کیریئر کونسلنگ اور اس کی اہمیت

کہتے ہیں کہ ناپسندیدہ انتخاب کا بوجھ انسان کی روح کو تب تک چھلنی کیے رکھتا ہے جب تک وہ زندہ رہتا ہے اور واقعی ایسا ہی ہے، خاص کر آج کل تو یہی دیکھنے کو ملتا ہے، بہت سے لوگوں سے جب بات کریں یا ملیں تو وہ یہی رونا روتے ہیں ہیں کہ جو کرنا چاہتے تھے یا کرنا چاہتے ہیں، اس کی اجازت نہیں ملی یا ملتی اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کیونکہ ہمارے

Read more

عورت پر تشدد: آخر کب تک؟

کہتے ہیں کہ جب ایک بیٹی پیدا ہوتی ہے تو ماں باپ سب سے پہلی دعا یہی مانگتے ہیں کہ اللہ ہماری بیٹی کے نصیب اچھے کرے کیونکہ ان کو بیٹی کی پیدائش سے نہیں اس کے نصیب سے ڈر لگتا ہے لیکن شاید اسی ڈر نے بیٹیوں کے والدین کو بہت بار کمزور بنایا ہے، جس کی قیمت ہماری بیٹیاں ادا کرتی آئی ہیں اور آج تک کر رہی ہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب ہمارے گھر چوتھی

Read more

ہر لڑکی کا خواب دلہن بننا نہیں ہوتا

آج سے ٹھیک کچھ دن بعد میں پچیس سال کی ہو جاؤں گی، جی ہاں پچیس سال کی لڑکی وہ بھی کنواری، جو ابھی تک شادی شدہ نہیں ہے اور بقول معاشرے کہ شادی میں دیر یا تو مجھ میں کسی نقص کے سبب ہے یا قسمت سوئی ہے۔ میرے اردگرد موجود بہت سی میری ہم عمر لڑکیاں بچوں کی مائیں بن چکی ہیں ایسا باقی سب کا کہنا ہے اور میں ابھی تک اس عہدے پہ فائز نہیں ہوئی،

Read more

خواجہ سراؤں سے معاشرے میں کیا جانے والا سلوک

آج بہت وقت کے بعد کچھ لکھنے کی ہمت کر رہی ہوں، معلوم نہیں کہ اپنی بات آپ تک ٹھیک سے پہنچا پاؤں گی کہ نہیں۔ ایک ماہ پہلے ایک دوست کی شادی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ رخصتی کا دن تھا، سب ہلہ گلہ کرنے میں مصروف تھے کہ اتنے میں یال کے دروازے سے کچھ ”خواجہ سرا“ یا عام زبان میں جن کو ہم ”کھسرا“ یا ”مورت“ کہتے ہیں وہ داخل ہوئے اور اپنے روایتی انداز سے ناچتے

Read more

لوگوں کو بھی مذہب کے نام پہ استعمال کیا جاتا ہے

آج سے کچھ عرصہ پہلے ہمارے گھر کچھ مہمان آئے تھے اور باتوں باتوں میں انہوں نے کچھ ایسی بات کردی جس پہ مجھے شدید اختلاف تھا۔ میں نے باقاعدہ بحث شروع کردی کہ یہ بات ایسے نہیں ویسے ہے اور وہ آنٹی بھی کچھ کم نہ تھیں ایسے لگتا تھا وہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھیں۔ میری امی نے مجھے کمرے میں جانے کا کہا۔ میرا موڈ بہت خراب تھا کہ وہ کیسے اپنی غلط بات پہ

Read more

ہم کس گلی جا رہے ہیں

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں غلط جگہ پہ آ گئی ہوں، ایسی جگہ جہاں ہر طرف ایک دوڑ لگی ہے، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ، بہتر سے بہتر تر کی تلاش کی دوڑ، ایک ایسی دوڑ جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے، انسان ختم ہو رہا ہے مگر یہ دوڑ ختم نہیں ہو رہی ہے۔ لیکن پھر میں نے دیکھا کہ اس دوڑ میں انسان اپنی

Read more

سیکس ایجوکیشن

مجھے نہیں معلوم کتنے لوگوں کو یہ آرٹیکل پسند آئے گا اور کتنے لوگ میرے الفاظ کی بنیاد پہ مجھے جج کریں گہ مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت سے ایسے مسائل اور باتیں ہیں جن پہ بات کرنا ہمیں معیوب لگتا ہے، جن پر بات کرنے سے ہم کتراتے ہیں مگر آخر کب تک ہم حقیقت سے نظریں چرائیں گے؟ چند روز قبل میرے انسٹا گرام اکاؤنٹ پہ کچھ اخلاقی طور پر گرے ہوئے لوگوں کے پیغامات موصول ہوئے

Read more

ذہنی صحت اور موت کا جشن منانے والے

گزشتہ روز میرے پڑوس میں ایک نوجوان نے زندگی سے تنگ آ کر موت کو گلے لگا لیا۔ یہ خبر میرے لئے کافی صدمے کا باعث تھی اور رہے گی مگر سب سے زیادہ تکلیف دہ میرے لیے اردگرد موجود لوگوں کا رویہ تھا۔ ہر آنے جانے والا موت پہ افسوس کم، اس نوجوان کے خودکشی کرنے کی وجہ کو لے کر زیادہ متجسس تھا۔ مجھے نہیں معلوم وہ کون سی محرکات تھیں جس نے اس باہمت شخص کو توڑ

Read more

فیمینیزم اور ہم

”فیمینیزم“ وہ لفظ جس کو سنتے ہی آدھے سے زائد پاکستانیوں کا خون کھول اٹھتا ہے، یہ وہ لفظ ہے جس کو ادا کرنے پر بھی لوگ سیخ پا ہو جاتے ہیں اور میرا ایسا ماننا ہے کہ لوگوں کا یہ رویہ بالکل جائز بھی ہے کیونکہ جس انداز میں ”فیمینیزم کا نظریہ“ پاکستان پیش کیا گیا اس سے ہماری جذباتی قوم کے ”حسب ضرورت“ جاگنے والے جذبات بھڑک اٹھے۔ بد قسمتی سے کچھ افراد نے مغرب کی اندھا دھند

Read more

بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار

دو روز پہلے ایک قریبی عزیز کے گھر جانے کا اتفاق ہوا تو دوپہر کے کھانے پہ ان کی بہو کو بچے کو کھانا کھلانے کا انوکھا انداز دیکھا، ایک ہاتھ میں موبائل بچے کے سامنے تھا اور دوسرے ہاتھ سے اماں کھانا کھلا رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر مجھے ایک عجیب سی بے چینی ہوئی کیونکہ ہماری اماں نے ہمیشہ کھانے کے وقت ہمیں چپ چاپ کھانا کھلایا ہے، موبائل تو دور کی بات ہے اگر ٹی وی بھی

Read more

پاکستانی عورت تحفظ کا مطالبہ کر رہی ہے

گزشتہ چند ہفتوں سے ہونے والے پہ در پہ ظلم و جبر اور درندگی کے اندوہناک واقعات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ”آخر کب تک حوا کی بیٹیاں یونہی روندی جائیں گی؟“ چاہے وہ اسلام آباد میں رہنے والی نور ہو یا پھر موہڑہ میں کچرے کے ڈھیر پہ اپنے چودہ ماہ کے مردہ بیٹے کے ساتھ پڑی نسیم بی بی یا پھر گھریلو تشدد کا شکار قرۃالعین جس کے شوہر عمر خالد نے اس

Read more