کمشنر گوجرانوالا کا کتا

اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ کتا ایک وفادار جانور ہے، غریب آدمی اسے اپنے حفاظت کے لئے پالتا ہے اور امیر آدمی دل بہلانے کے لئے، جن کی نسل کا کچھ پتہ نہ ہو وہ سڑکوں پر آوارہ پھرتے ہیں اور لوگوں پر بھونکتے اور کاٹتے ہیں، ہر انسان کے مختلف شوق ہوتے ہیں، زمانہ طالب علمی میں میں نے بھی ایک الشیشن کتا پالا تھا، اس کا نام ٹائیگر رکھا تھا، اس ٹائیگر نے ہمارے گھر کو تین بار ڈاکوؤں سے بچایا جس کے بعد ٹائیگر کی قدر اور بڑھ گئی

قیمتی نسل کا کتا رکھنے کے لئے دل بھی بہت بڑا ہونا چاہیے، ان کی خوراک کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے، ایک کتے پر خرچہ ماہانہ ہزاروں روپے ہوتا ہے، پھر ان کی میڈیکیشن پر بھی اچھا خاصا خرچہ ہوتا ہے، بچپن میں رشیئن نسل کا ایک کتا پالا تھا مگر اس کا اتنا نخرہ نہیں تھا جتنا السیشن نسل کا کتا پالا تھا اور اس کا نام ٹائیگر رکھا تھا، پالتو جانور کوئی بھی ہو اس سے پیار ہوجاتا ہے اور ایک فیملی ممبر جاتا ہے، آج کل میرے بچوں نے سیامی بلی رکھی ہوئی ہے، اے سی کے کمرے میں بیڈ پر ساتھ سوتی ہے اگر اسے اٹھا کر اس کے بستر پر لٹا دیں تو رات کو اٹھ کر ساتھ آ کر سو جاتی ہے

یہ شوق بڑے لوگوں کے ہیں، میں تو عام سا آدمی ہوں جتنے بھی جانور ملے مفت ملے تو رکھ لئے، بلی البتہ چند دنوں کی تھی تو ایک ہزار روپے میں خرید لی کیونکہ چھوٹی بیٹی مشام زہرا کی ضد تھی جسے ہر حال میں پورا کرنا تھا، قیمتی نسل کے کتے رکھنا آسان کام نہیں اور اگر وہ گم ہو جائے تو بہت دکھ ہوتا ہے، ایسی ہی صورتحال گزشتہ روز ٹی وی چینلز پر دیکھنے کو ملی

کمشنر گوجرانوالا کا پالتو کتا جرمن شیفرڈ گم ہو گیا، بس پھر کیا تھا، وڈے صاحب آپے سے باہر ہو گئے، ٹی وی رپورٹس کے مطابق کمشنر آفس کے ملازمین، کارپوریشن کے عملے، پولیس کی شامت آ گئی، ایک کتے کی تلاش کے لئے پولیس کی ٹائیگر فورس کی ڈیوٹی لگا دی، وہ پولیس جس کا نام جرائم پیشہ افراد کو ڈرانے کے لئے ٹائیگر فورس رکھا گیا ہے وہ کمشنر کا کتا تلاش کرنے کے لئے گوجرانوالہ کی سڑکوں کی دھول چاٹتی رہی، گوجرانوالہ کے تین محکموں کے اہلکار شہر میں کتا تلاش کرتے ہیں، سرکاری امور جائیں بھاڑ میں، وڈے صاحب کا کتا ہے، کوئی غریب انسان تو نہیں جس کی قدر ہی نہیں

وڈے صاحب، شوقین مزاج لگتے ہیں اسی لئے کتے سے والہانہ محبت تھی، اس کی تلاش کے لئے فوری طور پر رکشے کرائے پر لئے گئے ان پر لاؤڈ سپیکر لگا کر گلی گلی، قریہ قریہ اعلانات کرائے گئے کہ وڈے صاحب کا موڈ خراب ہے، غم سے نڈھال ہیں، ان کا پالتو کتا گم ہو گیا ہے، جس کو بھی ملے وہ فوری طور پر وڈے صاحب کو واپس کر کے انعامات پائے، ظل الہی اپنے کتے کی محبت میں منہ مانگا انعام دیں گے اور اگر سرکاری اہلکاروں نے کسی سے برآمد کر لیا تو پھر اس کی خیر نہیں

