائناتی قانون کے تحت رونما ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہم انفرادی واقعات سے کسی قانون کی صداقت کا استنباط نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر کوئی انفرادی واقعہ کسی مزعومہ قانون کے خلاف نظر آئے تو وہ اس قانون کو غلط ثابت کرنے کے لئے کافی ہو گا۔ مثلاً ہم ہزاروں یا لاکھوں سفید راج ہنسوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی یہ دعوی نہیں کر سکتے کہ تمام راج ہنس سفید ہیں۔ لیکن ایک غیر سفید راج ہنس اس کلیہ کو غلط ثابت کر دے گا کہ تمام راج ہنس سفید ہیں۔ پس انفرادی واقعات سے ہم کسی آفاقی قانون کو سچ ثابت نہیں کر سکتے لیکن ایک مخالف وقوعہ اس کلیہ، قانون کی تغلیط کے لئے کافی ہو گا۔

یہاں اصل مسئلہ علم اور یقین کے ما بین خلط مبحث سے پیدا ہوتا ہے۔ سائنس کو چونکہ یقینی، حتمی اور صادق علم قرار دیا جاتا ہے اس لیے فلاسفہ سائنس کسی ایسے منہاج کی تلاش میں سرگرداں رہے ہیں جو یقینی نتائج کی ضمانت دیتا ہو۔ پوپر کہتا ہے کہ نہ تو کسی سائنسی نظریے کے انکشاف کا اور نہ کسی سائنسی مفروضے کی تصدیق کا کوئی منہاج ہے۔ سائنس میں نظریات مختلف مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے پیش کیے جاتے ہیں۔ ہم انھیں تجربہ و آزمائش کی کسوٹی پر پرکھیں گے، اگر تجربے کے نتائج اس نظریے کے خلاف ہوں گے تو اسے رد کر دیں گے اور اگر وہ خلاف نہ ہوں تو وقتی طور پر اسے قبول کر لیں اور اس کو رد کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

ہمارا علم کائنات تمام کا تمام ظن اور قیاس کی سطح سے کبھی اوپر نہیں ہوتا۔ ہم اپنے تخیل کی مدد سے اس کائنات کے بارے میں مفروضے وضع کرتے ہیں اور پھر ان مفروضوں کو ٹیسٹ کرتے ہیں۔ اگر کسی ٹیسٹ کے نتائج مفروضے کے خلاف ہوں تو اس مفروضے کو رد کر دیا جائے گا۔ بیکن اور دوسرے تجربیت پسند فلسفیوں کا یہ خیال غلط ہے کہ سائنسی علم کے حصول کے لئے ہم مشاہدے سے آغاز کرتے ہیں۔ جب تک ہمارے سامنے کوئی مسئلہ نہ ہو اور ہمیں یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ہمیں کس چیز کا مشاہدہ کرنا ہے، ہمیں کس چیز کی تلاش ہے، ہم مشاہدے کا آغاز نہیں کر سکتے۔

مشاہدہ لازماً کسی نہ کسی نظریے کی روشنی میں ہوتا ہے۔ پوپر کے الفاظ میں ہر مشاہدہ نظریے سے مملو ہوتا ہے۔ ہم موجود علمی نظریات کے تنقیدی جائزے سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ جب کسی رائج علمی نظریے اور بعض مشاہدات میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے یا ایسے واقعات ہمارے سامنے آتے ہیں جن کی توجیہہ موجود نظریے کی مدد سے کرنا ممکن نہ ہو اس وقت ہمیں نیا نظریہ وضع کرنا پڑتا ہے۔ اس نظریے کی حقیقت بھی مفروضے کی ہوتی ہے۔ اس طرح ہم غلط نظریات اور مفروضات کو رد کرتے جاتے ہیں۔ ہمارا تجربہ آج تک جس قانون کی صداقت کو ثابت کرتا چلا آیا ہے، اس قانون کے خلاف رونما ہونے والا ایک وقوعہ بھی جب ہمارے علم میں آئے گا تو منطق ہمیں اس قانون کو رد کرنے پر مجبور کر دے گی۔ ہم صرف ان نظریات پر انحصار کریں گے جو اب تک ہر آزمائش پر پورے اترے ہوں، اس لیے نہیں کہ وہ سچ ہیں بلکہ اس لیے کہ ہم ابھی تک ان کو غلط ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

بہترین سائنسی نظریات کا درجہ ظن اور قیاس کا ہی ہوتا ہے۔ نیوٹن کی تھیوری سے زیادہ کسی کے حق میں شواہد موجود نہیں تھے لیکن بالآخر وہ بھی غلط ثابت ہو گئی۔ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے افلاک کی سطح پر اور کوانٹم فزکس نے تحت الذراتی سطح پر نیوٹن کے نظریہ پر سبقت حاصل کر لی۔ پوپر اس طریق فکر کو سعی و خطا کا نام دیتا ہے۔ سائنس کا منہاج ہرگز استقرائی نہیں بلکہ یہ سعی و خطا کے طریقہ ہی کی توسیع ہے۔ سائنس کی ترقی اسی طریق کار کی مرہون منت ہے۔ اگرچہ سائنس انسانی علم کا بہترین اظہار ہے لیکن ہم کسی سائنسی نظریے کی صداقت کو منطقی طور پر ثابت کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ صداقت تک رسائی کی خواہش ہماری تحقیق میں رہنما اصول کا کام دیتی ہے۔ صداقت کا حصول ہماری منزل ہے اور ہم قدم بہ قدم اس کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں لیکن یہ منزل ہماری پہنچ سے بہت دور ہے۔

Facebook Comments HS