سوشل میڈیا پر رکشوں پر ہونے والے اعلانات سن کر حیرت زدہ ہو گیا کہ اب بھی مغلیہ سلطنت کی باقیات ہیں جو ایک کتے کے لئے تمام اہم امور چھوڑ کر کمشنر صاحب کتے کے غم میں نڈھال ہو رہے ہیں، موصوف پہلے بھی گوجرانوالہ کے کمشنر رہ چکے ہیں اور چند ماہ بعد ہی ان کو وہاں سے ہٹا دیا گیا، ان کے پاس نہ جانے کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ دوبارہ من مانی سیٹ بآسانی لے لیتے ہیں

خیر بات کتے کی ہو رہی تھی، اوہ۔ معذرت کتا کہنا تو کتے کی توہین ہے، مجھے وڈے صاحب کے کتے کا احترام کرنا چاہیے اور اسے جرمن شیفرڈ صاحب لکھنا چاہیے تاکہ قارئین کتے کے حسب نصب سے آگاہ رہیں، چند ماہ قبل ایک عزیز کی شادی میں شرکت کے لئے گوجرانوالہ جانا پڑا، شہر کی جو حالت دیکھی انتہائی دکھ ہوا، اب علم ہوا وڈے صاحب کو کتے کی محبت سے وقت ملے تو شہر کے مسائل دیکھیں

یہ شیر نہیں جانتا کس کا ہے، معذرت چاہتا ہوں لیکن اس نے جو بات کہی وہ آج کی صورتحال پر پوری اترتی ہے
٭ماڑے دی مر گئی ماں تے کوئی نئی لیندا ناں
تگڑے دا مر گیا کتا تے سارا پنڈ نئی ستا

افسوس کی بات یہ ہے کہ کمشنر گوجرانوالہ کے پالتو جانور جو کہ نجس جانور ہے اس کی گمشدگی کے اعلانات مساجد سے بھی کرائے گئے، ایک نجس جانور کے اعلانات مساجد سے کرانا کہاں کی عقل مندی ہے، اس کتے میں ایسا کیا تھا کہ پاک مساجد میں نجس جانور کے اعلانات کرائے گئے، افسر شاہی میں کوئی شرم نام کی چیز باقی نہیں رہی جس کا صد افسوس ہے

ہماری افسر شاہی کی یہی حرکتیں اور خباثتیں ہیں جن کی وجہ سے ملک 70 سالوں سے تباہی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے، عوام کے مسائل حل کرنے پر کوئی توجہ نہیں، تین محکمے وڈے صاحب کے کتے کی تلاش میں لگا دیے، ایسا کام کبھی بارشوں میں بھی کرنے کی زحمت کی کہ سرکاری ملازمین کو بارشی پانی نکالنے اور صفائی کے لئے لگادیا ہو، کمشنر کو کتے کو تو بہت فکر ہے مگر عوام کی بھی فکر کریں

میرے سمیت پنجاب کے عوام کمشنر صاحب کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، اتنا بڑا صدمہ برداشت کرنے کی ہمت کی بہت ضرورت ہے اس لئے وزیراعلی اپنا ہیلی کاپٹر لیں اور فوری کمشنر صاحب سے کتے کی گمشدگی پر اظہار افسوس کریں، آئی جی پنجاب کو گوجرانوالہ طلب کر لیں اور چیف سیکرٹری کو بھی ہدایت کریں کہ کمشنر صاحب کے کتے کی تلاش کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں

کمشنر صاحب کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کہیں کتا یعنی جرمن شیفرڈ صاحب، کمشنر صاحب کے رویے سے تنگ آ کر گھر ہی نہ چھوڑ گیا ہو، گوجرانوالہ کے عوام سے اپیل ہے کہ اپنے وڈے صاحب کے دکھ کا احساس کریں اور کتا یعنی جرمن شیفرڈ صاحب کو ڈھونڈنے میں دن رات ایک کردیں مجھے امید ہے جیسے کتے کو کمشنر کا پروٹوکول دیا گیا ہے وہ اپنی ناراضی ختم کر کے کمشنر صاحب کے ساتھ گھر آ جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words